• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالاسینٹرل یونیورسٹی میں وندے ماترم سیمینار کے احتجاج پر۵؍ طلبہ معطل

Updated: October 10, 2026, 10:01 PM IST | Thiruvananthapuram

وندے ماترم کے ۱۵۰؍ سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ ایک سیمینار کے دوران ہونے والے احتجاج کے بعد کیرالا سینٹرل یونیورسٹی نے ۵؍طلبہ کو معطل کر دیا ہے، جبکہ پولیس نے نامعلوم طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مسلم طلبہ کو نشانہ بنانے اور کیمپس میں ہندوتوا کی سیاست کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔

A photo of student protests at the Central University of Kerala. Photo: X
کیرالاسینٹرل یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، یہ دو روزہ سیمینار۶؍ اور ۷؍ اکتوبر کو یونیورسٹی کے پیریا کیمپس میں منعقد کیا گیا تھا۔ طلبہ نے آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم پرگیا پرواہ کے قومی کنوینر جے نند کمار کی موجودگی کے خلاف احتجاج کیا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے بتایا کہ اس تقریب کا انعقاد مشترکہ طور پر یونیورسٹی، ساہتیہ اکادمی اور آر ایس ایس سے وابستہ اکل بھارتیہ ساہتیہ پریشد نے کیا تھا۔ طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی رجسٹرڈ طلبہ کو تقریب میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔ اس احتجاج میں ایس ایف آئی ، اے آئی ایس ایف ، کے ایس یو اور ایم ایس ایف سمیت مختلف طلباء تنظیموں نے حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھئے: جمہوریت کو دبانے کا الزام: مغربی میڈیا میں جنتر منتر احتجاج کا موقف

بعد ازاں بیکل پولیس نے اپنی طرف سے کارروائی کرتے ہوئے ۲۵؍ نامعلوم طلباء کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق ایف آئی آر میں بی این ایس کے تحت غیر قانونی مجمع اکٹھا کرنے، قانونی حکم عدولی اور دنگے فساد کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ طلباء نے نعرے بازی کی اور وہاں سے جانے سے انکار کیا۔ پولیس اس وقت سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔آن منورماکی رپورٹ کے مطابق طلبہ نے ’آر ایس ایس گو بیک ‘‘ کے نعرے لگائے اور چیف پروکٹر پروفیسر سری کمار کے پریزنٹیشن میں خلل ڈالا، جس کی وجہ سے وہ اسے مکمل نہ کر سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ طلبہ نے مائیک بند کر دیا تھا، جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے رجسٹرڈ شرکاء کو اندر جانے سے روکا اور انہیں دھکے دئیے۔ ایس ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ اس دوران طالبات سمیت تقریباً ۱۰؍ طلبہ کو معمولی چوٹیں آئیں۔
علاوہ ازیں  جمعرات کو چیف پروکٹر نے دو ہفتوں کیلئے پانچ طلبہ کو معطل کرتے ہوئے کیمپس، کلاس رومز اور ہاسٹلوں میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق معطل ہونے والے طلباء میں ایس ایف آئی کے کارکنان سید علی ایس اور آوید وی بی، ایم ایس ایف کے کارکنان شبیر اور تقی الدین اور محمد یاسین شامل ہیں۔ آن منورما اور مدھیمم کے مطابق ، محمد یاسین کو این ایس یو آئی یونٹ کا صدر بتایا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی انہیں کے ایس یو کا کارکن قرار دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے نقل کردہ آرڈر میں طلبہ کے اس رویے کو ’’تعلیمی فورم کیلئے انتہائی نامناسب‘‘ قرار دیا گیا۔جبکہ طلباء کا کہنا ہے کہ یہ معطلی اسی پروکٹر کی طرف سے جاری کی گئی ہیں جن کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا تھا، جو کہ صریحاً مفادات کے ٹکراؤکا معاملہ ہے۔یونیورسٹی میں ایس ایف آئی کے سکریٹری سید علی نے آن منورما کو بتایا کہ آواز اٹھانے پر طلبہ کو سزا دینا ’’جمہوری طلبہ کی شرکت کیلئے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پونے ستیہ گرہ آندولن کے ۱۵؍ مظاہرین کے خلاف کیس درج

طلبہ نے ایڈمنسٹریٹیو  بلاک کے باہر رات بھر دھرنا دیا اور آرڈرواپس نہ لئے جانے تک کلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ آن منورماکے مطابق طلبہ کونسل کے چیئرمین وویک اس معاملے پر وائس چانسلر پروفیسر سدو پی الگور سے ملاقات کی کوشش کر رہے تھے۔تاہم اے بی وی پی کے علاوہ تمام طلبہ تنظیموں نے چیف پروکٹر سری کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا الزام ہے کہ وہ جانبدارانہ کارروائی کر رہے ہیں اور اے بی وی پی کے اراکین کی طرف داری کر رہے ہیں۔ طلباء نے اس سے پہلے آر ایس ایس سے جڑی تنظیموں اور بی جے پی کے حامی مقررین سے متعلق یونیورسٹی کے پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیمپس میںزعفران سازی کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK