Updated: October 08, 2026, 10:04 PM IST
| London
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق گندم، سیب اور گاجر میں ۱۹۶۰ء کی دہائی کے مقابلے اب غذائیت نصف رہ گئی ہے۔ تحقیق میں اس کمی کی وجہ مٹی کے گرتے ہوئے معیار کو قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق میں پایا گیا کہ ۶۰ سال پہلے کے برابر پوٹاشیم، میگنیشیم یا تانبے جیسے معدنیات حاصل کرنے کیلئے آج کے لوگوں کو دوگنے پھل اور سبزیاں کھانے کی ضرورت ہوگی۔ اناج، روٹی، گاجر، سیب اور مٹر سمیت غذائی اجناس نے کئی اہم غذائی اجزاء کا ۲۰ سے ۵۰ فیصد تک حصہ کھو دیا ہے۔
’ڈیپ سائنس وینچرز‘ (DSV) کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق گندم، سیب اور گاجر میں ۱۹۶۰ء کی دہائی کے مقابلے اب غذائیت نصف رہ گئی ہے۔ تحقیق میں اس کمی کی وجہ مٹی کے گرتے ہوئے معیار کو قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق میں پایا گیا کہ ۶۰ سال پہلے کے برابر پوٹاشیم، میگنیشیم یا تانبے جیسے معدنیات حاصل کرنے کیلئے آج کے لوگوں کو دوگنی مقدار میں پھل اور سبزیاں کھانے کی ضرورت ہوگی۔ اناج، روٹی، گاجر، سیب اور مٹر سمیت غذائی اجناس نے کئی اہم غذائی اجزاء کا ۲۰ سے ۵۰ فیصد تک حصہ کھو دیا ہے۔
محققین نے خبردار کیا کہ فصلوں کی غذائیت میں کمی اور ساتھ ہی اوزیمپک (Ozempic) اور مونجارو (Mounjaro) جیسی جی ایل پی-۱ (GLP-1) وزن کم کرنے والی ادویات کے بڑھتے استعمال کا امتزاج برطانیہ کے کام کرنے کی عمر کے تقریباً ۵۰ لاکھ بالغ افراد کو ضروری وٹامنز اور معدنیات کی محفوظ سطح سے نیچے دھکیل سکتا ہے۔ ڈی ایس وی میں آب و ہوا کے سینئر ایسوسی ایٹ ول سمرز نے کہا کہ ”۶۰ برسوں سے ہم نے غذائی تحفظ کی پیمائش کیلوریز اور ٹن فی ہیکٹر میں کی ہے... لیکن ہم نے خاموشی سے اس چیز کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے جو ہماری غذا کے اندر موجود ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے حل افزائشِ نسل، مٹی کی صحت، منڈیوں اور پالیسیوں میں پہلے سے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان سے ’’ٹیک ایکسوڈس‘‘: اے آئی کے بہترین دماغ ملازمت و بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں
تحقیق اس تنزلی کو دہائیوں پر محیط زراعت کے ان طریقوں سے جوڑتی ہے جن میں غذائی اجزاء کے بجائے پیداوار کو ترجیح دی گئی۔ اگرچہ ۱۹۶۰ء کی دہائی سے اناج کی پیداوار میں ۲۱۵ فیصد اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح پر غذائی قلت ۳۵ فیصد سے کم ہو کر ۱۲ فیصد رہ گئی ہے، لیکن اب بھی ۲ ارب سے زیادہ افراد کم از کم ایک طبی مائیکرو نیوٹرینٹ (خورد غذائی اجزاء) کی کمی کا شکار ہیں، برطانیہ اور امریکہ جیسی امیر قوموں میں بھی یہی صورتحال ہے۔
محققین نے نشان دہی کی کہ خواتین کو اب اپنی روزانہ کی تجویز کردہ سیلینیم کی ضرورت کا صرف ایک تہائی حصہ حاصل کرنے کیلئے ہول میل بریڈ کے چار سلائس کھانے پڑیں گے اور ۱۹۶۰ء کی دہائی کے بعد سے متعارف کرائی گئی روٹی والی گندم کی اقسام میں سے ایک تہائی سے بھی کم اقسام، تجویز کردہ زنک کے اہداف کو پورا کرتی ہیں۔ اس کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات میں سیلینیم کی کمی سے قوتِ مدافعت کا کمزور ہونا، دل کی بیماریوں کا بڑھتا ہوا خطرہ، زنک کی کمی سے جلد اور مدافعت کے مسائل، آئرن کی کمی سے تھکاوٹ اور پوٹاشیم کی کمی سے فالج کے خطرے میں ۲۱ فیصد تک کا اضافہ شامل ہے۔ فالج سے برطانیہ کو پہلے ہی سالانہ تقریباً ۲۶ ارب پاؤنڈ کا نقصان پہنچتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء کے دوران سمندروں نے ہر سیکنڈ ہیروشیما کے ۱۲ ایٹم بموں کے برابر حرارت جذب کی
دی مارک لیونارڈ ٹرسٹ کے سیان فرگوسن نے کہا کہ مٹی کی صحت کی بحالی سے غذائیت کی کثافت، پیداوار اور ماحولیاتی لچک بیک وقت بہتر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسے ایک ایسی چیز قرار دیا جسے ”کسان آج منافع بخش طریقے سے کر سکتے ہیں۔“