جان لیوا گرمی میں سینئر اساتذہ بھی ڈیوٹی کرنےپرمجبور، چھٹیوں میں بیشتر خاندانوں کے آبائی وطن جانے سے بھی مردم شماری کا کام متاثرہورہا ہے ۔
ممبرا کے شملہ پارک میں ٹیچر بطور شمارکنندہ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے- تصویر:آئی این این
شدید گرمی میں مردم شماری اور بی ایل او کا کام کرنے والا عملہ بہت پریشان ہے ۔گرمی کی شدت سے ڈیوٹی کرنےوالامتعدد عملہ بیمار پڑ رہا ہے۔ پیر کو مولانا شوکت علی روڈ، دوٹانکی کے قریب تیز دھوپ میں مردم شماری کرتے وقت ایک ۴۳؍سالہ معلم کا بلڈ پریشر بڑھ جانے سے ان کی طبیعت خراب ہوگئی ۔انہیں اسپتال داخل کرنا پڑا ۔ایسی جان لیوا گرمی میں سینئر اساتذہ جن کے ریٹائرمنٹ کو ایک دو مہینہ رہ گیا ہے ، انہیں بھی ڈیوٹی دی گئی ہے ،جس سے وہ پریشان ہیں ۔دریں اثناء گرمی کی چھٹیوں میں بیشتر خاندانوں کے اپنے اپنے آبائی وطن جانے سے مردم شماری کا کام معمول کے مطابق نہیں ہو پا رہا ہے ۔
’’ایڈجسٹ کیجئے کہہ کر دو دو ڈیوٹی دے دی گئی ‘‘
مذکورہ معلم نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ مجھے بلڈپریشر کی شکایت ہے ۔اس کےباوجودمجھے ایک کے بجائے ۲؍ڈیوٹی دی گئی ہے ۔ بی ایل او کےساتھ مردم شماری کی ڈیوٹی کر رہا ہوں حالانکہ متعلقہ محکموں سے اس کی شکایت کی ہے لیکن کہیں بھی شنوائی نہیں ہو رہی ہے ۔’’ ایڈجسٹ کریں‘‘ ، بس یہی جواب دیا جا رہاہے ۔ ایڈجسٹ کرنے کی کوشش میں صبح ساڑھے ۷؍بجے گھر سے نکلتا ہوں ،دونوں ڈیوٹی کرکےدیر رات گھر پہنچتا ہوں جسکی وجہ سے صحت خراب ہو رہی ہے ۔ ‘‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ پیر کی صبح تقریباً ۱۱؍بجے گرمی کی شدت سے اچانک میرا بلڈ پریشر بڑھ گیا، چکر اور قے محسوس ہونےسے پورا جسم پسینہ سے بھیگ گیاتھا۔ ساتھی ٹیچروں کو فون کیا گیا ، تقریباً ایک گھنٹہ بعد مجھے اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے کچھ دوائیں تجویز کیں ۔ ایک دوگھنٹے اسپتال میں رکھا، طبیعت بحال ہونے پر گھر جانے کی اجازت دی ۔ ‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’شدید گرمی سے طبیعت بگڑی تھی ، اس بات کی تصدیق ڈاکٹروں نے کی۔ ایک تو دھوپ کی شدت اور دوسرے دوہری ڈیوٹی سے طبیعت خراب ہوئی تھی ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف میرے ساتھ ایسا ہوا ہے ،تیزدھوپ میںمتواتر ڈیوٹی دینے سے میرے کئی ساتھی بھی صحت ٹھیک نہ ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔ ‘‘
ایک معلمہ کو پیروں میں تکلیف ہے پھربھی کام دیا گیا
ایک سینئر ٹیچر نے بتایا کہ ’’ مجھے ریٹائر ہونے میں صرف چند مہینے باقی ہیں ،اسکے باوجود مردم شماری کی ڈیوٹی کرنے پر مجبور ہوں ۔ شدید گرمی میں ڈیوٹی کرنے میں دشواری ہو رہی ہے لیکن محکمہ ماننے کو تیار نہیں ہے ۔‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ ایک معمر خاتون ، جنہیں ریٹائر ہونے میں صرف ایک مہینہ باقی ہے ،انکے پیروں میں تکلیف بھی ہے ، انہیں چلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کے باوجود انہیں ڈیوٹی دی گئی ہے جس سے وہ بہت پریشان ہیں لیکن ان کی شکایت کوئی سننے پر آمادہ نہیں ہے ۔‘‘
مردم شماری کی ڈیوٹی کرنے والے ایک دیگر ٹیچر نے بتایا کہ ’’ بیشتر اساتذہ کی گرمی کی چھٹی منسوخ کر دی گئی ہے ۔ انہیں بی ایل او اور مردم شماری کی ڈیوٹی دی گئی ہے ۔ ان میں سے متعدد اساتذہ کو ایک ساتھ دونوں ڈیوٹی دے دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں بھی اساتذہ چلچلاتی دھوپ میں ڈیوٹی کر رہے ہیں لیکن ڈیوٹی سے متعلق پائی جانے والی بدنظمیوں نے ان کی پریشانیوں کو بڑھا دیا ہے ۔ علاقہ کاصحیح نقشہ اور تفصیلات فراہم نہ کرنے سے کام کرنے میںدقت ہورہی ہے۔‘‘
ممبرا:۱۸۰؍شمار کنندگان ٹوپی اور پوری کٹ سے محروم
مردم شماری کی ڈیوٹی دیتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اسے ’نیشنل ڈیوٹی‘ قرار دیاجاتا ہے اورانکار کرنے پر کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہے لیکن اس سروے پر حاضر ہونے والے شمار کنندگان کو پوری کٹ بھی نہیں دی جارہی ہے۔ ایسی ہی شکایت ممبرا سے موصول ہوئی ہے جہاں پر کڑی دھوپ میں مختلف علاقوں کا دورہ کرنے والے تقریباً ۱۸۰؍ شمار کنندگان کو ٹوپی اور بیگ گویا ادھوری کٹ تقسیم کی گئی ہے۔ ٹوپی نہ ملنے سے شمار کنندہ تیز دھوپ میں علاقہ کا سروے کرنے پر مجبور ہے۔
اسسٹنٹ میونسپل کمشنر نے کیا کہا؟
اس ضمن میں جب مردم شماری کے ممبرا کے انچارج اسسٹنٹ میونسپل کمشنر وجے کاؤلے سے استفسار کیاگیا تو انہوںنے جواب دیا کہ محکمہ مردم شماری کی جانب سے کم کٹ بھیجی گئی تھی اور اسی لئے متعدد شمار کنندگان کو یہ نہیں مل سکی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق مردم شمار کنندگان جن اپنے موبائل کے ایپ سے رجسٹریشن کرنے کی کوشش کی تو وہ نہیں ہو رہا تھا۔لہٰذا سپروائزر کے ذریعے دوبارہ ان کا موبائل نمبر مردم شماری کرنے والی ایپلی کیشن پر رجسٹر کیا گیا اس کے بعد ان کا ایپلی کیشن شروع ہوا۔ شمار کنندگا ن کو اپنے موبائل سے ہی مردم شماری کا سروے کرنا ہے اور شہریوں کی تفصیل درج کرنا ہے۔ایک سپروائزر نے بتایاکہ پیر کو متعدد شمار کنندگان نے انہیں دیئے گئے علاقے کا دورہ کیا اور نقشہ بنایا ہے۔ اس کے بعد انہیں ان کے سپر وائزر سے منظوری لینی ہے اس کے بعد وہ گھر گھر جاکر سروے کر سکیںگے۔
تقریباً ۳۰؍ فیصد شہریوں نے خود شماری کی
ممبرا میں مردم شماری کرنے والے ایک شمار کنندہ نے بتایاکہ ’’ یہ اطمینان بخش بات ہے کہ خود شمار ی کرنے کے تئیں عوام میں بیداری پائی گئی ہے اور اب تک جتنے شہریوں سے بات چیت ہوئی ہے ان میں سے ۳۰؍ فیصد شہریوں نے یکم مئی تا ۱۵؍ مئی خود شماری کر لی ہے۔ اس سے دو فائدے ہیں ایک تو ان کی تفصیل درست درج ہوگی اور دوسرے شمار کنندہ کو زیادہ تفصیل پوچھنا نہیں ہوگی اور سروے جلدی ہو جائے گا۔