بنگلہ دیش میں تبا ہ کن سیلاب ،۲۰؍ سے زائد اموات ، لاکھوں متاثر

Updated: June 19, 2022, 8:58 AM IST | dhaka

بجلی کا نظام درہم برہم ، ملک کا تیسر ا سب سے بڑا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند، مقامی اسکول راحت کیمپ میں تبدیل ، سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ لوگ اپنے گھر کی چھتوں پر پھنسے رہے ، ان کے پاس کھانے پینے کیلئے کچھ نہیں تھا ، کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا گیا ۔ ایک نوجوان کے مطابق میری والدہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا سیلاب نہیں دیکھا

In one area, water has also entered the grasshoppers.
ایک علاقے میں گھاس پھو س کے مکانوں میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے۔

 بنگلہ دیش میں برسات کی ابتداء میں ہی  سیلاب غصب ڈھارہا ہے ۔  جانی اورمالی نقصا ن ہورہا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق مانسون کی بارش اور طوفان کی وجہ سے اب تک کم از کم۲۵؍ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ  مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ سیلاب نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ تقریباً ۴۰؍ لاکھ افراد سیلاب زدہ علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
 ایک نوجوان اور اس کا خاندان کو سیلاب زدہ
 علاقے سے  نکلنے کیلئے انتظا رکرنا پڑ ا 
 کمپنی گنج گاؤں نامی ایک گاؤں کے  ۲۳؍ سالہ نوجوان لقمان  نےبتایا،’’ جمعہ کی صبح تک پورا گاؤں ہی زیر آب آ چکا تھا اور ہم وہاں پھنسے ہوئے  تھے۔‘‘اس نوجوان نے مزید بتایا،’’ اپنے گھر کی چھت پر سارا دن انتظار کرنے کے بعد ایک پڑوسی نے ہمیں اپنی کشتی کے ذریعے بچایا۔ میری والدہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا سیلاب نہیں دیکھا۔‘‘
 بے بسی اور بھوک 
 اسی طرح  سیلاب سے بچائی کی گئی ایک خاتون عاصمہ اختر نے بتایا کہ وہ اور ان کے اہل خانہ گزشتہ دو روز سے  سیلاب میں پھنسے ہوئے تھے اور پانی چڑھتا ہی جا رہا تھا۔ عاصمہ کے بقول:’’ ان کے اہل خانہ دو روز سے بھوکے تھے۔پانی اتنی تیزی سے بڑھا کہ ہم اپنی کوئی چیز بھی ساتھ نہیں لا سکے۔ جب سب کچھ ہی پانی کے اندر ہو تو آپ کیسے کچھ پکا سکتے ہیں؟‘‘
 امسال سیلاب کی شدت اور تعداد بڑھ گئی ہے
  واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے نشیبی علاقوں میں لاکھوںافراد کیلئے سیلاب ایک باقاعدہ خطرہ ہے ، یہ معمول کاحصہ بن گیا ہے ۔ ہرسال سیلاب انسانی بستیوں کو تہ وبالا کرکے رکھ  دیتا ہے ، بہتوں کو بے گھر کردیتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سےا مسال ایسے سیلاب کی تعداد  اور تباہی مچانے کی طاقت غیر متوقع طور پر بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی مسلسل بارش کی وجہ سے ملک کے شمال مشرق کے  علاقے زیر آب آ چکے ہیں ۔
 فوج مامور 
 ادھر حکومت کی جانب سے وہاں پھنسے ہوئے افراد کی مدد کیلئے فوج مامور کر دی گئی ہے۔پانی کے زیادہ بہاؤ کی وجہ سے ندیوں کی باندھ ٹوٹ رہے ہیں اور اس طرح اچانک دیہات کے دیہات زیر آب آ رہے ہیں۔ حکومت نے مقامی اسکولوں کو ریلیف کیمپوں میں تبدیل کر دیا ہےاور وہاںکھانے ، پینے اور نہانے وغیرہ کا نظم کیا جارہا ہے۔ 
 بجلی کا نظام درہم برہم 
 سلہٹ ریجن کے چیف گورنمنٹ ایڈمنسٹریٹر مشرف حسین  کے مطابق گزشتہ دوپہر کو بارش میں عارضی طور پر تعطل پیدا ہوا تھا لیکن سنیچر کی صبح سے سیلابی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ مشرف حسین  کے مطابق اس پورے علاقے میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔حالات بہت خراب ہیں۔ چالیس لاکھ سے زائد افراد سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔سیلاب کے سبب سلہٹ میں ملک کے تیسرے سب سے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کی پیش گوئی 
  ماہرین کے مطابق آئندہ دو روز کے دوران بنگلہ دیش اور  ہندوستان کے شمال مشرقی بالائی علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔اس ہفتے کی بارش سے پہلے سلہٹ کا خطہ گزشتہ ماہ کے آخر میں تقریباً دو دہائیوں میں آنے والے بدترین سیلاب سے ابھی نمٹ ہی رہا تھاکہ ایک بار پھر سیلاب تباہی مچانے لگا ہے۔ اس وقت  بھی اس علاقے میں کم از کم۱۰؍ افراد ہلاک اور۴۰؍ لاکھ شہری متاثر ہوئے تھے۔
 بجلی گرنے سے اموات 
 پولیس حکام نے سنیچر کو ایک عالمی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طوفان  کےدوران  بجلی گرنے سے اس بنگلہ دیش میں جمعہ کی دوپہر تک کم از کم۲۱؍ افراد ہلاک ہو چکے تھے۔حکام نے آئندہ چند روز  کے دوران مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ مقامی پولیس افسر منظور رحمان نے بتایا ہے کہ بجلی گرنے سے ہلاک ہونے والوں میں ۳؍ بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں ۱۲؍سے۱۴؍ برس کے درمیان تھیں۔

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK