• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چنئی میں ’چھاتروں کی گونج‘، تمل ناڈو کے مسائل پر گفتگو

Updated: October 11, 2026, 9:46 AM IST | New Delhi

راہل گاندھی نےہندی، حد بندی، ایم بی بی ایس اور نئی تعلیمی پالیسی کے تحت تمل ناڈو کو ملنے والے فنڈ میں کمی جیسے مسائل اٹھائے، طلبہ کومشورہ دیاکہ سوال ضرور پوچھیں، یہ آئینی حق ہے۔

Rahul Gandhi during his address. Photo: INN
راہل گاندھی خطاب کے دوران۔ تصویر: آئی این این

لوک سبھا میں اپوزیشن اورسینئر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا سنیچر کو ’چھاتروں کی گونج ‘ پروگرام میں چنئی پہنچنے پر شاندار اور پرجوش استقبال کیا گیا۔ راہل گاندھی کے ہوائی اڈے سے باہر آتے ہی کانگریس کے کارکنان نے ان کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ ہوائی اڈے پر کارکنان کانگریس کا پرچم تھامے ہوئے تھے اور ان کے استقبال میں نعرے لگا رہے تھے۔ راہل گاندھی ایئرپورٹ سے ہی تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے سے ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ پہنچے اور ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا بھی کھایا۔ راہل گاندھی کی’ چھاتروں کی گونج‘ مہم کا یہ چھٹا ایڈیشن ہے۔ اس سے پہلے وہ کوٹا، پونے، دہرادون، پریاگ راج اور اندور میں طلبہ کے ساتھ گفتگو کر چکے ہیں۔ 
راہل گاندھی نے چنئی کے آئی لینڈ گراؤنڈ پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو کی زبان، ثقافت، تاریخ اور روایات پر حملہ کیا جا رہا ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے مودی حکومت پرتمل ناڈو پر ہندی تھوپنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تمل زبان اور ثقافت کو کسی دوسری زبان یا ثقافت سے کمتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کی زبان اور ثقافت پر حملہ کرنا ہندوستان، تمل ناڈو اور جمہوریت پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ راہل نے اپنی تقریر کے دورا ن یہ بھی کہا کہ تجسس کی شروعات سوال پوچھنے سے ہوتی ہے اور سوال پوچھنا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ راہل گاندھی نے نیٹ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تمل میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی ایم بی بی ایس سیٹوں میں حصہ داری کم ہوئی ہے۔ انہوں نے اسے ریاست کے طلبہ کے مفادات سے جڑا مسئلہ قرار دیا۔ انھوں نے نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے لیے ملنے والی رقم کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت تمل ناڈو کو ملنے والی رقم روک رہی ہے، جو کہ تقریباً۳۳۰۰؍کروڑ روپے ہے۔ راہل گاندھی نے تمل ناڈو کی ریاستی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کے عہدے خالی ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاست کی تقریباً۷۰؍ فیصد یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گورنر کے ذریعے یونیورسٹیوں میں آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حد بندی معاملہ پر اپنی بات رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اس سے تمل ناڈو کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور پارلیمنٹ میں ریاست کی آواز کمزور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسے ریاست کے حقوق اور نمائندگی سے جڑا مسئلہ قرار دیا۔ راہل گاندھی نے طلبا سے مخاطب ہوتے ہوئے ایک خاص مشورہ دیا کہ وہ اپنے من میں چھپے سوالات ضرور پوچھیں، خاموش نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوال پوچھنا تجسس اور ترقی کی بنیاد ہے۔ پیریار کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیریار نے ہر چیز پر سوال اٹھائے تھے۔ جمہوریت میں سوال پوچھنا لوگوں کا حق ہے اور آئین اس حق کی حفاظت کرتا ہے۔ انہوں نے طلبا سے اپیل کی کہ وہ اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ سے جڑے رہنے کے ساتھ ساتھ سوال پوچھتے رہیں۔ 
خطاب کی ۵؍ اہم باتیں 
وزیر اعظم بین الاقوامی دباؤ میں ہیں، بقا کیلئے لڑرہے ہیں، عوام ملک کا مزاج سمجھ چکے ہیں۔ 
پورا دلی شہر بند ہے، بی جےپی کے غنڈے سڑک پر گھوم رہے ہیں، بچوں کو مار رہے ہیں۔ 
تمل ثقافت پر حملہ کیا جارہا ہے، ہندی تھوپی جارہی ہے، حکومت کیلئے تمل ناڈوکی ثقافت ثانوی چیز ہے۔ 
پیریا ر عظیم انسان تھے کیونکہ وہ سوا ل کرتے تھے۔ 
ریاست سے ایم بی بی ایس کی ۸۷؍ فیصد سیٹیں کم ہوئی ہیں۔ 
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK