• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا ایران کے تئیں سخت موقف کا اشارہ؛ نیتن یاہو ایران مذاکرات پر گفتگو کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے

Updated: February 11, 2026, 8:04 PM IST | Washington

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اس بار مختلف انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکی فوجی طاقت میں اضافے کی وجہ سے زیادہ سنجیدگی سے گفتگو کر رہا ہے۔

Netanyahu, Trump and Khamenei. Photo: X
نیتنی یاہو، ٹرمپ اور خامنہ ای۔ صویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری مذاکرات اس دفعہ ناکام ہوئے تو ایران کے لیے ”کچھ بہت سخت“ منتظر ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری بیڑا تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اسی درمیان اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے جو بدھ کو مقامی وقت کے مطابق صبح ۱۱ بجے ٹرمپ کے ساتھ وہائٹ ہاؤس میں ہنگامی ملاقات کریں گے۔

ٹرمپ نے ’ایکزیوس‘ کو بتایا کہ وہ تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خطے میں مزید اور امریکی ”بحری بیڑا“ (ارماڈا) بھیجنے کے بارے میں ”سوچ“ رہے ہیں۔ یہ اضافی بحری بیڑا ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ اور اس کے اسٹرائیک گروپ میں شامل ہو جائے گا، جو پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور لڑاکا طیاروں، ٹوم ہاک میزائلوں اور متعدد جنگی جہازوں سے لیس ہے۔ تناؤ میں اضافے کے ساتھ ہی، امریکی انتظامیہ نے امریکی تجارتی جہازوں کے لیے ایرانی پانیوں سے دور رہنے کی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ 

ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر فوجی دباؤ اور اس کے ساتھ سفارت کاری دونوں متوازی چل رہے ہیں۔ امریکی اور ایرانی حکام نے گزشتہ جمعہ کو عمان میں ملاقات کی۔ گزشتہ سال جون میں تہران پر امریکی حملے کے بعد دونوں ممالک کے نمائندوں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ گفتگو کا دوسرا دور اگلے ہفتے متوقع ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اس بار مختلف انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکی فوجی طاقت میں اضافے کی وجہ سے زیادہ سنجیدگی سے گفتگو کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ پابندیاں ختم کردے توافزودہ یورینیم کو کمزور کرسکتے ہیں: ایران

ٹرمپ نے گزشتہ سال جون میں ایرانی اہداف پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”(اس دفعہ) یا تو ہم کوئی معاہدہ کریں گے یا پھر ہمیں پچھلی بار کی طرح کچھ بہت سخت کرنا پڑے گا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”کسی بھی معاہدے میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام بلکہ اس کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کا حل بھی ہونا چاہیے۔“ ٹرمپ کی محتاط امید پرستی کے باوجود، تہران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ صرف اپنی جوہری سرگرمیوں پر بات کرے گا اور یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

نیتن یاہو کا ٹرمپ سے ایران کے ساتھ سختی کا مطالبہ

امریکی صدر کے ساتھ ہنگامی ملاقات کے لیے اسرائیلی وزیراعظم عجلت میں واشنگٹن پہنچے ہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ٹرمپ پر ایران کے معاملے میں مزید سخت موقف اختیار کرنے کے لیے زور دیں گے۔ اسرائیل سے روانگی سے قبل انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کے ایسے ”ضروری اصول“ بیان کریں گے جو ان کے نزدیک علاقائی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’نتین یاہو، بیوی سارہ کے غصے سے بچنے کے لیے خود کو کمرے میں بند کر لیتے ہیں‘‘

ٹرمپ نے اس سے پہلے بیان دیا تھا کہ ان کے خیال میں نیتن یاہو ”بھی معاہدہ پر پہنچا چاہتے ہیں۔“ لیکن نیتن یاہو کسی بھی ایسے سمجھوتے کے بارے میں شدید شکوک و شبہات کا شکار ہیں جو ایران کے فوجی انفراسٹرکچر کو ختم نہ کرے۔

ایران کی وارننگ

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینیئر مشیر علی لاریجانی نے منگل کو عمان کے سلطان اور وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔ رپورٹس کے مطابق، وہ بدھ کو دوحہ پہنچیں گے تاکہ امریکہ-ایران کے درمیان اگلے مذاکرات سے قبل قطری حکام کو بریفنگ دے سکیں۔ لاریجانی نے ’ایکس‘ پر ایک واضح وارننگ جاری کرتے ہوئے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ نیتن یاہو کو مذاکرات پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم پر ”تباہ کن کردار“ ادا کرنے اور مذاکراتی فریم ورک کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK