Updated: April 14, 2026, 8:07 PM IST
| Beijing
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے اسے بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا جبکہ چین نے اسے خطرناک اقدام کہا۔ ایران نے اپنی سمندری برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ دن اعلان کیا کہ ’’امریکہ ۱۳؍ اپریل کو صبح ۱۰؍ بجے سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا باہر نکلنے والے جہازوں کی ناکہ بندی کرے گا۔‘‘ یہ اعلان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ۲۱؍ گھنٹے طویل مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے فوراً بعد سامنے آیا، جن کا مقصد جاری جنگ کو ختم کرنا تھا۔ اس اقدام پر آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنیگز نے کہا کہ ’’بین الاقوامی قانون کے مطابق، کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بین الاقوامی آبنائے کے ذریعے گزرنے کے حق یا نیویگیشن کی آزادی کو روکے جو بین الاقوامی ٹرانزٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بین الاقوامی قانون کے تحت اہم سمندری آبنائے پر ٹول عائد کرنے کے لیے کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ’’ایران جنگ کی وجہ سے جہاز رانی پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے، اس لیے ناکہ بندی کے عملی اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: چین: شی جن پنگ اور پیڈروکی ملاقات،’’جنگل راج‘‘ کے خلاف چین۔اسپین کا مشترکہ مؤقف
ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سمندری برتری کا دعویٰ کیا۔ ایران کے نائب وزیر داخلہ علی زینی وند نے کہا کہ ’’وہاں ہمارا گہرا اور جامع کنٹرول ہے اور ہم میٹر بہ میٹر سرحدوں پر غلبہ رکھتے ہیں، کہ ہم نے دشمن کو کوئی منصوبہ بندی کرنے کا موقع بھی نہیں دیا۔‘‘
چین نے بھی اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان گیو جیاکون نے کہا کہ ’’واشنگٹن کی ناکہ بندی صرف تناؤ کو بڑھا دے گی، پہلے سے ہی نازک جنگ بندی کو کمزور کرے گی، اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کو مزید خطرے میں ڈالے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’صرف ایک جامع جنگ بندی ہی بنیادی طور پر آبنائے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے حالات پیدا کر سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ ’’تمام متعلقہ فریق جنگ بندی کی پاسداری کریں، مذاکرات پر توجہ دیں اور آبنائے میں نارمل نیویگیشن کو جلد بحال کریں۔‘‘
چین نے ایران کو مبینہ فوجی مدد فراہم کرنے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ رپورٹس مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔‘‘ خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات، جو ۱۹۷۹ء کے بعد سب سے اہم براہ راست رابطہ سمجھے جا رہے تھے، کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ ان مذاکرات کا مقصد ۲۸؍ فروری سے جاری جنگ کو ختم کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز پرکسی بھی وقت ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ گیا
ناکام مذاکرات کے بعد امریکی اعلان نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان زیر التواء مسائل کے حل اور امریکہ و ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘‘ دریں اثنا، ٹرمپ نے چین کو خبردار کرتے ہوئے ۵۰؍ فیصد اضافی ٹیرف کی دھمکی بھی دی، جس سے عالمی سطح پر تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔