امریکہ کے حالات پر اہل ِ کنیڈا حیران بھی ہیں اوربرہم بھی

Updated: January 16, 2021, 10:23 AM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

کنیڈا کے پرامن معاشرہ کا غصہ ٹرمپ پر ہے جبکہ جوبائیڈن کے اقدامات پر اس نے اطمینان کا اظہار کیا

Pro Sayed Iqbal
پروفیسر سید اقبال

دنیا کی سب سے قدیم اور پھلتی پھولتی جمہوریت امریکہ کی پارلیمنٹ واقع کیپٹل ہل پر صدر ٹرمپ  کے حامیوںکی چڑھائی اور تشدد نے جہاں پوری دنیا کو دہلا کر رکھ دیا وہیں ان ممالک کے  شہریوں کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے جو جمہوریت میں گہری عقیدت رکھنے کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی کو مقدم رکھتے ہیں۔ انہی ممالک میں کینیڈا جیسا  یخ بستہ لیکن سیاسی و سماجی طور پر انتہائی بیدار شعور رکھنے والا ملک بھی  ہے جس کی سرحدیں امریکہ سے ملتی ہیں۔ یہاں کے لوگ امریکہ کے  سیاسی و سماجی حالا ت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ کیپٹل ہل میں جو تشدد ہوا  اور جو حالات پیدا کئے گئے ان پر یہاں کے شہریوں میں بھی تشویش کا پایا جانا فطری ہے۔ 
  معروف کالم نگار پروفیسر سید اقبال  ان دنوں کینیڈا میں ہی مقیم ہیں۔  انہوں نے امریکی جمہوریت کے مرکز پر تشدد کی اس واردات کے تعلق سے    انقلاب سے فون پر گفتگو کے دوران بتایا کہ ’’تشدد اور کیپٹل ہل پر چڑھائی کے مناظر پرکینیڈا کےشہری بھی  اسی طرح تشویش میں مبتلا  ہو گئے جس طرح پوری دنیا کے لوگ فکر مند تھے۔  سیاسی و سماجی طور پر یہاں کے شہری کافی حساس ہیں کیوں کہ وہ حقوق انسانی کا درد رکھتے ہیں اور کسی بھی حال میں تشدد کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔‘‘ پروفیسر اقبال کے مطابق ’’کینیڈا کا معاشرہ ہی ایسا ہے۔  جب بھی کہیں بڑے پیمانے پر تشدد کی بات سامنے آتی ہے تو یہاں  کے لوگ اس کے خلاف کھل کر آواز بلند کرتے ہیں۔‘‘ انہوں  نے بتایا کہ ’’امریکی پارلیمنٹ پر حملہ کی خبریں جیسے ہی نیوز چینلوں پر آنی شروع ہوئیں لوگ اپنے گھروں تک قید ہوگئے اور پل پل کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ انہیں حیرت بھی تھی اور امریکی صدر ٹرمپ پر شدید غصہ بھی کہ وہ اس طرح کی حرکتیں کیوں کررہے ہیں۔  ‘‘ البتہ وہ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے ردعمل   اوران کے سوجھ بوجھ کے مظاہرہ سے مطمئن  بھی ہوئے۔

ٍٍٍ   پروفیسر سید اقبال نے بتایا کہ’’ جو بائیڈن نے نہایت سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور بہت دانشمندی کے ساتھ حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے جہاں ایک طرف تشدد کی ہر طرح سے مذمت کی تو وہیں دوسری طرف اسے بغاوت کا نام دے کر یہ بھی واضح کردیا کہ اس طرح کی حرکتیں کم از کم امریکہ میں تو ناقابل برداشت ہیں۔ یہی بات کینیڈا کے لوگوں کو بھا گئی ۔  یہاں کے سوشل گروپس میں ان کےاس  بیان کی خاصی پذیرائی کی گئی کیوں کہ دیگر کسی بھی ملک کے  برسراقتدار طبقےپر انگشت نمائی کا حوصلہ نہ اب میڈیا میں  باقی رہا ہے اور نہ عوام اس کی پروا کررہے ہیں۔ ‘‘ دوران گفتگو کینیڈا میں مقیم ایشیائی نژاد  افراد  کے ردعمل کے تعلق سے جن میں  اکثریت ہندوستانیوں ، پاکستانیوں اور ویت نامیوں کی ہے ، کے ردعمل کے تعلق سے معروف کالم نگار نے  بتایا کہ ’’امریکی کانگریس کے ردعمل ، تشدد سے نمٹنے کے ان کے طریقے اور جنونی بھیڑ کو قابو میں کرنے کیلئے ایجنسیوں کو سخت احکامات دینے کے طرز عمل کی ایشیائی نژاد شہریوں  نے  خاص طور پر ستائش کی کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ اس طرح کا کوئی معاملہ اگر ان کے ممالک میں پیش آتا تو بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی  اور تشدد پر اکسانے کیلئےکسی لیڈر کو اُف تک  نہ کہا جاتا  جبکہ امریکہ میں میڈیا سے لے کر پارلیمنٹ اور اس کی اسپیکر نینسی پیلوسی تک سبھی نے ٹرمپ کو ہی ذمہ دار قرار دیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بہت جلدی بیک فٹ پر آگئے اور معافی تلافی کرنے لگے ۔‘‘
  کینیڈا کے اخبارات کی بھی خاصی پذیرائی کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ’’ یہاں کے اخبارات عام طور پر سیاست زدہ نہیں ہیں ،ان کے کوریج میں سیاسی خبریں  کافی کم ہوتی ہیں کیوں کہ اخبارات کی توجہ کا مرکزسماجی معاملات ہوتے ہیں لیکن ٹرمپ کے تعلق سے خبریں سبھی نے نمایاں طور پر پیش کیں اور ان میں یہ بات واضح تھی کہ ٹرمپ کے اقدامات کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا گیا  بلکہ ان کے زوال پر یک گونہ اطمینان محسوس کیا گیا۔‘‘ 
 پروفیسر سید اقبال نے صدر کے مواخذہ کے لائیو ٹیلی کاسٹ اور اسے کینیڈا میں سبھی کے ذریعے دیکھے جانے پر بھی کہا کہ’’امریکی صدر کا مواخذہ صرف ایک صدر کا مواخذہ نہیں تھا بلکہ دنیا کے سب سے طاقتور صدر کی فضیحت ہے اسی لئے اسے سبھی نے دیکھا لیکن کینیڈا کے شہریوں کی سب سے بڑی بات یہ رہی کہ انہوںنے اسے نشان عبرت کے طور پر دیکھا اور ایک مرتبہ پھر یہ عزم کیا کہ وہ جمہوریت کی بیخ کنی کرنے والوں کی کسی بھی صورت میں اور کسی بھی حال میں حمایت نہیں کریں گے ۔  ا ن حالات میں ایشیائی نژاد افراد نے خاص طور پراس امید کا بھی اظہار کیا کہ جس طرح سے امریکہ میں جمہوریت کو مقدم رکھتے ہوئے اس کی حفاظت کی گئی اسی طرح ان کے اپنے ممالک میں بھی جمہوریت کو بچانے کی کوششیں کی جائیں اور جمہوری اقدار بحال کئے جائیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK