• Mon, 05 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرکز نے ’گروک ‘ سے فحش مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا،۷۲؍ گھنٹوں میں رپورٹ مانگی

Updated: January 04, 2026, 10:58 AM IST | New Delhi

حکومت نے ہندو ستا ن میں ایکس کے چیف کمپلائنس آفیسر کو راست نوٹس بھیجا ،اے آئی سے تخلیق کردہ قابل اعتراض مواد کو معاشرہ کیلئے نقصاندہ قراردیا

Grok
’گروک

ہندوستانی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی مرکزی وزارت نے کمپنی کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے اسے فوری طور پر فحش، قابل اعتراض اور غیر قانونی مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ یہ کارروائی خاص طور پر ایکس کے اے آئی ٹول گروک کا استعمال کرتے ہوئے تخلیق کئے جانے والےمواد سے متعلق ہے۔
 ۲؍ جنوری کو جاری ہونے والے حکومتی حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اے آئی گروک کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا مواد جو قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے یا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے اسے فوری طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے۔ ان ہدایات کی تعمیل میں ناکامی کی صورت میں ایکس کے خلاف قانونی کارروائی کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔ ایکس کو۷۲؍ گھنٹے میںنوٹس    کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کیلئےکہا گیا ہے۔
چیف کمپلائنس آفیسر کو نوٹس بھیجا گیا
 مرکزی حکومت نے اس سلسلے میں ہندو ستا ن میں ایکس کے چیف  کمپلائنس آفیسر کو براہ راست نوٹس بھیجا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی اپنی قانونی ذمہ داریوں کی صحیح طریقے سے تعمیل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ یہ خلاف ورزی سنگین زمرے میں آتی ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آئی ٹی ضوابط کی خلاف ورزی پر حکومت برہم
 ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ایکس پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰ءاور آئی ٹی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اور ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز، سنہ۲۰۲۱ء کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ثالث کے طور پر ایکس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر غیر قانونی مواد کو پھیلنے سے روکے۔
اے آئی کا غلط استعمال باعث تشویش
 حکومت کے مطابق بہت سے صارفین اے آئی گروک کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ دوسرے صارفین، خاص طور پر خواتین کی تصاویرکو بگاڑ کر پیش کررہے ہیں۔ اس سے نہ صرف پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ سائبر کرائم بھی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب گروک تنازع میں الجھ گیا ہو۔ اس سے قبل بھی یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ ملازمین کو گروک ٹریننگ کے دوران انتہائی قابل اعتراض مواد دیکھنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK