مرکزی حکومت نے سناتن راشٹر شنکھ ناد مہوتسو پروگرام کیلئے ۶۳؍ لاکھ روپئے ادا کئے جہاں مقررین نے مسلمانوں کو ہٹانے اور ہندوراشٹر کے قیام کا مطالبہ کیا ۔
EPAPER
Updated: February 18, 2026, 12:03 PM IST | New Delhi
مرکزی حکومت نے سناتن راشٹر شنکھ ناد مہوتسو پروگرام کیلئے ۶۳؍ لاکھ روپئے ادا کئے جہاں مقررین نے مسلمانوں کو ہٹانے اور ہندوراشٹر کے قیام کا مطالبہ کیا ۔
دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے’’ سناتن راشٹر شنکھ ناد مہوتسو‘‘کے لیے۶۳؍ لاکھ روپے ادا کیے، جو سناتن سنستھا کے زیر اہتمام منعقد ہوا تھا۔ اس پروگرام میں مقررین نے ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دینے کا مطالبہ کیا اور اشتعال انگیز مطالبات کیے جن میں ۲۵؍ فیصد ہندوستانی مسلمانوں کو ہٹانے کے ساتھ مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب، اور `بڑے پیمانے پر جلاوطنی کے مطالبات شامل تھے۔فرقہ وارانہ بیانیہ پھیلانے والے نیٹ ورکس کے بارے میں اپنی تحقیقات کے حصے کے طور پر، دی کوئنٹ نے متعلقہ وزارتوں سے یہ معلوم کرنے کے لیے ایکحق معلومات (آر ٹی آئی) درخواست دائر کی کہ آیا اس پروگرام کے لیے سرکاری فنڈز مختص کیے گئے تھے۔اپنے جواب میں، مرکزی وزارت ثقافت نے تصدیق کی کہ اس نے۱۳؍ سے۱۵؍ دسمبر۲۰۲۵ء تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ،’’سناتن راشٹر شنکھ ناد مہوتسو‘‘کے انعقاد کے لیے سناتن سنستھا، سناتن آشرم، رام ناٹھی گاؤں، پونڈا، گوا کو۶۳؍ لاکھ روپے کی مالی امداد منظور کی تھی۔بعد ازاں وزارت نے کہا کہ یہ امداد قومی گیت ،’’وندے ماترم‘‘ کے ۱۵۰؍ ویں سال کی یادگاری تقریبات کے تحت فراہم کی گئی تھی۔تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اخراجات کی تفصیلی تقسیم وزارت کے پاس دستیاب نہیں ہے۔
دریں اثناءپروگرام میں مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر اور ہندو راشٹرکے قیام کے مطالبات کیے جانے کے بعد اس فنڈنگ کی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ سناتن راشٹر شنکھ ناد مہوتسو میں متعدد مقررین نے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر آبادیاتی اور سیاسی تبدیلیوں کے بیانات دیے۔ان میں سے، سدرشن ٹی وی کے سربراہ سریش چوہانکے نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں موجودہ۲۵؍ فیصد مسلمان پڑوسی ممالک کےدرانداز ہیںاور انہیں ہندوستان سے نکالنےکے لیے این آر سی کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ اس نے یہ بھی تجویز کیا کہ مسلمانوں کی آبادی کی حد مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ بی جے پی لیڈر اشونی کمار اپادھیائے نے مسلمانوں کو اقتدار کے خوف سے ہندو مذہب قبول کرنے کا خیال پیش کیا اور ہندوؤں پر زور دیا کہ وہ فعال طور پر تبدیلی مذہب کی کوشش کریں، یہ کہتے ہوئے کہ اگر ہر ہندو ایک مسلمان کا مذہب تبدیل کر ے تو ایک وسیع تر مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مبینہ طور پر اس نے یہ بھی تجویز کیا کہ کاروباری مالکان اپنے ملازمین کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’وندے ماترم کی مخالفت غداری تصور کی جائے گی‘‘
اس کے علاوہ ہندو فنڈ کے راہل دیوان نے’’ آئینی ہندو راشٹر‘‘کے قیام کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا۔ ایک اور تبصرے میں، اس نے بڑے پیمانے پر تشدد کی تصویر کشی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مٹھائیوں میں امونیم نائٹریٹ ملا دیا گیا تو لاکھوں ہندو مر جائیں گے ۔ بعد ازاں دی کوئنٹ کے ایڈیٹر آدتیہ مینن نے اس پروگرام کے لیے فنڈ دینے کے حکومتی فیصلے پر سوال اٹھایا، کہا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ۶۰؍ لاکھ روپے بڑی رقم ہے یا چھوٹی، بلکہ یہ ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ایسے پروگرام کی حمایت میں کیوں استعمال کیا جا رہا ہے جہاں ایک معاشرے کا صفایا کرنے جیسے مطالبات کیے گئے۔مزید برآں انہوں نے پوچھا کہ’’ عوامی فنڈز ایسی تقریب پر کیوں خرچ کیے جائیں، ان کے مطابق، جو ہندو راشٹرکے قیام کا مطالبہ کرے، جوبذات خود آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔‘‘