Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہو سکتا ہے : بی پی سی ایل کا اشارہ

Updated: May 24, 2026, 6:07 PM IST | New Delhi

مغربی ایشیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی توانائی بازار کو متاثر کیا ہے۔ جنگ ۲۸؍ فروری۲۰۲۶ء سے جاری ہے۔ اہم بحری راستے آبنائے ہرمز سے خام تیل اور گیس کی آمد و رفت تقریباً بند ہونے کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

OIl Price.Photo:INN
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این

اگر موجودہ عالمی توانائی بحران جاری رہا تو ریٹیل ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ شاید ٹالنا ممکن نہ ہو۔ یہ بات بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل )   کے ڈائریکٹر (ہیومن ریسورسیز) راج کمار دوبے نے کہی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے دوبے نے پالیسی سازوں کے سامنے ۳؍آپشن رکھے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے’’اب ۲؍ یا۳؍ آپشن کھلے ہیں۔ ایک یہ کہ قیمتوں میں اضافہ کیا جائے، جو پیٹرول پمپوں پر صاف نظر آئے۔ دوسرا یہ کہ پیٹرولیم کمپنیاں نقصان خود برداشت کریں اور خسارہ بڑھاتی رہیں۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ حکومت ڈیفیسٹ فنانسنگ کے ذریعے فنڈ کا انتظام کرے۔‘‘ ڈیفیسٹ فنانسنگ کا مطلب ہے کہ حکومت بڑھتے ہوئے اخراجات یا نقصان کو پورا کرنے کے لیے اضافی رقم کا بندوبست کرے۔
دوبے نے بتایا کہ عالمی قیمتوں میں ۲۰؍ فیصد سے۵۰؍ فیصد تک اضافے کو ابتدا میں عارضی سمجھا جا رہا تھا، لیکن جس طرح حالات بن رہے ہیں، لگتا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ مغربی ایشیا میں ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء سے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد ایران نے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت تقریباً بند ہو گئی، جس سے خام تیل اور گیس کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ نتیجتاً خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ فی الحال قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر چل رہی ہے۔عام طور پر دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:تھلاپتی وجے: ایک فلمی فنکار جو خوابوں کو تعبیر عطا کرنے کا ہنر جانتا ہے


حالات نہ بدلے تو قیمتوں میں اضافہ طے
دوبے کے مطابق’’موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مجھے لگتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے اضافے کی مقدار کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا، لیکن یہ ضرور کہا کہ اگر موجودہ حالات طویل عرصے تک برقرار رہے تو قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے۔
 سپلائی سیکوریٹی کے حوالے سے دوبے نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ہندوستان کو بڑے جھٹکوں سے بچانے کا سہرا سفارتی کوششوں اور سپلائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ۲۰؍ لاکھ بیرل سے زیادہ تیل پھنس جانے سے پیدا ہونے والی کمی کو صرف سپلائی کے ذرائع متنوع بنا کر ہی پورا کیا جا سکتا ہے، چاہے وہ روسی تیل ہو، افریقہ سے آنے والا تیل ہو یا کسی اور خطے سے۔

یہ بھی پڑھئے:جاپان: نصف سے زائد معمر خواتین کا تعلقات کیلئے انسانوں کی بجائےاے آئی سے مشورہ


 بی پی سی ایل  اور ہندوستان کی دیگر توانائی کمپنیوں نے اپنے سپلائی ذرائع میں کافی توسیع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دوبے نے کہا’’پہلے ہمارے پاس سپلائی کے صرف ۲۰؍ پوائنٹس تھے، اب یہ بڑھ کر ۴۰؍ ہو گئے ہیں، جن میں روس بھی شامل ہے۔ سپلائی کی ان متنوع لائنوں سے ہمیں کافی تحفظ مل رہا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ہندوستان میں ایندھن کی کھپت بڑھی ہے، اس کے باوجود ہم بغیر کسی کمی کے طلب پوری کرنے میں کامیاب ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK