ایرانی سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ ہرمز پر ہندوستان کیلئے ٹول نہیں ہوگا، ساتھ ہی ہندوستانی بحری جہازوں کی حفاظت کا یقین دلاتے ہوئے ناکہ بندی کے دوران خصوصی انتظامات کرنے تھی وعدہ کیا۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 9:02 PM IST | New Delhi
ایرانی سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ ہرمز پر ہندوستان کیلئے ٹول نہیں ہوگا، ساتھ ہی ہندوستانی بحری جہازوں کی حفاظت کا یقین دلاتے ہوئے ناکہ بندی کے دوران خصوصی انتظامات کرنے تھی وعدہ کیا۔
ہندوستان میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے پیر کو واضح کیا کہ تہران ہندوستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے مضبوط تعلقات ہیں اور حساس علاقے میں ہندوستانی بحری جہازوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اس کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔دہلی میں بات کرتے ہوئے فتح علی نے کہا، ’’آپ جانتے ہیں کہ ہماری ہندوستانی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم ہندوستانی جہازوں کے لیے اچھی تیاری کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ بعد ازاں فتح علی نے دونوں ممالک کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی روابط پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ نے ہندوستان کو ان پانچ اہم ممالک میں شامل کیا ہے جن کے ساتھ تہران قریبی روابط رکھنا چاہتا ہے۔فتح علی نے موجودہ بحران کے دوران ہندوستان کی حمایت کی تعریف کی۔ انہوں نے ہندوستانی حکومت اور عوام دونوں کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ہرمز ناکہ بندی پر عالمی ردعمل، آئی ایم او، چین اور ایران کا سخت مؤقف
دریں اثناء ٹول کے بارے میں قیاس آرائیوں پر بات کرتے ہوئے فتح علی نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہندوستانی جہازوں سے کوئی رقم نہیں لی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ ہندوستانی حکومت سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا اب تک ہم نے کوئی ٹول وصول کیا ہے؟ انہوں نے مزید کہا،’’ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اور ہندوستان کے مشترکہ مفادات اور مشترکہ تقدیر ہیں۔‘‘واضح رہے کہ ہندوستانی ٹینکر نے تناؤ کے باوجود آبنائے ہرمز عبور کرلی ، ہندوستانی پرچم والا ایل پی جی ٹینکر ’جگ وکرم‘ کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزر گیا ہے، جو موجودہ بحران کے دوران ایسا کرنے والا نواں ہندوستانی جہاز بن گیا۔ جہاز فی الحال ہندوستان کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور منگل کو کسی ہندوستانی بندرگاہ پر پہنچنے کی امید ہے۔
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر فتح علی نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ ایران کی حدود میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازع سے پہلے آبنائے کھلی تھی، لیکن دعویٰ کیا کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر وعدہ خلافی اور صورتحال کو مذاکرات سے تنازع کی طرف لے جانے کا الزام بھی لگایا۔اسلام آباد میں حالیہ مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے فتح علی نے کہا کہ ایران کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا ہے کہ وہ امن اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن امریکہ کو خبردار کیا کہ ایران جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا ایران مذاکرات کے لیے واپس آئے گا تو انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ پر منحصر ہے۔بعد ازاں ٹرمپ نے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ناکہ بندی کا اعلان کیا، جبکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی مکمل بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی حکام کا ایرانیوں کے ساتھ دوسری ملاقات پر غور: سی این این کا دعویٰ
ساتھ ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ جو بھی جہاز ایران کو ٹول ادا کرتا پایا جائے گا، اسے روک لیا جائے گا۔دوسری جانب ممبئی میں ایران کے قونصل جنرل سعید رضا مسیب مطلق نے کہا کہ ہندوستان جیسے ممالک اس وقت مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے سفارت کاری اور مذاکرات پر استقامت دکھائی ہے۔مزید برآں انہوں نے بتایا کہ چین اور روس بھی اسی سمت میں کام کر رہے ہیں۔