• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: سیکڑوں افراد کا نئی حکومت سازی میں عرب جماعتوں کو شامل کرنے کا مطالبہ

Updated: November 08, 2026, 6:03 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل میں سیکڑوں افراد نے نئی حکومت کی تشکیل میں عرب جماعتوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریلی نکالی، مظاہرین نیتن نے یاہو کے خلاف نعرے لگائے،اور مطالبہ کیا کہ ان کی حکمرانی کو باضابطہ طور پر ختم کیا جائے ۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سیکڑوں اسرائیلیوں نے نئی حکومتی اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کیا جس میں عرب جماعتیں شامل ہوں ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکمرانی کو باضابطہ طور پر ختم کیا جائے۔ہاریٹز نے رپورٹ کیا کہ شمالی اسرائیل کی یزرئیل وادی میں تقریباً۳۰۰؍ مظاہرین نے عرب دھڑوں کو آنے والی انتظامیہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریلی نکالی۔ دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اسی دوران وسطی تل ابیب کے حبیما اسکوائر میں کئی سو افراد یکساں مطالبات کے ساتھ جمع ہوئے۔تل ابیب میں مظاہرین نے عربی اور عبرانی زبان میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا، ’’ ۶۷؍ نشستیں۔ آئیے نیا راستہ اختیار کریں‘‘در اصل ۶۷؍ کا عدد۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والے دھڑوں کی مجموعی نشستوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے، بشمول عرب جوائنٹ لسٹ اور رعام کے۔اس کے علاوہ  مظاہرین نے’’شراکت کے بغیر، کوئی امن نہیں،‘‘ کے  نعرے لگائےاور ، تقسیم کرو اور حکومت کروکے خاتمے کے ساتھ سب کے لیے آزادی اور مساوات کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: حکیم جیفریز کی ایوان کے اسپیکر کے طور پر مخالف درخواست پر دس لاکھ دستخط

واضح رہے کہ اسٹینڈنگ ٹوگیدر، ایک نچلی سطح کی تحریک جو یہودی-عرب سیاسی مساوات اور شراکت کی وکالت کرتی ہے، اسی تحریک نے مظاہرے میں فعال طور پر حصہ لیا۔مزید برآں مظاہرین نے صحافی عبد ابو شہادہ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا، جنہیں اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ بدھ کو سابق کنیسٹ رکن عزمی بشارہ کا انٹرویو کرنے کے لیے دوحہ کے رپورٹنگ دورے کے بعد ایک غیر ملکی ایجنٹ سے رابطے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
نیوز آؤٹ لیٹ وائی نیٹ نے رپورٹ کیا کہ ریلیاں اس سے کچھ دیر قبل نکلیں جب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اعلان کیا کہ وہ یشار پارٹی کے لیڈر گادی آئزن کوٹ کو اگلی انتظامیہ بنانے کا کام سونپیں گے۔ذہن نشین رہے کہ انتخابات میں، نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والے دھڑوں نے۶۷؍ نشستیں حاصل کیں - بشمول دو عرب پارٹیوں کی ۱۹؍ نشستیں - جبکہ نیتن یاہو سے منسلک جماعتوں نے ۵۳؍ نشستیں جیتیں۔تاہم، زیادہ تر مرکزی دھارے کے اپوزیشن رہنما عرب دھڑوں پر انحصار کرنے کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔جبکہ عرب پارٹیوں کے بغیر، روایتی اپوزیشن کے پاس صرف ۴۸؍ نشستیں ہیں، جو حکومت کرنے کے لیے درکار۶۱؍ نشستوں کی حد سے بہت کم ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK