Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دھرندھر‘‘ کا اثر؛ ’’کنگ‘‘ اور ’’لو اینڈ وار‘‘ بھی دو حصوں میں ریلیز ہوسکتی ہیں

Updated: January 03, 2026, 7:01 PM IST | Mumbai

رنویر سنگھ کی ’’دھرندھر‘‘ نے ہندوستانی سنیما میں ایک نیا رجحان قائم کر دیا ہے، جس کے اثرات بڑے فلمسازوں اور اسٹارز کے فیصلوں پر پڑ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں شاہ رخ خان اور سنجے لیلا بھنسالی اپنی فلموں ’’کنگ‘‘ اور ’’لو اینڈ وار‘‘ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رنویر سنگھ کی بلاک بسٹر ’’دھرندھر‘‘ ہندوستانی فلم انڈسٹری کیلئے ایک حقیقی معیاری فلم بن کر ابھری ہے جس نے نہ صرف باکس آفس پر تاریخ رقم کی بلکہ اس پیمانے کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے جس پر اب ہندوستانی سنیما سوچتا اور کام کرتا ہے۔ ’’دھرندھر‘‘ کی کامیابی نے کاروباری ماڈلز، بجٹس اور کہانی سنانے کے طریقوں کو نئی سمت دی ہے، ایسی سمت جس کی پیش گوئی بہت کم لوگوں نے کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ’’دھرندھر‘‘ کا سیکوئل اب ہندوستانی سنیما کے سب سے زیادہ بے صبری سے متوقع پروجیکٹس میں شمار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایک ایسے سال میں جب ’’رامائن: پارٹ ون‘‘ جیسی بڑی فلموں کی ریلیز پہلے ہی لائن اپ میں شامل ہیں۔ ’’دھرندھر‘‘ کی کامیابی کے اثرات پوری انڈسٹری میں واضح طور پر محسوس کئے جا رہے ہیں، جو فلمسازوں کے عزائم، توقعات اور بیانیہ انتخاب کو متاثر کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دھرندھر ۲‘‘ کا خوف: اکشے کمار اورپریہ درشن کی ’’بھوت بنگلہ‘‘ کی ریلیز مؤخر

اسی پس منظر میں، اطلاعات کے مطابق شاہ رخ خان اور سنجے لیلا بھنسالی اپنی آنے والی فلموں ’’کنگ‘‘ اور ’’لو اینڈ وار‘‘ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے امکان پر بات چیت کر رہے ہیں۔ بالی ووڈ ہنگامہ سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ ’’کنگ‘‘ اور ’’لو اینڈ وار‘‘ دونوں ہی بڑے بجٹ کی فلمیں ہیں اور پروڈکشن لاگت کے معاملے میں کاغذی منصوبہ بندی سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ جیسا کہ ’’دھرندھر‘‘ نے ایک نیا رجحان قائم کیا ہے، اسی طرح شاہ رخ خان اور سنجے لیلا بھنسالی دونوں اپنی اپنی فلموں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور چھ ماہ سے کم وقفے میں ریلیز کرنے پر غور کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’درشیم ۳‘‘ میں جے دیپ اہلاوت، اکشے کھنہ کا کردار نہیں ادا کررہے ہیں

اطلاعات کے مطابق ’’ لو اینڈ وار‘‘ اس وقت اگست ۲۰۲۶ء کی ریلیز ونڈو پر نظریں جمائے ہوئے ہے، جبکہ ’’کنگ‘‘ کو ستمبر ۲۰۲۶ء یا مارچ ۲۰۲۷ء میں سنیما گھروں میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسی صورت میں کیا جائے گا جب دونوں فلموں کے پاس دو حصوں میں تقسیم کیلئے مناسب اور وافر فوٹیج موجود ہوگی۔ فی الحال دونوں فلمیں شوٹنگ کے مرحلے میں ہیں اور یہ گفتگو ابتدائی نوعیت کی ہے۔ حتمی فیصلہ ایڈیٹنگ ٹیبل پر ’’دھرندھر‘‘ کی کامیابی کے مکمل جائزے کے بعد کیا جائے گا کہ فلمیں ایک حصے میں آئیں گی یا دو حصوں میں۔

یہ بھی پڑھئے: کپل شرما کی ’’کس کس کو پیار کروں ۲ ‘‘ ۹؍ جنوری کو دوبارہ ریلیز ہوگی

خیال رہے کہ انڈسٹری میں یہ رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ فلم ساز جان بوجھ کر اسکرپٹس کو توسیع شدہ فارمیٹس میں تیار کر رہے ہیں، تاکہ دو حصوں پر مشتمل بیانیہ ماڈل کے ذریعے بڑی فرنچائز فلموں کی کامیابی کو دہرایا جا سکے۔ ذرائع نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ دو حصوں کا مطلب صرف سیٹیلائٹ اور ڈجیٹل حقوق سے زیادہ آمدنی نہیں بلکہ ذیلی کہانیوں (سب ٹریکس) کو دریافت کرنے کی تخلیقی آزادی بھی ہے۔ ’’دھرندھر‘‘ نے تخلیق کاروں اور کاروباری حلقوں، دونوں جگہ ایک نیا نقطۂ نظر پیدا کیا ہے۔ آنے والے چند ماہ بے حد دلچسپ ہوں گے۔‘‘ واضح رہے کہ ’’دھرندھر‘‘ کا دوسرا حصہ ۱۹؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو ریلیز ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK