محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی اور اطراف کی ریاستوں میں درجہ حرارت ابھی سے ۳۰؍ ڈگری کے قریب پہنچ گیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 10:04 AM IST | Agency | New Delhi
محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی اور اطراف کی ریاستوں میں درجہ حرارت ابھی سے ۳۰؍ ڈگری کے قریب پہنچ گیا ہے۔
قومی راجدھانی دہلی سمیت شمالی ہندوستان کی زیادہ تر ریاستوں میں فروری کے دوسرے ہفتے میں ہی موسم کا مزاج بدل گیا ہے۔ دن میں تیز چمکتی دھوپ کے ساتھ گرمی کا احساس ہونے لگا ہے۔ ساتھ ہی سردی کے جانے کا اشارہ بھی صاف طور پر نظر آنے لگا ہے۔ گزشتہ ۳؍روز سے تیز ہواؤں کے تھمنے کے بعد دوپہر کی دھوپ تیز محسوس کی جا رہی ہے۔ شمالی ہندوستان کی ریاستوں میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اگر یہی حال رہا تو فروری کے ختم ہونے کے پہلے ہی ہولی کے بعد والی گرمی کا احساس ہونے لگے گا۔محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) اور اسکائی میٹ ویدر کی تازہ پیش گوئی کے مطابق فروری ماہ معمول سے زیادہ گرم رہنے والا ہے۔ دہلی-این سی آر کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت ۲۸؍ سے ۳۰؍ ڈگری تک پہنچ رہا ہے جو فروری کے حساب سے کافی زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یوپی اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن نے ناکام قرار دیا
شمالی ہندوستان کی زیادہ تر ریاستوں میں فروری کی شروعات میں ہی زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۱۸؍ ڈگری کے اوسط سے بڑھ کر ۲۶؍ ڈگری پہنچ چکا ہے۔ واضح رہے کہ ۱۱؍ فروری کو بھی دہلی میں آسمان صاف ہے۔ کم از کم درجہ حرارت ۱۲؍ ڈگری کے آس پاس اور زیادہ سے زیادہ ۲۸؍ ڈگری تک رہ سکتا ہے۔ جبکہ پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور اترپردیش کے میدانی علاقوں میں بھی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اس بار موسم سرما جلد رخصت ہو رہا ہے اور فروری کے اخیر تک گرمی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ممبئی، چنئی اور بنگلورجیسے شہروں میں فروری میں ہی گرمی نے دستک دے دی ہے۔ ممبئی میں اس وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۳۳؍ سے ۳۵؍ ڈگری کے قریب پہنچ گیا ہے، جو معمول سے ۴؍ڈگری زیادہ ہے۔
جنوبی ہندوستان میں بھی کم سے کم درجہ حرارت ۲۱؍ سے ۲۲؍ڈگری کے آس پاس رہا ہے، جس کی وجہ سے راتیں بھی گرم لگ رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ فروری میں ملک کے زیادہ تر حصوں میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اس بار سردیوں کا دورانیہ مختصر رہا ہے۔ مغربی خلل کمزور پڑ گئے ہیں اور دن میں سورج کی تپش بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ راتیں اب بھی ٹھنڈی ہیں۔ یہ ماحولیاتی تبدیلی کی ایک علامت بھی ہو سکتی ہے۔