• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصر نے تنازعات کے بعد قومی فٹ بال ٹیم کے کوچ حسام حسن کو عہدے سے برطرف کردیا

Updated: November 08, 2026, 8:04 PM IST | Cairo

سابق مصری فٹ بالر اور تجربہ کار کوچ علی ماہر کو قومی ٹیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حسام حسن کی قیادت میں مصر نے ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی تھی۔

Hossam Hassan.Photo:X
حسام حسن۔ تصویر:ایکس

مصر کی فٹ بال ایسوسی ایشن نے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن کو حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے متعدد تنازعات کے بعد عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ ان کی جگہ سابق مصری فٹ بالر اور تجربہ کار کوچ علی ماہر کو قومی ٹیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حسام حسن کی قیادت میں مصر نے ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی تھی۔ مصری فٹ بال ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حالیہ حالات اور واقعات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ بیان کے مطابق ان واقعات کے منفی اثرات قومی ٹیم کی مثبت شبیہ اور استحکام پر پڑ رہے تھے، جس کے پیش نظر حسام حسن اور ان کے تکنیکی و انتظامی عملے کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایسوسی ایشن نے حسام حسن کی خدمات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ 
حسام حسن گزشتہ کئی ماہ سے اپنی نجی زندگی سے متعلق تنازعات کی وجہ سے خبروں میں تھے۔ ان کی سابق اہلیہ کے ساتھ اختلافات اور خاندانی معاملات سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں زیر بحث رہے۔ ان معاملات پر میڈیا میں مسلسل بحث کے بعد مصر کی سپریم کونسل فار میڈیا ریگولیشن نے ۴؍ نومبر کو حسام حسن کے میڈیا پر آنے اور انٹرویو دینے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس سے قبل ان کی سابق اہلیہ کے میڈیا میں آنے پر بھی پابندی لگائی گئی تھی۔اس تنازع نے مصری کھیلوں کے حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی تھی۔ مصر کے سابق فٹ بالر شیکابالا سمیت بعض شخصیات نے حسام حسن کو قومی ٹیم کے کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا تھا۔ اگرچہ فٹ بال ایسوسی ایشن نے برطرفی کے بیان میں کسی ایک تنازع کو براہ راست وجہ قرار نہیں دیا، تاہم اس کے بیان میں ٹیم کی شبیہ اور استحکام پر منفی اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔  حسام حسن کے دور میں مصر کے اسٹار فٹ بالر محمد صلاح کے ساتھ اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ ستمبر میں انگولا کے خلاف افریقی کپ آف نیشنز کوالیفائر مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر ہونے کے بعد حسام حسن نے میچ کے دوران محمد صلاح کو ۶۰؍ ویں منٹ میں میدان سے باہر بلالیا تھا۔ اس کے بعد صلاح اگلے میچ کے لیے ٹیم کے کیمپ سے چلے گئے تھے اور جنوبی سوڈان کے خلاف مقابلے میں حصہ نہیں لیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: رجت پاٹیدار دستبردار، رنکو سنگھ کو نائب کپتان مقرر

مصری فٹ بال ایسوسی ایشن نے اس وقت وضاحت کی تھی کہ مصنوعی گھاس والے میدان پر کھیلنے سے متعلق خدشات کے باعث صلاح کو اگلے میچ میں آرام دیا گیا۔ تاہم اس واقعہ کے بعد کوچ اور اسٹار کھلاڑی کے درمیان کشیدگی کی قیاس آرائیاں جاری رہیں۔ اسی دوران ایسوسی ایشن کے صدر ہانی ابو ریدہ نے ترکی کا دورہ کرکے محمد صلاح سے ملاقات بھی کی تھی۔ حسام حسن کی برطرفی اس لیے بھی حیران کن ہے کہ ان کی کوچنگ میں مصر نے ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ مصر نے نیوزی لینڈ کو  ۱۔۳؍گول  سے شکست دے کر ۹۲؍ برس بعد ورلڈ کپ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد ٹیم نے آسٹریلیا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی۔ مصر پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔
تاہم پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹائنا کے خلاف مصر کو ۲۔۳؍گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مقابلے میں مصری ٹیم نے دو گول کی برتری حاصل کی تھی، لیکن ارجنٹینا نے شاندار واپسی کرتے ہوئے آخری لمحات میں فیصلہ کن گول کرکے کامیابی حاصل کرلی۔ میچ کے بعد حسام حسن نے ریفری کے فیصلوں پر تنقید کی تھی، جس کے نتیجے میں فیفا نے ان پر تین میچوں کی پابندی عائد کردی۔ مصری کھلاڑی مصطفیٰ زیکو کو بھی اسی مقابلے سے متعلق معاملے میں پانچ میچوں کے لیے معطل کیا گیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:کیا رنبیر کپور اداکاری چھوڑنے والے ہیں؟ اداکار کا بڑا انکشاف

نئے کوچ علی ماہر کے لیے سب سے بڑا چیلنج مصر کی ورلڈ کپ کی کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور ٹیم کو افریقی فٹ بال میں دوبارہ مضبوط مقام دلانا ہوگا۔ ۵۲؍ سالہ علی ماہر نے حال ہی میں مصری کلب سیریمی ا کلیوپیٹرا کے ساتھ کامیاب دور گزارا اور ۲۰۲۴-۲۵ء کے سیزن میں ٹیم کو مصری لیگ کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ علی ماہر کو فوری طور پر افریقہ کپ آف نیشنز کے کوالیفائر مقابلوں کی تیاری کرنی ہوگی۔ مصر کو ۱۳؍ اور ۱۷؍ نومبر کو ملاوی کے خلاف دو میچ کھیلنے ہیں۔ ان مقابلوں میں نئی کوچنگ ٹیم کی حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر خصوصی نظر رہے گی۔ 
۶۰؍ سالہ حسام حسن نے ۲۰۲۴ء میں مصر کی قومی ٹیم کی کوچنگ سنبھالی تھی۔ ان کے دور میں ٹیم نے مجموعی طور پر ۳۸؍ مقابلے کھیلے، جن میں ۲۱؍ میں کامیابی حاصل کی، ۱۰؍ میچ برابر رہے اور ۷؍ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ورلڈ کپ میں تاریخی کامیابی کے باوجود مسلسل تنازعات نے ان کے لیے مشکلات پیدا کردیں اور بالآخر انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اب تمام تر توجہ علی ماہر پر مرکوز ہوگی کہ وہ مصر کو افریقی فٹ بال میں نئی کامیابیوں سے ہمکنار کرپاتے ہیں یا نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK