• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مذہبی مقامات پر بلڈوزر کارروائی قانون کی حکمرانی پر حملہ: تیجسوی

Updated: September 29, 2026, 12:30 PM IST | Inquilab News Network | Patna

آرجے ڈی لیڈر کا مساجد، مدارس اور مزارات کے انہدام پر سخت اعتراض، کہا: تجاوزات کا فیصلہ عدالت کرے۔

Tejashwi Yadav. Photo: INN
تیجسوی یادو۔ تصویر: آئی این این

راشٹریہ جنتا دل کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے مذہبی مقامات کو مبینہ تجاوزات یا غیر مجاز تعمیرات قرار دے کر کی جانے والی انہدامی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی تعمیر کی قانونی حیثیت کا فیصلہ انتظامی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے۔ انہوں نے خاص طور پر بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں مساجد، مدارس اور مزارات کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمین یا تجاوزات سے متعلق تنازع میں قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ طاقت کاغلط استعمال کرتے ہوئے عبادت گاہوں کو منہدم کرنا جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین سوال ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مالیگاؤں کی معمر ترین خاتون تسلیمہ حجن انتقال کرگئیں

تیجسوی یادو نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی مقامات کو مبینہ تجاوزات یا غیر مجاز تعمیرات کا حوالہ دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اترپردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں مسجد کے انہدام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے اسے سرکاری زمین پر غیر مجاز تعمیر قرار دیا ہے، تاہم کارروائی کے قانونی طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی تعمیر کے بارے میں قانونی تنازع ہے تو اس کا فیصلہ مقررہ قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔تیجسوی یادو نے کہا کہ سنبھل اور غازی آباد میں مساجد و مدارس، مظفرنگر میں مدرسے، مدھیہ پردیش کے اجین میں شاہی مسجد کے ایک حصے، اتراکھنڈ اور گجرات میں مزارات، آسام میں مسجد، دہلی میں مسجد و مدرسہ اور مہاراشٹر، راجستھان و تلنگانہ میں مذہبی مقامات سے متعلق انہدامی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایسے معاملات میں کارروائی کی بنیاد مذہبی شناخت نہیں بلکہ یکساں قانونی معیار ہونا چاہیے۔ مسجد ہو، مندر ہو، چرچ ہو، گرجا گھر ہو، مزار ہو یا مدرسہ، قانون سب کے لیے برابر ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:شرجیل امام کی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کیلئے تحقیقی مواد تک رسائی کی درخواست، تہاڑ جیل سے جواب طلب

یہ نفرت کی انتہا ہے: عمران پرتاپ گڑھی

کانگریس اقلیتی شعبہ کے قومی سربراہ عمران پرتاپ گڑھی نے اجین کی شاہی مسجد کے انہدام کے فیصلہ کی سخت تنقید کی اوراسے نفرت کی انتہا قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ۶۰۰؍سال پرانے تاریخی ورثے کو صرف سڑکوں کی توسیع کے نام پر مسمار کرنا نفرت کی انتہا ہے۔ معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے، ایسے میں  انتظامیہ مسجد کا بار بار گھیراؤ کرکے کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ اجین کے ہزاروں نوجوان اس مسئلہ پر مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔میرا مدھیہ پردیش حکومت سےمطالبہ ہے کہ وہ سڑک کی توسیع کیلئے دوسری طرف سے زمین حاصل کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK