چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ و ایران جنگ کے دوران مغربی ایشیا کے لیے چار نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، اس کے علاوہ قانون کی حکمرانی اور کثیرالجہتی کا مطالبہ کیا ۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 10:21 PM IST | Beijing
چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ و ایران جنگ کے دوران مغربی ایشیا کے لیے چار نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، اس کے علاوہ قانون کی حکمرانی اور کثیرالجہتی کا مطالبہ کیا ۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے منگل کو مغربی ایشیا میں امن کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کی اور خبردار کیا کہ دنیا کو ’’جنگل کے قانون‘‘ کی طرف واپس نہیں جانے دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ چین روس، متحدہ عرب امارات اور اسپین کے لیڈروں کی میزبانی کر رہا ہے۔ بیجنگ میں عوامی عظیم ہال میں متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی کے کراؤن پرنس شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے ’’قانون کی حکمرانی کے اختیار‘‘ کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔ یہ چینی صدر شی جن پنگ کا امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے۲۸؍ فروری کو ایران پر جارحیت شروع ہونے کے بعد پہلا اہم بیان ہے۔شی جن پنگ نے کہا، ’’بین الاقوامی قانون کے اختیار کی حفاظت ضروری ہے۔ اسے منتخب طور پرنافذنہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی جب مناسب نہ ہو تو اسے ترک کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں جانے دینا چاہیے۔‘‘ اس بیان میں انہوں نے امریکہ کی یک طرفہ کارروائی پرطنز کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز پر ہندوستان سے ٹول نہیں: ایرانی سفیر کا ہندوستانی جہازوں کی حفاظت کا تیقن
چینی صدر کی چار نکاتی تجویز میں، پرامن بقائے باہمی کے اصول کی پابندی- قومی خودمختاری کے اصول کی پابندی- بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول کی پابندی- ترقی اور سلامتی کے ہم آہنگی کے اصول کی پابند ی ۔ چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، شی جن پنگ نے زور دیا کہ مغربی ایشیا اور خلیج کے علاقے میں مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کا ڈھانچہ قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور اسے مغربی ایشیا میں اپنا جامع اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کی بھی عوامی ہال میں میزبانی کی۔ یہ چار سالوں میں پیڈرو سانچیز کی چین کا چوتھا دورہ ہے۔ شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا ’’افراتفری‘‘ کا شکار ہے اور ’’قانون کی حکمرانی اور طاقت کے قانون‘‘ کے درمیان مقابلہ چل رہا ہے۔ انہوں نے سانچیز کو چین اور یورپی یونین کے درمیان ’’اہم رابط کار‘‘قرار دیا۔بعد ازاں سانچیز نے دعویٰ کیا کہ چین ’’ایران-ہرمز بحران کو حل کرنے والی واحد طاقت‘‘ہو سکتا ہے اور انہوں نے بیجنگ سے مطالبہ کیا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے’’ مزیدفعال‘‘ کردار ادا کرے۔ساتھ ہی اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ مغربی ایشیا میں اسرائیل واحد ملک ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی نظام ’’قانونی کی پاسداری ‘‘ پر قائم ہونا چاہیے، نہ کہ ’’سزا سے مبرا ہونے‘‘کی بنیاد پر۔اس کے علاوہ انہوں نے چین سے مطالبہ کیا کہ کثیرالجہتی پر بڑھتے ہوئے خطرات اور بین الاقوامی نظم و ضبط کے زوال کے پیش نظر یورپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ہرمز ناکہ بندی پر عالمی ردعمل، آئی ایم او، چین اور ایران کا سخت مؤقف
یاد رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی بھی میزبانی کریں گے جو امریکہ-ایران جنگ اور ہرمز کی ناکہ بندی کے معاشی اثرات پر بات چیت کے لیے بیجنگ میں موجود ہیں۔