یورپی پابندیوں کے خلاف چین اور روس کا مشترکہ رد عمل

Updated: March 25, 2021, 11:50 AM IST | Agency | Washington

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ان پابندیوں کو یکطرفہ اور عالمی برادری کیلئے ناقابل قبول قرار دیا

Xi and Putin - Pic : INN
شی اور پتن ۔ تصویر : آئی این این

یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کی بنا پر چین اور روس  کے خلاف  عائد پابندیوں کے بعد   دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے پیر کو چین کے  شہر نانِنگ میں  ملاقات کی اورایک دوسرے کے ساتھ قریبی روابط کا اعادہ کیا ہے، جبکہ منگل کو اپنے بیانات میں انہوں نے پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کو `یکطرفہ قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری ان اقدامات کو تسلیم نہیں کرے گی۔
 امریکی وزیر خارجہ اینٹو نی بلنکن نے امریکہ ، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے چین کے خلاف پابندیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک مشترکہ ردِ عمل، بین الاقوامی انسانی حقوق کو پامال کرنے والوں کو ایک واضح پیغام دیتا ہے اور ہم اس حوالے سے ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ مزید اقدامات بھی اٹھائیں گے۔امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی پابندیاں اس کے اتحادیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہیں۔
 ادھر چینی شہر نانِنگ میں چین کے وزیر خارجہ وانگ لی اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لارئوف نے اپنے اپنے سیاسی نظاموں پر غیر ملکی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی اور کورونا وائرس سےپھیلنے والی عالمی وبا سمیت متعدد معاملات پر عالمی ترقی کیلئے مزید کام کرتے رہیں گے۔ ملاقات کے بعد، ایک مشترکہ بیان میں دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ کسی ملک کو اپنی طرزِ جمہوریت کو کسی دوسرے ملک پر تھوپنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے   ۔
 منگل کو  ایک نیوز کانفرنس میں، چین اور روس کے وزرائے خارجہ نےاس بات کو دہرایا۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان یک طرفہ اقدامات کو عالمی برادری تسلیم نہیں کرے گی۔دونوں وزرائے خارجہ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرے۔ یاد رہے کہ روس اور چین دونوں کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں، اور تینوں اپوزیشن کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں اور طریقۂ کار استعمال کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ چینی حکام پر لگی پابندی کے بعدچین نے بھی ان ممالک کے حکام پر پابندی عائد کر دی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK