• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: اے آئی ٹیلنٹ سے وابستہ اعلیٰ انجینئروں،افسران کے غیر ملکی سفر پر قدغن

Updated: September 30, 2026, 2:06 PM IST | Beijing

اے آئی ٹیلنٹ پر چین کی بڑی پابندی: اعلیٰ انجینئروں، ایگزیکٹوز اور ان کے اہلِ خانہ کے غیر ملکی سفر پر قدغن لگادیا ہے، ٹیک سیکیورٹی کو ترجیح دیتے ہوئے، امریکہ-چین اے آئی مسابقت کے درمیان چین نے اعلیٰ ذہانت پر کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔

Chinese President Xi Jinping. Photo: INN
چینی صدرشی جمپنگ۔ تصویر: آئی این این

رپورٹس کے مطابق چین نے حال ہی میں اپنی بعض اہم ترین نجی شعبے کی مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے ایگزیکٹوز پر بیرون ملک سفر کی پابندیوں کا دائرہ ان کے شریک حیات اور بچوں تک بڑھا دیا ہے۔ بلومبرگ، رائٹرز اور دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس کا مقصد ملک سے حساس ٹیکنالوجی اور مہارت کے اخراج کو روکنا ہے۔ چینی سرکاری ایجنسیوں نے متعلقہ افراد کو مطلع کیا ہے کہ اے آئی اور چپ کے بعض ایگزیکٹوز کے براہ راست رشتہ داروں کو بیرون ملک سفر سے پہلے سرکاری اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق اس میں مختصر دورے بھی شامل ہیں۔ یہ اقدامات اسٹریٹجک طور پر اہم سمجھی جانے والی ٹیک کمپنیوں کے چینی اسٹارٹ اپ بانیوں، سینئر محققین اور ایگزیکٹوز پر عائد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: وسطی ٹوکیو میں مسلسل ۳۴؍ روز بارش، نیا ریکارڈ قائم

واضح رہے کہ مئی میں چین نے بعض اہم اور بااثر ٹیک ملازمین پر بیرون ملک سفر کی پابندی عائد کی تھی۔ ان میں علی بابا اور ڈیپ سیک سے وابستہ اے آئی پیشہ ور افراد شامل ہیں۔ اب اضافی اقدام کے تحت پابندیوں کو ان کے شریک حیات اور بچوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ معاملے سے واقف افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ کئی ایگزیکٹوز کو بتایا گیا ہے کہ خاندان کے سفر کے لیے حکومتی کلیئرنس درکار ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ پابندیاں ہر فرد کے ہر رشتہ دار پر عائدہوتی ہیں، یا صرف قریبی خاندان کے افراد پر۔بعد ازاںچین حساس ٹیکنالوجیز سے منسلک افراد کی نقل و حرکت پر کنٹرول سخت کر رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال نئے ایگزٹ اینڈ انٹری قوانین ہیں جو۱۵؍ ستمبر سے نافذ العمل ہیں۔ ان پابندیوں کے مطابق حکام صنعتی یا تکنیکی سیکیورٹی کے لیے ممکنہ خطرات سے متعلق معاملے میں شہریوں کو چین سے باہر جانے سے روک سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی حکومت کی ویب سائٹس تک ایجنٹس کی رسائی کے بعد اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ روک دی گئی

رائٹرز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ قوانین ان افراد پر لاگو ہو سکتے ہیں جن پر ٹیکنالوجی کی درآمد یا برآمد کے ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام ہے، جب ان کا طرز عمل ٹیکنالوجی سیکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔ چین کی اسٹیٹ کونسل نے ان ضوابط کو ’’قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات‘‘ کے تحفظ کے طور پر پیش کیا ہے۔مزید برآں  جیسا کہ ہیومن رائٹس واچ نے ریکارڈ کیا ہے اس سال مارچ میں چینی اے آئی اسٹارٹ اپ Manus کے شریک بانیوں کو ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ اس وقت امریکی ٹیک کمپنی میٹا Manus کے حصول کے لیے بات چیت کر رہی تھی، یہ ڈیل بعد میں چینی حکومت نے روک دی تھی۔دریں اثناء  چینی کمپنیاں اے آئی اور جدید چپس میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہی ہیں، کیونکہ بیجنگ امریکہ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی مسابقت کے درمیان اے آئی اور سیمی کنڈکٹر مہارت کو ایک اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتا ہے۔ اسی سمت میں علی بابا نے اپنی Zhenwu V900 اے آئی چپ کی نقاب کشائی کی، جسے چینی کمپنی نے مقامی کمپیوٹنگ صلاحیت کی تعمیر اور غیر ملکی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں بیجنگ اب ان صلاحیتوں کے لیے مرکزی سمجھے جانے والے افراد کی نقل و حرکت کی باریک بینی سے نگرانی اور کنٹرول کر رہا ہے۔ یہ اقدامات غیر ملکی سفر پر مکمل پابندی نہیں ہیں، لیکن یہ نجی شعبے کے ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد اور ان کے قریبی اہل خانہ کے لیے ریاستی منظوری کی ایک نئی سطح کا اضافہ کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK