بھیک مانگ کر جمع کی گئی رقم حکومت کو دی گئی، کسانوں کو ۵؍ہزار کی دی جانے والی مدد کے خلاف این سی پی کا انوکھا احتجاج۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 2:03 PM IST | Ali Imran | Buldhana
بھیک مانگ کر جمع کی گئی رقم حکومت کو دی گئی، کسانوں کو ۵؍ہزار کی دی جانے والی مدد کے خلاف این سی پی کا انوکھا احتجاج۔
خریف سیزن کے دوران کم بارش کے باعث فصلوں کو ہونے والے بھاری نقصان کے باوجود کسانوں کو محض ۵؍ہزار روپے کی امداد دینے کے حکومتی فیصلے کے خلاف نیشنلسٹ کانگریس نے شدید احتجاج کیا۔ اس سلسلے میں ریاستی نائب صدر ایڈوکیٹ یوگیش نائیک کی قیادت میں سندھ کھیڑ راجا تحصیل دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور کسانوں کو مناسب مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاج کے دوران معمولی امدادی رقم کی علامتی مخالفت کرتے ہوئے بھیک مانگ کر جمع کی گئی رقم نائب تحصیلدار ڈاکٹر پروین کمار وراڈے کے حوالے کی گئی۔ اس موقع پر انتظامیہ کو مطالبات پر مشتمل ایک مطالباتی مکتوب بھی پیش کیا گیا۔ مظاہرین نے کہا کہ سیزن میں معمول سے کم بارش کے باعث علاقے کے کئی حصوں میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے کسانوں کی پیداوار اور آمدنی متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنجیرہ قلعہ کھلنے سے راجپوری گاؤں کے سینکڑوں خاندانوں کے چہروں پر خوشی لوٹ آئی
دوسری جانب بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب زرعی اخراجات میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کو بیج، کھاد، کیڑے مار ادویات، جڑی بوٹیوں کو ختم کرنے والی ادویات، فصلوں پر اسپرے، مزدوری اور گہائی جیسے کاموں پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ اس کے باوجود فصلوں سے متوقع پیداوار حاصل ہونے کی کوئی ضمانت نہیں، جس کے باعث کسانوں کی معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی کسان پہلے ہی قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ایسے میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ۵؍ہزار روپے کی امداد ان کے نقصانات کی تلافی کے لیے ناکافی ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ حکومت کو کسانوں کی حقیقی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے امدادی رقم میں خاطر خواہ اضافہ کرنا چاہیے اور متاثرہ کسانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کرنا چاہیے۔