افغانستان میں عیدالاضحی سے قبل کار بم دھماکہ، ۱۷؍ شہری ہلاک

Updated: August 01, 2020, 3:34 AM IST | Kabul

طالبان اور افغانستان کے درمیان ہوئی جنگ بندی کی مدت شروع ہونے سے پہلے ہی تخریبی کارروائی پر دونوں ہی جانب تشو یش۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک طرف افغان حکومت اور طالبان نے عیدالاضحی کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کر رکھا ہے اور اس دوران اپنی اپنی قید سے اپنے حریف کے کارکنان کو رہا کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کر دیا ہے تو دوسری طرف افغانستان میں تخریبی کارروائی اب بھی جاری ہیں ۔ عید سے ٹھیک پہلے افغانستان کے صوبہ لوگر میں ایک طاقتور کار بم دھماکہ ہوا جس میں کم از کم ۱۷؍ افراداد ہلاک ہوگئے ہیں ۔ اطلاع کے مطابق اس میں ۲۱؍ لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔ حالانکہ طالبان نے فوری طور پرا س حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش نے اب تک اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔
 لوگر کے گورنر کے ترجمان دیدار لوانگ نے ایک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ حملہ ایک خود کش حملہ آور نے کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دھماکہ گورنر کے دفتر کے قریب ہوا ہے جہاں بہت سے لوگ تہوار کے لئے خریداری کر رہے تھے ۔ ادھر افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائین نے کہا کہ `دہشت گردوں نے ایک بار پھر عید الاضحی کی رات میں حملہ کیا اور ہمارے متعدد شہریوں کو ہلاک کر دیا۔
 طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ حملے کا ان کے گروپ سے `کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔طالبان اور افغان حکومت نے بقرعید کے پہلے دن یعنی جمعہ سے شروع ہونے والی تین روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ اس مدت کے شروع ہونے سے قبل ہی یہ دھماکہ ہوا ہے۔ 
  واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کے سامنے عیدالاضحی کے موقع پر جنگ بندی کی تجویز رکھی تھی جسے طالبان نے ان کا بیان ختم ہوتے ہی منظور کر لیا لیا تھا۔اس کے بعد دونوں جانب سے عید کے دوران اپنی اپنی قید سے ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کرنے کا بھی اشارہ دیا گیا تھا۔ لیکن جنگ بندی کی مدت شروع ہونے سے ٹھیک پہلے اس طرح کا حملہ کیا گیا ہے۔ اس حرکت کو ان طاقتوں کی جانب سے امن مذاکرات میں رخنہ اندازی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے جو افغانستان میں قیام امن کے خلاف سرگرداں ہیں ۔ بیشتر مبصرین کی نظر میں یہ کوئی تیسری طاقت کا کام ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس طرح کے حملوں پر افغان حکومت عام طور پر طالبان پر الزام عائد کر دیتی ہے لیکن اس حملے کے تعلق سے اس نے ایسا نہیں کیا ہے اور طالبان نے بھی حملے سے انکار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK