این آرسی کی پہلی سیڑھی ہےاین پی آر

Updated: February 26, 2020, 12:09 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مہاراشٹر حکومت اسمبلی میں سیاہ قوانین کےخلاف قرارداد پاس کرے اورمرکزی حکومت قانون واپس لینے کا اعلان کرے۔ پریس کلب میں چھوٹی بڑی ۲۱؍تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں مطالبات

سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔تصویر : آئی این این
سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔تصویر : آئی این این

 ممبئی: ریاستی حکومت سیاہ قوانین کے خلاف اسمبلی میں قرارداد پاس کرے اور مرکزی حکومت قانون واپس لینے کا اعلان کرے،این پی آردراصل این آرسی کی پہلی سیڑھی ہے ۔ منگل کو پریس کلب میںچھوٹی بڑی ۲۱؍تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ باتیں کہی گئیں۔ان قوانین سے جو مختلف طبقات متاثر ہوںگے ان کی طویل فہرست ہے ،چنانچہ ان کے مسائل بیان کرتے ہوئے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواتین نے کئی سوالات قائم کئے ۔
’بہت سے لوگوں کے مسائل پیدا ہوںگے ‘
  پریس کانفرنس کے دوران جو طبقات متاثر ہوںگے اورکاغذات پیش نہیں کرسکیںگے ان کے تعلق سے یہ بتایا گیا کہ میں  بسرکرنے والے ، قدرتی آفات کا شکار ہوکربے گھر ہونے  والے ، حکومت کے مختلف پروجیکٹوں کےسبب جھوپڑوں کوتوڑدینے اور مکینوں کودوسری جگہ منتقل کردینے کے سبب حالات کا شکار ہونے والے ،یہ تمام ایسے لوگ ہیں کےجن کے پاس کاغذات نہیں ہوں گے ،چنانچہ ان کو بہت زیادہ مسائل کاسا منا کرنا ہوگا۔ 
’اسمبلی میں ریزولیوشن پاس کیا جائے ‘
 ایڈوکیٹ لارا جسانی نے میڈیا کے سامنے تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہاکہ ’’ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کیلئے آسانی پیداکرے نہ کہ ان کے لئے مسائل ۔سی اے اے،این پی آر اور این آرسی کی مخالفت کی جارہی ہے کہ یہ آئین کے خلاف ہےاورمردم شماری کے نام پرجس انداز میںاین پی آر لایا جارہا ہے ،وہ این آرسی کی پہلی سیڑھی ہے۔ اسی لئے ہم سب کامطالبہ ہے کہ ریاستی حکومت اسمبلی میں ان قوانین کے خلاف ریزولیوشن (قرارداد) پاس کرے ۔‘‘
 بے باک کلیکٹیو گروپ کی رکن حسینہ خان نے کہاکہ ’’ مذکورہ بالا ایک دو نہیں بلکہ بہت بڑی تعداد میںغریب اورپسماندہ سماج سے تعلق رکھنے والوں کے پاس کاغذات ہیں ہی نہیں تووہ پیش کیا کریں گے ۔‘‘ انہوں نے مرکزی حکومت کوہدف تنقیدبناتے ہوئے کہاکہ ’’طلاق ثلاثہ کے وقت تو مسلم خواتین کےحقوق کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت مگرمچھ کے ا ٓنسو بہارہی تھی ، آج شاہین باغ میں ان سےملاقات اوران کی باتیں سننا تو دور ان کی ہرطرح سے مخالفت کی جارہی ہے ،کیایہ حکومت کادوہرا معیار نہیںہے۔‘‘ انہوں نے حکومت کے ذریعے غیرملکی مسلم اورغیرمسلم کے حوالےسے برتے جانے والے امتیازکے تعلق سے بتایاکہ ’’ اگرکسی غیرمسلم کے ویزا کی مدت ختم ہوجائے، ا س کےباوجود وہ ہندوستان میں رہے تو اس پرماہانہ ۱۰۰؍ڈالر کاجرمانہ عائد کیا جاتاہے اور اگرکوئی مسلم ایساکرتا ہے تواس پرایک ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ،یہ امتیازکیوں ۔‘‘
’این پی آر کوبآسانی این آرسی میں بدلاجاسکے گا‘
  سندھیا گوکھلے نے کہاکہ’’ کالے قانون غریبوں اورپسماندہ طبقات کیلئے مصیبت ہیں اور اس کے ذریعے ان کے تمام حقوق ختم کردیئے جائیں گے ۔اس لئے ریاستی حکومت اسمبلی میں ریزولیوشن پاس کرکے یہ ا علان کرے کہ ایسا کوئی قانون مہاراشٹرمیں لاگو نہیں ہوگا۔‘‘
 نرنجنی شیٹی نے کہا کہ ’’ اس میںکوئی دورائے نہیںکہ جس طرح این پی آرکو لاگو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ غریبوں اورپسماندہ طبقات کی شہریت چھیننے کی جانب اٹھایا جانے والا قدم ہوگا اوراگر اسی طرح اسے لاگو کردیا گیا توبعد میں اسے آسانی سےاین آرسی میں بدلا جاسکتا ہے۔‘‘ 
 دیگر طبقات کے نمائندوں نے بھی اسی طرح اپنے مسائل بیان کئے اورسی اے اے ،این پی آر ا وراین آرسی رد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK