• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلیمان خان ہجومی تشدد کیس میں جلگائوں سیشن کورٹ سے ملزمین کو دوہرا دھچکا!

Updated: October 11, 2026, 9:50 AM IST | Sharjil Qureshi | Jalgaon

کرشنا تیلی کی ضمانت مسترد، سورج شرما کی کیس سے بری کرنے کی درخواست بھی خارج کر دی گئی، مقتول کے اہل خانہ کامفرورملزم گھنشیام مالی کی گرفتاری کا پُر زور مطالبہ۔

 Suleman Khan. Photo: INN.
مقتول سلیمان خان۔ تصویر: آئی این این

جامنیر تعلقے کے بٹاود خرد کے رہنے والے ۲۱؍سالہ سلیمان خان رحیم خان کے قتل کے معاملے میں جلگائوں سیشن کورٹ نے ۲؍ ملزمین کوبڑا جھٹکا دیا ہے۔ کورٹ نے ملزم سورج بہاری لال شرما کی رہائی کی اپیل خارج کر دی جبکہ ملزم کرشنا راجو تیلی کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ اس عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر سنگین جرائم کی تفتیش میں شواہد اور قانونی کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قانونی طور پر اس معاملے میں ۱۰؍ نومبر ۲۰۲۵ ء کو چارج شیٹ داخل کرنی تھی لیکن ۸؍ نومبر ۲۰۲۵ ء کو ہی چارج شیٹ داخل کر دی گئی تھی جسے عدالت کے سپرنٹنڈینٹ نے قبول نہیں کیا اور اس میں کمیوں کی نشاندہی کی۔ اسی طرح ۹۰؍ دنوں کے اندر چارج شیٹ داخل نہیں ہو سکی اور عدالت نے ملزم ابھیشیک راجپوت ( ۲۴؍ سال )، دیپک گھوساوی ( ۲۰؍ سال )، رنجن ماتاڑے (۲۸؍ سال ) اور سورج بہاری لال شرما ( ۲۵؍سال)کو ڈیفالٹ ضمانت دیدی تھی۔ ڈیفالٹ ضمانت رد کرنے اور سلیمان خان کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کیلئے جلگائوں سیشن کورٹ میں خاتون جسٹس اے ایس کھڑکے کی بنچ میں قانونی لڑائی جاری تھی جس کی پہلی کڑی کے طور پر عدالت نےملزمین کوبڑا جھٹکا دیا۔ یاد رہے کہ سلیما ن خان ہجومی تشدد معاملے میں کل ۱۱؍ ملزمین میں سے۱۰ ؍کو گرفتارکیا گیا تھا۔ ان ۱۰؍ میں سے۴؍ ملزموں کو ڈیفالٹ ضمانت ملی تھی جبکہ دیگر ملزمین جن میں آدتیہ دیورے، سیجوال تیلی، کر شنا تیلی شامل ہیں، جلگائوں سب جیل میں قید ہیں ۔ رشی کیش تیلی، نتن پاٹل اور سورج گھوگھے نامی ملزموں کو ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے ضمانت دی تھی۔ اس طرح یہ تینوں اور ڈیفالٹ ضمانت پانے والے چاروں جیل سے باہر ہیں ۔ 
یاد رہے کہ ۱۱؍ اگست ۲۰۲۵ء کوسلیما ن خان کے ساتھ اسی کے گائوں بٹاود اورجامنیر کے کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر لڑکی ساتھ کیفے میں بیٹھنےکو وجہ بنا کر اُس کو بری طرح زدوکوب کیاتھا جس کے نتیجے میں اسکی جان چلی گئی تھی۔ اس معاملے میں جامنیر پولیس اسٹیشن میں کل ۱۱؍ نامزد ملزمین کے خلاف سلیمان کے والد رحیم خان کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس معاملےمیں جلگائوں پولیس نے ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی، ایس آئی ٹی نے جانچ پڑتال کی اور ۱۰؍ ملزمین کو گرفتار کیا جبکہ ۱۱؍واں ملزم جسکا نام گھنشیام عرف شیواجی اشوک مالی ابھی تک مفرور بتایا جا رہا ہے۔ ملزم سورج بہاری لال شرما نے ایڈوکیٹ شرولے کے ذریعہ رہائی کی درخواست دائر کی تھی۔ سماعت کے دوران شکایت کنندہ اور ایکتا سنگٹھن کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ شریف پٹیل نے۳۲؍ ؍اہم نکات کے ذریعے ڈسچارج پٹشن پر سخت اعتراض کیا۔ کیس سے متعلق دستاویزات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر دلائل کے بعد عدالت نے گھنشیام عرف سورج شرما کی ڈسچارج درخواست کو مسترد کر دیا۔ ملزم کرشنا راجو تیلی نے ایڈوکیٹ کیتن ڈھکے کے ذریعے باقاعدہ ضمانت کی درخواست دائر کی۔ ایڈوکیٹ شریف پٹیل نے بھی شکایت کنندہ اور حکومت کی طرف سے دلائل پیش کئے۔ دونوں فریقوں کی طرف سے پیش کئے گئے دلائل اور دستاویزی ثبوت پر غور کرنے کے بعد عدالت نے کرشنا تیلی کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ 
۱۱؍ واں ملزم جامنیر میں موجود، وہ پولیس کو نظر کیوں نہیں آرہا ہے؟
سیشن کورٹ کی اس کارروائی پر ایکتا سنگٹھن کے کنونیر فاروق شیخ عبداللہ نے کہا کہ ’’سیشن کورٹ کے اس فیصلہ پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمیں بہت بڑی جیت ملی ہے۔ شیخ نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ مفرور گھنشیام مالی جامنیر میں ہےاور کاروبار کررہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ جامنیر پولیس کو ملزم کے تعلق سے اطلاع ملنے کے باوجود اسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ فاروق شیخ نے مطالبہ کیا کہ سنگین جرم کا ارتکاب ہوتا ہے، ملزم فرار ہو جاتا ہے اور اگر وہی ملزم علاقے میں موجود ہونے کی اطلاع کے باوجود گرفتار ی نہیں ہوتی تو عام شہری پولیس پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں ؟ قانون سب کے لیے برابر ہے، مفرور ملزمان کو بغیر کسی سیاسی دباؤ اور اثر کے فوری گرفتار کیا جائے۔ ایکتا سنگٹھن نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر مفرور ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرکے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تو وہ جمہوری اور قانونی طور پر احتجاج کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK