• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرکز ی ڈیموگرافی پینل کا ریاستوں سے مذہب کے لحاظ سے ڈیٹا طلب، کانگریس کا احتجاج

Updated: September 29, 2026, 9:06 PM IST | New Delhi

مرکز کا ڈیموگرافی پینل ریاستوں سے مذہب کے لحاظ سے ڈیٹا طلب کر رہا ہے، سوالنامے میں ریاستوں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا غیر معمولی مذہبی آبادیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے نگرانی مضبوط کرنے اور کارروائی کے لیے نئی قانون سازی درکار ہے،اس میں آپریشنل حراستی مراکز اور غیر دستاویزی تارکین وطن کی جلاوطنی یا وطن واپسی کے بارے میں بھی معلومات طلب کی گئی ہیں، کانگریس نے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے ’واضح طور پر شیطانی ایجنڈا‘ قرار دیا،

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہائی لیول کمیٹی آن ڈیموگرافک چینجز (HLCDC)، جو باضابطہ طور پر۲۶؍ مئی۲۰۲۶ء کو قائم کی گئی اور جس کی سربراہی ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج جسٹس پرکاش پربھاکر ناؤلیکر کر رہے ہیں، نے ریاستوں سے۱۵؍ سال کا مذہب کے لحاظ سے ڈیٹا طلب کیا ہے، جس میں پیدائش اور گاڑیوں کی رجسٹریشن، اسکول میں داخلے، جائیداد کے لین دین، اور آدھار، ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ کی رجسٹریشن میں غیر معمولی اضافے جیسے شعبے شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومتیں۳۵؍ نکاتی سوالنامے کا جواب دینے میں دشواری کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ وہ عام طور پر مذہب کی بنیاد پر ایسی معلومات نہیں رکھتیں۔

یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن کیخلاف ناندیڑ، امراوتی اور ناگپور سمیت دیگر شہروں میں احتجاج

دریں اثناء کمیٹی نے گزشتہ۱۵؍ سالوں میں قائم مذہبی عمارتوں کی ضلع وار تفصیلات، شیڈول ٹرائب برادریوں میں مذہبی تبدیلیوں کا ڈیٹا، اور ایسے افراد کی ووٹر رجسٹریشن سے متعلق معلومات طلب کی ہیں جن کے پاس گزشتہ نسل کے پیدائشی سرٹیفکیٹ یا خاندانی ریکارڈ نہیں۔علاوہ ازیںپینل نے آپریشنل حراستی مراکز اور غیر دستاویزی تارکین وطن کی جلاوطنی یا وطن واپسی کے بارے میں بھی معلومات طلب کی ہیں۔ ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فہرست میں شامل زمروں میں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، مسلمانوں، پارسیوں اور بدھسٹوں کا مذہب کے لحاظ سے ڈیٹا مرتب کریں۔مزید برآں رپورٹ کے مطابق، سوالنامے میں ریاستوں سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا نگرانی مضبوط کرنے اور ”غیر معمولی مذہبی آبادیاتی تبدیلی“ کو تبدیل کرنے کے لیے کارروائی کے لیے نئی قانون سازی درکار ہے۔
واضح رہے کہ اس پینل کو مرکزی وزارت داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن اور دیگر ”غیر معمولی وجوہات“ سے منسوب آبادیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کے لیے قائم کیا تھا۔کمیٹی نے جموں کے علاقے کا دورہ کیا ہے اور مہاراشٹر کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔یہ کمیٹی کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کی جانب سے۲۰۰۵ء میں مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے سچر کمیٹی تشکیل دینے کے دو دہائیوں بعد قائم کی گئی۔تاہم بی جے پی اور کئی دائیں بازو گروپوں نے سچر کمیٹی رپورٹ کو ”اقلیتوں کی خوشامد“ اور ”ووٹ بینک سیاست“ کا ذریعہ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اُجین میں سخت احتجاج کے باوجود مسلمانوں کو مسجد کے ایک حصے کو ہٹانا پڑا

تاہم کانگریس پارٹی نے سوالنامے پر سخت تنقید کی اور کمیٹی پر الزام لگایا ساتھ ہی اسے ”واضح طور پر شیطانی ایجنڈا“ کہہ رہی ہے۔کانگریس لیڈر جئے رام رمیش ریاستوں کو بھیجے گئے کمیٹی کے سوالنامے سے متعلق رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر لکھا، ”اس پینل کا واضح طور پر شیطانی ایجنڈا ہے اور اس نے پہلے سے طے شدہ تعصبات کو واضح طور پر بیان کیا ہے، اس کی رپورٹ پہلے ہی تیار ہو چکی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔“واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے۱۵؍ اگست۲۰۲۵ء کو ”ہائی پاورڈ ڈیموگرافی مشن“ کا اعلان کیا تھا۔ مرکزی کابینہ نے۱۱؍ ستمبر۲۰۲۵ء کو اس تجویز کی منظوری دی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK