اگر واشنگٹن نے تہران کو جوہری پروگرام بند کرنے پر آمادہ کر لیا تو یہ اس کی جیت ہوگی اور اگر ایران اپنا جوہری پروگرام جاری رکھنے میں کامیاب رہا تو اسے اس کی فتح قرار دیاجائے گا۔
ایران جنگ۔ تصویر:آئی این این
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ رکی ہوئی ہے اور کسی صلح کو حتمی شکل دینے کی تگ ودو جاری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس جنگ میں فتح کس کی ہوئی ؟ امریکہ سے پوچھا جائے تو وہ خود کو فاتح قرار دے رہا ہے اور ایران سے سوال کرنے پر وہ اپنی جیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈو نالڈ ٹرمپ بار بار کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے ایران میں اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں لیکن ان دعوئوں کے ساتھ صلح کی کوشش بھی پوری شدومد کے ساتھ جاری ہے۔ امریکہ نے صلح کیلئے ۱۴؍ نکاتی تجویز پیش کی ہے۔ وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اس ۱۴؍ نکاتی مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کے قریب ہے۔
یہ دستاویز ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور علاقائی کشیدگی سے متعلق وسیع تر مذاکرات کیلئے ایک فریم ورک تیار کرے گی۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے اپنا جواب دے گا مگر کچھ سینئر ایرانی سیاستدان پہلے ہی اسے مسترد کر چکے ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ایک ترجمان نے ٹویٹ کیا’’ امریکی اس جنگ سے کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے، جسے وہ ہار رہے ہیں۔ یہ تجاویز محض’امریکی خواہشات‘ کی فہرست ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی تجویز میں کہا گیا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے بڑے حصے کو ۲۰؍ سال کیلئے معطل کرنا ہوگا، اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے حوالے کرنے ہوں گے اور بین الاقوامی معائنوں کی اجازت دینی ہوگی۔ نیز اس معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی ضمانت دینی ہوگی۔اسکے بدلے میں امریکہ بتدریج پابندیاں اٹھائے گا، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے گا اور ممکنہ طور پر معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ایران کو محدود سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت دے گا۔
لیکن کئی ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ شرائط سمجھوتے سے زیادہ ہتھیار ڈالنے جیسی محسوس ہوتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کو اسلئے روکا کہ وہ فیصلہ کن نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا اور ’آپریشن فریڈم‘، جسے امریکہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے شروع کیا تھا مگر اچانک ختم کر دیا، خلیجی ریاستوں کو اس تنازع میں مزید گہرائی تک کھینچ سکتا تھا۔اگرچہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا لیکن ان ممالک میں سے کسی نے بھی براہ راست جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سب سے اہم یہ کہ اس دوران ایرانی حکومت نے اپنا وجود قائم رکھا، حالانکہ اس کے کئی رہنمااور اعلیٰ فوجی کمانڈر جنگ کے دوران مارے گئے۔ ایران کا سیاسی اور فوجی نظام کام کرتا رہا اور ان کی جگہ جلد ہی نئے افراد تعینات کر دیئے گئے۔جنگ سے پہلے تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ ایک تیز رفتار فوجی مہم، جسکے دوران سینئر ایرانی لیڈران اور کمانڈر مارے جائیں، حکومت مخالف مظاہروں کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے اور ممکن ہے کہ اس سے نظام کے خاتمے تک کی نوبت آ جائےلیکن ایسا نہیں ہوا۔جنگ سے پہلے مہینوں جن مظاہروں نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہ بڑی حد تک سڑکوں سے غائب ہو گئے۔ سیکوریٹی فورس نے کنٹرول سخت کر دیا، گرفتاریاں بڑھ گئیں اور کچھ لوگوں کو سزائے موت بھی دی گئی۔ جبکہ میڈیا میں بار بار مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں ہونے والی ریلیوں کو دکھایا جانے لگا۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹویٹ کیا’ ’ہم بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا جاری رہنا امریکہ کیلئے ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ ہم نے تو ابھی آغاز بھی نہیں کیا۔‘
ایران کی قیادت کیلئے محض برقرار رہنا ہی شاید کامیابی ہے، خاص طور پر جب تہران خطے میں امریکی اڈوں اور شہری بنیادی ڈھانچے اور اسرائیل میں پہنچنے والے نقصان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تہران لڑائی کے ایک اورمرحلے سے بچنے کیلئے بے چین دکھائی نہیں دیتا۔ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ان کا ملک اپنے مخالفین کے مقابلے میں معاشی دباؤ، فوجی دباؤ اور طویل جنگوں کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے یہ ظاہر کر دیا کہ عالمی معیشت پر ایران کا اثر و رسوخ اب بھی کتنا زیادہ ہے۔یہ آبی راستہ محض توانائی کی گزرگاہ ہی نہیں رہا، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ثابت ہوا۔اب ایران آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کو کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک مذاکراتی ہتھیار سمجھتا ہے۔ ایران اس تنازع سے مضبوط ہو کر ابھر سکتا ہے، خاص طور پر اُن ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں جہاں امریکی اڈے قائم ہیں یا جنھوں نے جنگ کے دوران بالواسطہ طور پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران نے اپنی تمام خواہشات پوری کر لیں۔ملک کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا، اس نے اعلیٰ فوجی شخصیات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو کھو دیا اور وہ اب بھی شدید معاشی دباؤ میں ہے جو ممکنہ طور پر دوبارہ احتجاج کو جنم دے سکتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل نے یہ بھی دکھایا کہ وہ جدید ہتھیاروں اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کے ساتھ ایران کے اندر گہرائی تک حملہ کر سکتے ہیں۔لیکن جنگ ہمیشہ صرف میدان میں ہی طے نہیں ہوتی بلکہ جنگ ختم کرنے کیلئے ہونے والے مذاکرات کے نتائج سے بھی جیت ہار ہوتی ہے۔ اگر واشنگٹن ایران کو بڑے جوہری سمجھوتوں پر مجبور کر لیتا ہے، تو یہ امریکہ کی کامیابی ہوگی۔ اگر تہران اپنا علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر روکنے سے بچ جاتا ہے، تو یہ ایران کی جیت ہوگی۔فی الحال دونوں اپنی اپنی جیت کے دعوے کر رہے ہیں۔