مدنی ہائی اسکول کی ٹیم، عنقریب شروع ہونے والے ایس ایس سی امتحان کے طلباء سے ان کے گھروںپر جاکر ان کی تیاری کا جائزہ لے رہی ہے،جو طلباء دشوارکن حالات میں پڑھائی کررہے ہیں،ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے،یہ ایسے طلباء ہیں جو مالی مشکلات کےباوجود پڑھنا لکھنا چاہتےہیں۔
مدنی ہائی اسکول کے معلم آزادشیخ اور عاطف باسن جوگیشوری بہرام باغ میں طلبا زید اور عبدالاحد سے بات چیت کرتے ہوئے۔ نیلی شرٹ میں نمائندہ انقلاب سعادت خان بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔ تصویر:آئی این این
دسویں جماعت کے امتحان کا آغاز ۲۰؍فروری سے ہو رہا ہے۔ایسےمیں جوگیشوری (مغرب) میں واقع مدنی ہائی اسکول کی اساتذہ کی ٹیم نے بالخصوص پریلیم امتحان میں ناقص کارکردگی پیش کرنےوالے طلباء کے گھروںپر جاکریہ جائزہ لینےکی کوشش کی ہےکہ اسٹڈی لیوکے دوران یہ طلباء تیاری کس طرح کر رہے ہیں۔ جو بچے پڑھائی پرتوجہ نہیںدے رہےہیں،ان کی رہنمائی کی جارہی ہے۔انہیں حوصلہ دیاجارہاہے۔ ان کے والدین اور سرپرستوںسے توجہ دینےکی اپیل کی جارہی ہے۔اُنہیں ، آخری دنوں میں مؤثر تیاری کے حوالے سے ضروری ہدایات بھی دی جارہی ہیں۔
مہم کےدوران بعض افسوسناک سچائیاں سامنے آئی ہیں۔ کئی طلباء انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ پڑھائی کرنا چاہتےہیں۔ انہیں پڑھنےکا شوق بھی ہے لیکن دشوارکن مسائل اور محدود وسائل کا سامناہے۔ ان میں ایک طالب علم ایسا ہے جو مرحوم والد کا کھانے پینے کااسٹال سنبھالتے ہوئے امتحان کی تیاری کررہاہے۔ اسی طرح ایک طالب علم ایسا ہے،جس کے مکان کےاطراف گندگی، غلاظت اور تعفن ہے۔ گھر کے نام پر وہاں کچھ نہیں ہے، ایسے حالات میں بھی وہ اپنی پڑھائی سے متعلق پُر عزم ہے۔ اسی طرح ایک طالب علم کی پرورش اس کی والدہ اوربہن کررہی ہیں۔ والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ والدہ ایک مال میں سیکوریٹی گارڈ اور بہن کسی فرم میں ملازمت کررہی ہے۔ دونوں اسے پڑھانے کی کوشش کررہی ہیں ۔ وہ بھی پڑھائی کر کے کامیاب انسان بنناچاہتاہے۔ ایسے کئی طلباء ہیں جو غربت اور محرومی کے باوجود اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئے کوشاں ہیں۔
یہ ٹیم ، نمائندہ انقلاب جس کے ساتھ تھا،رام مندر اسٹیشن کےقریب واقع جھوپڑپٹی کے علاقہ میں پہنچی ،جہاںرہائش پزیر ارمان عبدالرحیم خان کے والد کا انتقال ہوچکاہے ۔ اس کےوالد یہیں سڑک کےکنارے پلائو فروخت کرتےتھے۔ ان کی موت کےبعد ان کابڑابیٹا اور ارمان اس کاروبار کو سنبھال رہےہیں لیکن کسی ضروری کام سےبڑا بھائی گزشتہ ایک مہینے سے گائوں گیاہے ،جس کی وجہ سے پوری ذمہ داری ارمان پر آگئی ہے ۔اس وجہ سےاسے پڑھائی کاخاطر خواہ وقت نہیں مل رہاہے۔ وہ ایک مہینہ اسکول سے غیر حاضر بھی رہا۔ اس کےباوجود وہ ایس ایس سی امتحان دینےکی تیاری کررہاہے۔ دھندہ کرنےکےبعد بچ جانے والے وقت میں پڑھائی کررہاہے۔ٹیم کے ارکان وہاں پہنچے تو وہ پلائو کے دھندہ پر مصروف تھا۔ اس نے اس ٹیم سے وعدہ کیاکہ وہ امتحان میں اچھے نمبرات سے کامیاب ہونے کی پوری کوشش کرےگا۔ دکان سنبھالنےکیلئے وہ ایک شخص کا بندوبست بھی کررہاہے۔‘‘
اسی علاقہ کا ایک دوسرا طالب علم منصوری شعیب اصغرعلی کچی آبادی میں رہتاہے،جہاں گندگی، غلاظت اور تعفن ہے۔وہاں کوئی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہے۔اس لئے ، اس کی پڑھائی متاثرہے۔ ایسے میں مدنی اسکول انتظامیہ نے اسے اسکول میں پڑھائی کرنےکی پیشکش کی ہے۔ گلشن نگر،بہرام باغ کا اویس رئیس احمد ایس ایس سی امتحان میں امتیازی نمبرات سے کامیابی کامتمنی ہے ،حالانکہ اس کے بھی گھریلوحالات اچھے نہیں ہیں۔ اس کےوالد کا انتقال ہوچکا ہے۔ وہ اپنی ماں اور بہن کی خواہش کےمطابق ایس ایس سی میں عمدہ نمبرات سے کامیابی حاصل کرکے آگے کی پڑھائی کرناچاہتاہے۔
اس دوران کچھ ایسے طلباء سےبھی ملاقات ہوئی جن کے مالی حالات مستحکم ہیں لیکن وہ اور ان کے والدین پڑھائی سےمتعلق سنجیدہ نہیں۔مدنی اسکول کے پرنسپل عامر انصاری،معلم آزاد علی جواد علی شیخ، عبدالقدیر، انصاری انیس اور عاطف باسن نےطلباء اور سرپرستوںسےبہ اصرار کہاکہ امتحان میںچند دن باقی ہیں چنانچہ وقت ضائع نہ کریں، اورپڑھائی پر پوری توجہ دیں۔ جن طلباء کی رہائش گاہوںکا دورہ کیاگیا اُن کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں ایک کمپاس باکس اور تھوڑی بہت نقدی فوری طورپردرکار تعلیمی اشیاء خریدنےکیلئے دی گئی ۔