دہلی : وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے سامنے گزشتہ جیت دُہرانے کا چیلنج

Updated: January 13, 2020, 12:30 pm IST | Agency | New Delhi

اگلے ماہ ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے سامنے اپنا سب سے مضبوط قلعہ بچانے کا چیلنج ہے۔

 دہلی : وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے سامنے گزشتہ جیت دُہرانے کا چیلنج
اروند کیجریوال ۔ تصویر : ٹویٹر

 نئی دہلی (ایجنسی):اگلے ماہ ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے سامنے اپنا سب سے مضبوط قلعہ بچانے کا چیلنج ہے۔ گزشتہ انتخابات میں دہلی اسمبلی کی ۷۰؍ میں سے۶۷؍نشستیں جیتنے والےکیجریوال کا جادو اس وقت چلے گا یا نہیں اس پر پورے ملک کی نگاہیں ہیں۔ کیجریوال اپنے پانچ سال کی مدت کے دوران خاص طور سے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کئے گئے کاموں کو گناتے ہوئے اس بار بھی پورے اعتماد میں ہیں جبکہ سیاسی پنڈتوں کا بھی خیال ہے کہ گزشتہ انتخابات میں اروند کیجروال نے جو کرشمہ دکھایا تھا ،اس سال بھی وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
 سال ۲۰۱۳ء کے دہلی اسمبلی انتخابات سے کچھ وقت پہلے ہی ’آپ‘ کی تشکیل ہوئی تھی اور اس مرتبہ کے انتخابات میں دہلی میں پہلی بار سہ رخی مقابلہ ہواجس میں ۱۵؍ سال سے اقتدار پر قابض کانگریس۷۰؍ میں سے صرف۸؍ سیٹیں جیت پائی جبکہ  بی جے پی حکومت بنانے سے صرف چار قدم دور یعنی۳۲؍ سیٹوں پر پھنس گئی۔’آپ‘کو۲۸؍ سیٹیں ملیں اور باقی ۲؍ دیگر کے کھاتے میں گئیں۔بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش میں کانگریس نے ’آپ‘ کو حمایت دی اور کیجریوال نے حکومت بنائی۔لوک پال کی تقرری کے معاملے پر دونوں پارٹیوں کے درمیان ٹھن گئی اور کیجریوال  نے۴۹؍ دنوں میں حکومت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد دہلی میں صدر راج لگا اور فروری۲۰۱۵ء میں ’آپ‘نے تمام سیاسی پنڈتوں کے اندازوں کو جھٹلاتے ہوئے۷۰؍ میں سے۶۷؍ سیٹیں جیتیں۔ بی جے پی تین پر سمٹ گئی جبکہ کانگریس کی جھولی خالی رہ گئی۔
 دہلی میں ۲۰۱۵ء  میں ’آپ‘ کو ملی زبردست کامیابی کے وقتکیجریوال کے ساتھ کئی بڑے لیڈر تھے مگر اقتدار میں آنے کے بعد وہ ایک ایک کرکے کنارے کر دئیے گئے۔ ان میں یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن اور آنند کمار سب سے اہم تھے۔ پارٹی کے ایک اور اہم چہرہ کمار وشواس پارٹی میں تو ہیں مگر ایک طرح سے  بن باس ہی بھگت رہے ہیں۔ ’آپ‘نے دہلی اسمبلی انتخابات اور۲۰۱۴ء اور۲۰۱۹ءکے عام انتخابات کے علاوہ اس دوران مختلف ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی حصہ لیا۔پنجاب اسمبلی کو چھوڑ دیا جائے تو اس کی جھولی خالی ہی رہی بلکہ بڑی تعداد میں اس کے امیدواروں کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی۔ گزشتہ عام انتخابات میں پنجاب میں چار سیٹیں جیتنے والی ’آپ‘  اس بار ایک پر ہی سمٹ گئی۔کیجریوال کی پارٹی میں نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو چھوڑ دیا جائے تو شاید ایسا کوئی لیڈر نہیں ہے جس کی پوری دہلی پرمضبوط گرفت نظر آتی ہو۔بی جے پی۲۱؍ سال سے دہلی کے اقتدار سے باہر ہے اور وہ اس بار وزیر اعظم مودی کی شبیہ اور حال ہی میں۱۷۳۱؍کچی کالونیوں کو مستقل کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلہ  پر اپنا مضبوط دعویٰ ٹھونکنے کی بات کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے بعد دہلی میں تینوں شہر کارپوریشنز کے انتخابات میں دارالحکومت کے عوام نے ’آپ‘ کو مسترد کردیا اور اس بار لوک سبھا انتخابات میں اس کی حالت گزشتہ عام انتخابات سے بھی بدتر ہوئی۔ پارٹی کانگریس کی سرگرمیوں کا فائدہ ملنے کی امید کر رہی ہے۔کانگریس نے حال ہی میں اپنے پرانے لیڈر سبھاش چوپڑا کو کمان سونپی ہے اور وہ تمام پرانے  لیڈروںکو متحد کرکےپارٹی کا منشور آنے سے پہلے ہی اقتدار میں آنے پر عوام سے پرکشش وعدے کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK