• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سونا سستا ہوتے ہی چین نے ۲۵ء۸ ؍ٹن سونا خرید لیا

Updated: November 08, 2026, 8:05 PM IST | New Delhi

عالمی بازار میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ کے درمیان چین نے بھاری مقدار میں سونا خرید کر عالمی مالیاتی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ چین کے مرکزی بینک پیپلز بینک آف چائنا نے اکتوبر ۲۰۲۶ء کے دوران اپنے ذخائر میں مزید ۲۵ء۸ ٹن سونے کا اضافہ کیا ہے۔

Gold.Photo:INN
سونا۔ تصویر:آئی این این

عالمی بازار میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ کے درمیان چین نے بھاری مقدار میں سونا خرید کر عالمی مالیاتی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ چین کے مرکزی بینک پیپلز بینک آف چائنا   نے اکتوبر ۲۰۲۶ء کے دوران اپنے ذخائر میں مزید ۲۵ء۸ ٹن سونے کا اضافہ کیا ہے۔ اس خریداری کے ساتھ ہی چین کا سونا جمع کرنے کا سلسلہ مسلسل ۲۴؍ویں مہینے تک پہنچ گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی بازار میں سونے کی قیمتوں میں تقریباً ۷؍ فیصد کمی کے باوجود چین نے اپنی خریداری جاری رکھی، جسے ماہرین طویل مدتی مالیاتی حکمت عملی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ 
چین کے مرکزی بینک کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے اختتام پر ملک کے سونے کے ذخائر بڑھ کر ۷۸ء۳ ؍ملین اونس ہوگئے، جو ستمبر کے مقابلے میں ۸ ؍لاکھ ۳۰؍ ہزار اونس زیادہ ہیں۔ یہ مقدار تقریباً ۲۵ء۸؍میٹرک ٹن بنتی ہے۔ نومبر ۲۰۲۴ء میں سونے کے ذخائر میں دوبارہ اضافہ شروع کرنے کے بعد چین نے مسلسل ۲۴؍ مہینوں تک خریداری جاری رکھی ہے۔ اکتوبر کی خریداری کے بعد جنوری سے اکتوبر ۲۰۲۶ء تک چین کے مرکزی بینک کی مجموعی سونا خریداری تقریباً ۱۲۹؍ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: رجت پاٹیدار دستبردار، رنکو سنگھ کو نائب کپتان مقرر

اکتوبر کے دوران بین الاقوامی بازار میں سونے کی قیمتوں میں تقریباً ۷؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت ۴؍ ہزار ڈالر فی اونس کی سطح سے نیچے آگئی۔ گزشتہ ماہ سونے کی قیمت ایک سال کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اکتوبر میں آنے والی یہ گراوٹ ۲۰۰۸ء کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد اس مہینے کی سب سے بڑی کمی بتائی جارہی ہے۔ماہرین کے مطابق امریکی شرح سود سے متعلق توقعات میں تبدیلی، سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری میں کمی اور سرمایہ کا بانڈ مارکیٹ کی طرف منتقل ہونا قیمتوں میں گراوٹ کی اہم وجوہات میں شامل رہے۔ تاہم چین نے قیمتوں میں کمی کے دوران بھی خریداری جاری رکھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی حکمت عملی صرف فوری منافع حاصل کرنے کے بجائے طویل مدتی ذخائر کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔  
چین کی جانب سے مسلسل سونا خریدنے کی ایک اہم وجہ اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع پیدا کرنا ہے۔ عام طور پر مرکزی بینک اپنے ذخائر میں امریکی ڈالر، دیگر کرنسیوں اور مختلف مالیاتی اثاثوں کے ساتھ سونا بھی رکھتے ہیں۔ سونا کسی دوسرے ملک کی کرنسی یا حکومت کے قرض پر براہ راست منحصر نہیں ہوتا، اسی لیے اسے طویل مدتی مالیاتی تحفظ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی حالات میں ایک اہم اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ چین کے لیے سونے کے ذخائر میں اضافہ اس کی مالیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے مجموعی ذخائر کو مختلف اثاثوں میں تقسیم کرکے ممکنہ خطرات کو کم کرنا چاہتا ہے۔ عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، کرنسیوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی تجارت سے متعلق خدشات کے درمیان سونے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ چین کی خریداری کا واحد مقصد امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے؛ عالمی گولڈ کونسل کے مطابق ذخائر میں تنوع اور خطرات کا انتظام مرکزی بینکوں کی سونا خریداری کے بنیادی محرکات میں شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:کیا رنبیر کپور اداکاری چھوڑنے والے ہیں؟ اداکار کا بڑا انکشاف

ورلڈ گولڈ کونسل (WGC) کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء کی تیسری سہ ماہی میں چین ان مرکزی بینکوں میں سب سے بڑا خریدار رہا جنہوں نے اپنی خریداری کے اعداد و شمار ظاہر کیے۔ اس دوران چین نے تقریباً ۶۳؍ ٹن سونا خریدا، جبکہ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی مجموعی خالص خریداری ۳۲۱ ٹن رہی۔ یہ ۲۰۲۴ء کی آخری سہ ماہی کے بعد کسی ایک سہ ماہی میں مرکزی بینکوں کی سب سے بڑی مجموعی خریداری ہے۔ چین کے ساتھ پولینڈ بھی سونے کے بڑے خریداروں میں شامل رہا۔ عالمی گولڈ کونسل کے مطابق تیسری سہ ماہی میں چین اور پولینڈ نے مل کر رپورٹ شدہ خالص خریداری کا بڑا حصہ حاصل کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر متعدد ممالک اپنے سرکاری ذخائر میں سونے کی مقدار بڑھانے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ 
 چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۶ء کے اختتام پر ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریباً ۳ء۴۰۵ ؍ٹریلین ڈالر ہوگئے۔ ستمبر کے مقابلے میں ان میں تقریباً ۴ء۹۲۷ ؍ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح چین ایک جانب اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھے ہوئے ہے، تو دوسری جانب سونے کی مسلسل خریداری کے ذریعے اپنے سرکاری اثاثوں کی ساخت میں بھی تبدیلی لا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK