آج سی اے اے پر شنوائی ، گیان واپی تنازع پر فیصلہ

Updated: September 12, 2022, 10:18 AM IST | Inquilab News Networks | New Delhi

شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف۲۰۰؍ سےزائد درخواستوں پر جون ۲۰۲۱ءکے بعد اب کہیں جاکر چیف جسٹس یویو للت کی بنچ سماعت کریگی جبکہ بنارس کی ضلعی عدالت یہ فیصلہ سنائے گی کہ گیان واپی مسجد کے خلاف داخل کی گئی درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں، گجرات ہائی کورٹ میں آر بی سری کمار کی درخواست ضمانت پر بھی شنوائی

Picture .Picture:INN
بنارس کی ضلع عدالت جہاں پیر کو گیان واپی مسجد سے متعلق اہم فیصلہ سنایا جائےگا۔ ۔ تصویر:آئی این این

 مودی سرکار کے متنازع قانون شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے ) کے  خلاف  داخل کی گئی ۲۰۰؍ سے زائد پٹیشنوں   پرطویل انتظار کے بعد  بالآخر پیر کو(آج ) چیف جسٹس آف انڈیا یویو للت کی بنچ شنوائی کریگی۔    یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہلی بار دسمبر ۲۰۱۹ء میں  زیر سماعت آیا تھا۔  قانون پر روک  لگانے سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جنوری ۲۰۲۰ء کو فریقین کو نوٹس جاری کیاتھا اور   آخری  باراس پر سماعت گزشتہ سال جون  میں ہوئی تھی۔ 
مودی سرکارکی نظر میں قانون ’بے ضرر‘
 ملک بھر میں شاہین باغ طرز کے مظاہروں  کا سبب بننے والے اس قانون  کے خلاف آسام    اور دیگر سرحدی ریاستوں کے شہریوں  نےبھی تشویش کااظہار کیا ہے تاہم مودی سرکار نے سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے اس متنازع  قانون کا دفاع کیا ہے۔اس نے اس قانون کو ’بے ضرر‘ اور نیک نیتی سے بنایاگیا قانون قرار دیا ہے۔  ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ۲۰۰؍ سے زائد درخواستیں داخل کرنے والوں نے سی اے اے  کے ساتھ ہی این آر سی اور این پی آر کی بھی مخالفت کی ہے۔ عرضی گزاروں میں جمعیۃ علمائے ہند،مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن، تمل ناڈو توحید جماعت  اور  آل آسام اسٹوڈنٹ یونین  سمیت کئی تنظیمیں  شامل ہیں۔ آسام اسٹوڈنٹس یونین نے اس بنیاد پر اس قانون کو غیر آئینی قراردیا ہے کہ یہ غیر قانونی دراندازوں کو شہریت فراہم کرتاہے۔ مسلم تنظیموں  نے  نشاندہی کی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر شہریت دینا آئین کے بنیادی اصولوں کے منافی  ہے۔  امید کی جارہی ہے چیف جسٹس یویو للت اور جسٹس ایس رویندر بھٹ کی بنچ   پٹیشنوں  کے تعلق سے  آئین کو ملحوظ رکھتے ہوئے مثبت موقف اختیار کرے گی۔
 گیان واپی مسجد تنازع پر اہم فیصلہ
  بنارس(آئی این این): بنارس کی ضلعی عدالت جس نے گیان واپی مسجد معاملے پر سابقہ سماعت میں اپنافیصلہ محفوظ کرلیاتھا، پیر کو فیصلہ سنا سکتا ہے۔اس کے پیش نظر علاقے میں سیکوریٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں اور احتیاطاً حکم امتناعی نافذ کردیاگیاہے۔ڈسٹرکٹ جج اجے کرشنا وشویش نے گیان واپی مسجد میں شرنگار گوری کی پوجا کی اجازت کیلئے  ۴؍ خواتین کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن پر  فیصلہ ۲۴؍ اگست کومحفوظ کرلیاتھا۔   مسلم فریق نے چونکہ ان پٹیشنوں کے قابل سماعت ہونے پر ہی سوال اٹھایا ہے اس لئے ضلع کورٹ  کے فیصلے سے یہ طے ہوگا کہ گیان واپی مسجد -شرنگار گوری  تنازع پر مقدمہ آگے چلے گا یا نہیں۔ حالات کے پیش نظر بنارس کے پولیس کمشنر اے ستیش گنیش نےاتوار کوکمشنریٹ علاقے میں  دفعہ ۱۴۴؍ نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔  واضح  رہے کہ بنارس کی مقامی عدالت نے مسجد کاویڈیو سروے کروایا ہے اوراس دوران مسجد کے حوض میں ’شیولنگ‘ملنے کا دعویٰ کیا جارہاہے۔ دوسری طرف مسلم فریق  نے وضاحت کی ہے کہ  فریق مخالف جسے شیولنگ قرار دے رہاہے وہ حوض کا خستہ حال فوارہ ہے۔ مسلم فریق نے ’شیولنگ‘ ملنے کے دعوے پر یکطرفہ طور پر حوض کو سیل کرنے کے بنارس کی مقامی عدالت کے فیصلے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کا موقف سنے بغیر اورحدتو یہ ہے کہ ویڈیو سروے رپورٹ  کو سرکاری طورپر پیش کئے جانے سے قبل ہی سنادیا گیا۔ سپریم کورٹ سے رجوع پر کورٹ نے شنوائی ضلع کورٹ میں منتقل کردی تھی۔ 
  سری کمار کی درخواست ضمانت پر سماعت
 احمدآباد(آئی این این): گجرات فساد کی  ’وسیع تر سازش‘ کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی پاداش میں ٹیسٹا سیتلواد کے ساتھ گرفتار ہونے والے سابق آئی پی ایس افسر  اور گجرا ت کے سابق ڈی جی پی آر بی سری کمار  نے ضمانت کیلئے  بالآخر گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا   ہے۔احمدآباد سیشن کورٹ میں ضمانت کی عرضی خارج ہونے کے ۴۰؍ دنوں بعدداخل کی گئی اس عرضی پر  پیر کو (آج ) جسٹس ایلیش ووہرا کی بنچ سماعت کریگی۔  آر بی سری کمار جو ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات کیلئے اس وقت کی ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے والوں میں شامل ہیں، کو ۲۵؍ جون کو  ٹیسٹا سیتلواد کے ساتھ گرفتار کیاگیاتھا۔ان پر بھی وہی الزامات ہیں  جو سیتلواد پر ہیں۔ سیتلواد فی الحال ضمانت پر رہا ہیں۔انہیں ۲؍ ستمبر کو سپریم کورٹ  نے ضمانت دی تھی۔ آر بی سری کمار کی طرح ہی سیتلواد کی ضمانت کی عرضی بھی احمدآباد سیشن کورٹ نے خارج کردی تھی جسے انہوں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ گجرات ہائی کورٹ نے  اس عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ۶؍ ہفتوں کے بعد کی رکھی توٹیسٹا سپریم کورٹ پہنچ گئیں  جہاںجسٹس یو یو للت کی بنچ  نے انہیں  ضمانت  پر رہا کرنےکا حکم سنایا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے ٹیسٹا سیتلواد کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے واضح کردیاتھا کہ ان کے ساتھی ملزمین ان کی ضمانت بطور نظیر پیش نہیں کرسکتے تاہم سری کمار کی بیٹی     ضمانت ملنے  کے تعلق سے پُر امید ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK