Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی تہذیب کو مٹادینے کی دھمکی کے بعد ایران ہی کی شرطوں پر جنگ بندی

Updated: April 08, 2026, 11:16 PM IST | Tehran

خامنہ ای کےسوگ کا ۴۰؍ واں دن فتح کی شادمانی میں تبدیل، ٹرمپ کا غرور مٹی میں مل گیا،ایران نے امریکہ کی ۱۵؍ نکاتی تجویز مستردکی ، واشنگٹن کو تہران کا ۱۰؍ نکاتی منصوبہ ماننا پڑا،جمعہ کو اسلام آباد میںمذاکرات

As soon as the US announced a ceasefire on Iran`s terms, Iranians took to the streets and celebrated.
امریکہ کی جانب سے ایران کی شرطوں پر جنگ بندی کا اعلان ہوتےہی اہل ایران سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منانے لگے

 امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ۴۰؍   دنوں تک جاری رہنے والی کشیدگی اور جنگ کے بعد بالآخر دو ہفتوں کیلئےجنگ بندی نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکی صدر نے اس کا اعلان کرتے ہوئے اسے عالمی امن کیلئے عظیم دن قرار دیا۔ اس دوران  مذاکرات  میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کی صبح مطلع کیا کہ جنگ بندی کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس اہم اعلان سے محض چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو آج رات ایک پوری تہذیب کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ جب پوری دنیا ٹکٹکی باندھے ٹرمپ کی اس دھمکی کا اثر دیکھنے کو تیار تھی تبھی ٹرمپ نے اعلان کردیا کہ ایران سے ۲؍ ہفتوں کے لئے جنگ بندی ہو گئی ہے۔ تاہم یہ عارضی امن اب اس کلیدی شرط پر منحصر ہے کہ ایران اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جس سے مستقبل کے مستقل امن کیلئے راہ ہموار ہوگی۔
خامنہ ای  کےسوگ کا ۴۰؍ واں دن فتح میں تبدیل 
  واضح رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر خامنہ ای مرحوم کے سوگ کا یہ ۴۰؍ واں دن تھا جب ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو ایران نے خامنہ ای کے سوگ کے ۴۰؍ ویں دن فتح حاصل کرلی ۔ ایران کے خلاف روز نئی دھمکیوں اور ڈیڈ لائن کا کوئی اثر نہ دیکھ کر بالآخر امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی شرائط پر جنگ بندی کا فیصلہ کر لیا۔ ایران شروع سے اپنے موقف پر قائم رہا لیکن امریکہ روز نئے نئے طریقوں سے اس پر دباؤ بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ۷؍ اپریل کو ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا بھی اعلان کر دیا۔ اس کے باوجود ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے اور دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکہ واسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا۔ آخر کار پاکستان اور دیگر ممالک کی کوششوں سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔فی الحال دو ہفتوں کے لئے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے ۔
 پاکستان کا رول 
  ایک باضابطہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ  عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طور پر کھولنے پر رضامند ہو۔ ٹرمپ نے کہا یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدہ طے کرنے کے قریب ہے۔ 
ایران کے ۱۰؍ نکاتی مطالبات  
 ایران نے پہلے دن سے امریکی شرائط کو نہ ماننے کا اعلان کیا تھا۔  امریکہ نے متعدد مرتبہ ایران کے سامنے ۱۵؍ نکاتی تجاویز پیش کیں لیکن ایرانی حکومت نے اسے ٹھکرادیا ۔ اس  کے بعد ایران نے جو شرائط رکھیںوہ امریکہ نے من و عن تسلیم کرلیں۔ایران کے سرکاری میڈیا نے اس معاہدہ کے حوالہ سے ۱۰؍ نکاتی تجاویز کی تفصیل فراہم کی ، جو جمعہ کو اسلام آباد میں  ہونے والی بات چیت کی بنیاد بنے گی۔ 
(۱) امریکہ  ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی جارحیت نہیں کرے گا۔ 
 (۲) آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا۔
 (۳)ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے گا۔
 (۴) ایران پر عائد تمام بنیادی و ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں گی۔
 (۵)  سلامتی کونسل سمیت آئی اے ای اے   کے بورڈ آف گورنرس کی ایران مخالف تمام قراردادیں منسوخ کر دی جائیں گی۔
 (۶) ایران کوجنگ  میں نقصانات کیلئے  معاوضہ  اداکیا جائیگا۔
(۷) خطے  میں امریکہ کے تمام فوجی اڈے بند کئے جائیں گے۔
 (۸) ایران نواز گروہوں پر بھی حملوں کی بندش  ہو گی۔
 (۹ ) ایران کے  شہری ضروریات کے ایٹمی پروگرام کو منظور کیا جائے گا ۔
(۱۰) ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں سے ٹول (فیس) وصول کرے گا۔ اس  کیلئےوہ  پڑوسی  ملک عمان کے ساتھ مل کر باقاعدہ  میکانزم تیار کرے گا۔ 

iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK