ریپبلکن جن آندولن نے بھی سیاہ قوانین کی مخالفت کی

Updated: March 06, 2020, 2:35 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

آزادمیدان میں ریپبلکن جن آندولن کےذریعےاحتجاج میں مظاہرین نے حکومت کولتاڑا۔ اسٹیج سے غیر مسلم ماؤں اوربہنو ں کوممبئی باغ آنے کی دعوت دی گئی۔

Demonstrators in Azad Maidan. Picture Inquilab
آزاد میدان میں مظاہرین ۔ تصویر : انقلاب

سیاہ قوانین کے خلاف اور چند دیگر مسائل پرری پبلکن جن آندولن کےذریعے اور الائنس اگینسٹ سی اے اے ، این پی آر اینڈ این آرسی کے اشتراک سے جمعرات کو آزادمیدان میں احتجاج کیاگیا۔ اس ا حتجاج میں مردوں کے مقابلے عورتوں کی تعداد زیادہ تھی اوریہ سب ترنگا اورری پبلکن کا جھنڈا لئے ہوئی تھیں ۔ احتجاج کے دوران ہم سب ایک ہیں ، لڑیں گے جیتیں گے ، لے کے رہیں گے آزادی اورسی اے اے ،این پی آر اوراین آرسی رد کرو ‘کے نعرےوقفے وقفے سے بلند کئے جاتے رہے۔ اس احتجاج کےدوران نمائندے نے دیکھا کہ برادران وطن کی خواتین کی تعداد مسلم خواتین سے کم تھی لیکن شدید دھوپ اورگرمی کے باوجود وہ یہاں ڈٹ کر اس بات کا اعادہ کررہی تھیں کہ ہم سب مل کراس لڑائی کوآگے بڑھائیں گے۔ مختلف گروپس نے گیت اور گانے کے ذریعے ان قوانین کی مخالفت کی۔ 
 بزرگ ادیب ارجن ڈانگلے کا خطاب
 ارجن ڈانگلے (بزرگ ادیب اورصدرری پبلکن جن شکتی )نے کہاکہ ’’یہ قانون واپس لیا جائے کیونکہ یہ سنویدھان کے خلاف اورعوام کودیئے گئے حقوق کے منافی ہے۔ حکومت اس غلط فہمی میں نہ رہےکہ آخرلوگ کب تک احتجاج کریں گے کیونکہ عوام بیدار ہوچکے ہیں اوروہ سنویدھان اوراپنے حق کی رکشا کرنا جانتے ہیں ۔ ‘‘ منوج سنسارے (بھارت یوتھ ری پبلکن کے سربراہ )نے کہا کہ ’’ یہ قانون تمام پچھڑی ذات برادریوں کو نقصان پہنچانے والا ہے،اسی لئے ہم سب ایک ہوکراس کے خلاف جمع ہوئے ہیں ،ہمیں امید ہے کہ ہم سب سنویدھان کی حفاظت ا وراپنا حق حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ ‘‘ یوراج موہتے (بزرگ صحافی اورسماجی خدمت گار)نے کہاکہ  حکومت ہوش میں آئے اور کالا قانون واپس لے اور بھیما کوریگاؤں معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعے تفتیش کرواکر اصل گنہگاروں کوسزا دے ۔
حکومت کوقانون واپس لینا ہی ہوگا
  دلیپ جگتاپ (صدر آرپی آئی ایکتا وادی ) نے کہاکہ ہم عوام کی طاقت کے بل پر یہ بات یقین کےساتھ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کوکالا قانون واپس لینا ہی ہوگا کیونکہ عوام نے یہ طے کرلیاہے کہ بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے سنویدھان کے خلاف کوئی قانون منظور نہیں ہوگا ۔ 
حکومت نے ہمیں ایک کردیا ،غیر مسلم بہنیں ممبئی باغ آئیں 
 عشرت شیخ نے کہاکہ ’’ سیاہ قوانین نا قابل قبول ہیں لیکن ہم اس حوالے سے یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے ہمیں ایک کردیا ہے اورہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی مل کراس کالے قانون کے خلاف میدان میں ہیں ۔ ‘‘ خورشید شیخ نے اپنے خطاب میں اس کی تائید کی۔ اس دوران اس بات پربھی زوردیاگیا کہ ممبئی باغ میں ہماری غیرمسلم مائیں اور بہنیں بھی ضرورپہنچیں تاکہ اسے مسلم بہنو ں کااحتجاج کہنے والوں کی زبان بند کی جاسکے ۔
وزیراعلیٰ نے این پی آرکی قابل اعتراض شقیں پوچھیں 
آزادمیدان میں احتجاج کے دوران ہی راکیش راتھوڑ، منوج سنسارے ،ارجن ڈانگلے،سچن کامبلے ، عبدالحسیب بھاٹکر، فرید شیخ اورمحمدشاکرشیخ وغیرہ پرمشتمل ایک وفد نےوزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے سے ملاقات کی ۔این پی آر کے تعلق سے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے خلاف صرف مسلمان احتجاج کررہے ہیں توان کوبتایا گیا کہ ایسانہیں ہے بلکہ سب مل کراحتجاج کررہے ہیں ۔ جب ان سے این پی آرسے نقصان کی بات کہی گئی تو ان کا جواب تھا کہ ۲۰۱۰ء اور ۲۰۲۰ء کے این پی آرمیں کیا فرق ہے ا ور قابل اعتراض کون سے نکات ہیں ؟ان کی تفصیل پیش کی جائے ،اگرواقعی نقصان کی بات ہوگا توان سوالات کوحذف کردیا جائے گا ۔‘‘ ۔ بھیماکوریگاؤں کے مسئلے پروزیراعلیٰ نے کہاکہ اگرکسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتو ہمیں بتایئے ، اسی طرح اندومل میں باباصاحب امبیڈکر کے اسمارک بنانے پربھی انہوں نے مثبت یقین دہانی کروائی۔ این آرسی کو ادھو ٹھاکرے نے انتہائی نقصان دہ قراردیتے ہوئے پوری طرح سے رد کردیا ۔ انہوں نے سی اے اے کی مشروط حمایت کا ذکر کیا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK