آگاہ کیا کہ بیجنگ اور تہران کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے، امن کی کوششوں کی تائید بھی کی۔ جنگ بندی کیلئے ایران امریکہ کے مابین ایک اور میٹنگ کا امکان
EPAPER
Updated: April 15, 2026, 12:40 AM IST | Tehran
آگاہ کیا کہ بیجنگ اور تہران کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے، امن کی کوششوں کی تائید بھی کی۔ جنگ بندی کیلئے ایران امریکہ کے مابین ایک اور میٹنگ کا امکان
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور ایرانی بندرگاہوں سے تیل لے کر آنے والے جہازوں کو یہاں سے نہ گزرنے دینے کے امریکی اعلان پر بیجنگ نے واشنگٹن کو سخت پیغام دیا ہے۔ ایران کی حمایت کرتے ہوئے چین نے آبنائے ہرمز پر بیرونی مداخلت کے خلاف بھی خبردار کیا ہے۔
ایران کے ساتھ تعلقات کا حوالہ
چین کے وزیر دفاع ڈونگ جون نے کہا ہےکہ بیجنگ عالمی امن اور استحکام برقرار رکھنے کیلئے پابند عہد ہے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ چینی جہاز آبنائے ہرمز میں نقل و حمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ایران کے ساتھ تجارت و توانائی کے معاہدے ہیں۔ ہم ان کی پاسداری کرینگے اور امید کرتے ہیں کہ ا س معاملہ میں دوسرے (امریکہ پڑھیں) رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔‘‘ آبنائے ہرمز پر تہران کے کنٹرول کی تائید اور دفاع کرتے ہوئے چینی وزیر نے کہا کہ ’’ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ (بحری راستہ) ہمارے لئے کھلا ہے۔‘‘ (یعنی ہمیں مداخلت برداشت نہیں ہوگی)۔
تین جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے
منگل کو امریکی ناکہ بندی کے باوجود ۳؍ بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کو پار کیا اوران میں سے ۲؍ جہاز دراصل وہ ٹینکر ہیں جن کے گزرنے پر امریکی اعلان کے مطابق پابندی ہے۔ تیسرا جہاز پناما کا پرچم بردار ہے جس کا نام ’’پیس گلف‘‘ ہے۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
امریکی ناکہ بندی کی نوعیت میں تبدیلی
امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور اس پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی بات کی تھی مگر پھر اس نے اپنا فیصلہ بدلا اور اعلان کیا کہ ناکہ بندی کے دوران وہی جہاز اور ٹینکر روکے جائینگے جو ایران کی بندرگاہ کی طرف جارہے ہوں گے یا ایرانی بندرگاہوں سے آرہے ہوں گے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق’’ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والی تمام سمندری آمد و رفت پر ناکہ بندی رہے گی جو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہوگی۔ان میں خلیج عرب اور خلیج عمان کے علاقے بھی شامل ہیں۔‘‘ یہ واضح کیاگیا ہے کہ امریکی افواج غیر ایرانی بندرگاہوں کے درمیان سفر کرنے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے نہیں روکیں گی۔ ایران کی طرف جانے والے کسی چینی جہازکو روکنے کی کوئی رپورٹ نہیں ہے جس سے اندازہ لگایاجارہا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے بعد سے ابھی کوئی چینی جہاز وہاں نہیں پہنچا ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں کیلئے پریشانی
چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ سے ایران کی برآمدی آمدنی اور چین کی توانائی سپلائی دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس لئے چینی جہازوں کے روکے جانے پر امریکہ اور چین کے براہ راست آمنے سامنے آنے کے اندیشوں کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال چین اب تک اس سے گریز کررہا ہے۔ اس نے ان خبروں کی بھی تردید کی ہےکہ وہ ایران کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے یا فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بیجنگ نے ان دعوؤں کو’’بے بنیاد الزامات‘‘ قرار دیا ہے۔