انٹرنیٹ بند ہونے کے سبب اترپردیش میں کاروبار بھی متاثر

Updated: December 28, 2019, 8:30 PM IST | Agency | New Delhi

اولا اور اوبرکی بکنگ سے لے کر نیٹ بینکنگ تک میں صارفین کو دقتوں کا سامنا۔ زومیٹو اور سویگی پر آردڑ دینے والوں کو بھی پریشانی، سیزن کے موقع پر بھی بیشتر کاروباری مایوس۔

 انٹرنیٹ بند ہونے کے سبب اترپردیش میں کاروبار بھی متاثر
لوگ احتجاج میں شامل ہوں یا نہ ہوں انٹرنیٹ نہ ہونے سے پریشان ہیں

 نئی دہلی : شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج کے دوران اتر پردیش حکومت نے ریاست کے کئی اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بند کر رکھی ہے۔ جمعہ کو لکھنؤ اور غازی آباد سمیت یوپی کے تقریباً ۲۰؍ اضلاع میں صبح ۱۰؍ بجے سے رات ۱۰؍ بجے تک کیلئے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف عام آدمی کو ایک دوسرے سے رابطے میں پریشانی ہو رہی ہے بلکہ کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔ یہاں عام لوگ آفس یا ضروری کام کی خاطر باہر جانے کیلئے اولا یا اوبیر کی ٹیکسی سروس استعمال کرتے ہیں لیکن انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ اس کی بکنگ نہیں کروا پا رہے ہیں، نتیجتاً انہیں پرائیویٹ ٹیکسی یا پھر آٹو رکشا کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے انہیں روزانہ کے مقابلے چار گنا زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ صحافی نے غازی آباد سے نوئیڈا میں واقع اپنےدفتر جانے کیلئے پرائیویٹ ٹیکسی بک کی۔ چار کلو میٹر کے اس سفر کیلئے انہیں ۴؍ سو روپے ادا کرنے پڑے۔ صحافی کے مطابق انہیں روزانہ اس سفر کیلئے ۸۰؍ سے ۱۰۰؍ روپے ادا کرنے پڑتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ کیب بک نہیں کروا پا رہے تھے اس لئے انہیں پرائیویٹ ٹیکسی کرنی پڑی اور چار گنا زیادہ رقم دینی پڑی۔
 انٹرنیٹ سے متعلق کاروبار متاثر
 جو تاجر انٹرنیٹ کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں انہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہیں رابطے کے علاوہ آرڈر بک کروانے میں بھی دقت پیش آ رہی ہے۔ غازی آباد کے وی وی آئی پی مال میں واقع ہیرا سویٹس کے سویگی اور زومیٹو سے ایک دن میں تقریباً ۱۵۰؍ سے ۲۰۰؍ آرڈر مل جایا کرتے ہیں لیکن نیٹ بند ہونے کی وجہ سے یہ آرڈر نہیں آ رہے ہیں۔ ہیرا سویٹس کے کاروباری سریندر گپتا نے بتایا کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے سبب ان کے پاس آن لائن فوڈ ڈیلیوری ایک کے ذریعے بکنگ نہیں ہو رہی ہے۔ لوگ براہ راست ہماری دکان پر فون کر رہے ہیں یاپھر آس پاس کے لوگ دکان پر آخر خود خریداری کر رہے ہیں۔ یعنی گھر بیٹھے خریداری کرنے کی سہولت سے وہ محروم ہو چکے ہیں۔ 
  کیب بکنگ میں پریشانی
  جہاں تک بات ہے آمدورفت کی تو جیسا کہ اوپر کہا گیا لوگوںکو اولا اوبیر کی بکنگ میں پریشانی ہو رہی ہے۔ اور یہ پریشانی صرف غازی آباد یا نوئیڈا تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر علاقوں کی بکنگ بھی متاثر ہے۔ واضح رہے کہ دسمبر کے آخری ہفتے میں بیشتر لوگ گھومنے پھرنے کی پلاننگ کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر گاڑیوں کا خوب استعمال ہوتا ہے لیکن انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی بکنگ ہی بند ہے۔ نہ صرف گاڑیوں کا بلکہ سیاحت سے متعلق دیگر کاروباروںکا بھی نقصان ہو رہا ہے۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ یہ کمانے کا سیزن ہے اور انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس بار منافع سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ 
  کے وائی سی بھی متاثر
  انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل بینکنگ ، ٹرانزیکشن ، او ٹی پی سروس، ای کے وائی سی، اوریو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کا چلن رک گیا ہے۔ بلکہ سب سے زیادہ نقصان اسی شعبے کو ہوا ہے۔ حالانکہ اب تک یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے کہ اتر پردیش میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر کتنے کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن جو بھی رقم ہوگی وہ بہت بڑی ہوگی۔ پے منٹ بینکوں کو بھی انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کا خمیازہ اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ بغیر نیٹ کے ان کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK