چین کی ایور گرانڈے’ ڈیفالٹر‘قرار، دیگر کمپنیاں مشکل میں

Updated: December 10, 2021, 11:00 AM IST | Agency | New Delhi

قرض کے معاملے میں چین کی سب سے بڑی ریالٹی کمپنی کو جھٹکا، فچ کے اقدام سے چین کی حکومت دیگر کمپنیوں کے تئیں تشویش میں مبتلا

Evergrande is headquartered in Hong Kong.Picture:INN
ایورگرانڈے کا صدردفتر ہانک کانگ میں واقع ہے۔ تصویر: آئی این این

 ریٹنگ ایجنسی فچ نے چین کی سب سے بڑی ریئل اسٹیٹ کمپنی ایور گرانڈے کے اوورسیر بانڈز کو ڈیفالٹ قرار دیا ہے۔ عالمی ایجنسی نے یہ اقدام اسلئے اٹھایا  ہے کیونکہ ایورگرانڈے خطیر قرض کے   سود کی رقم کی ادائیگی کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اسے گزشتہ پیر کو ۸ء۸۲؍ کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی تھی تاہم ریئل اسٹیٹ کمپنی اس  معاملے میں ناکام رہی۔ 
چین کی حکومت کو خدشہ، کئی کمپنیاں لپیٹ میں آسکتی ہیں
 اس معاملے سے چین کی حکومت کو یہ ڈر لاحق ہے کہ اس کی لپیٹ میں دیگر کئی کمپنیاں نہ آجائیں۔ ایور گرانڈے نے ۳؍ دسمبر کو ایکسچینج فائلنگ میں کہا کہ یہ اپنے ری اسٹرکچرنگ پلان کے تحت آف شور کریڈٹ دینے والوں کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ پیر کو آخری مدت نکل جانے کے باوجود ایور گرانڈے نے کچھ امریکی ڈالر بانڈپر بقایا پیمنٹ نہیں کیا ہے، اس سے یہ ڈیفالٹ ہوگئی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو ایور گرانڈے نے اپنے صوبے گوانگ ڈونگ کی حکومت سے مدد طلب کی تھی۔ اس کے عوض حکومت کمپنی کے معاملات کا جائزہ لینے اور مدد کرنے کے لئے ایک ورکنگ گروپ بھیجنے پر رضامند ہوئی تھی۔
ڈیفالٹ کے اندیشے بڑھے
 انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ میں کمپنی کے لگ بھگ ۱۹؍ ارب ڈالر کے بانڈ پر کراس ڈیفالٹ بڑھنے کا اندیشہ اور بڑھ گیا ہے۔ یہ پراپرٹی سیکٹر اور گلوبل انویسٹرس کے اعتماد کو اور زیادہ متاثر کرے گا۔ ایور گرانڈے نے پیر کے روز ۳۰؍ دن کے مہلت کے ایام(گریس پیریڈ) کے آخر تک بھی ڈالر بانڈ کے ۲؍ سیٹس پر عام طور پر ۶؍ دسمبر کو کئے جانے والے انٹراسٹیٹ پیمنٹ کے ۸ء۲؍ کروڑ ڈالر کا پیمنٹ نہیں کیا۔
زیادہ قرض چین میں ہے
 ایو رگرانڈے کا زیادہ تر قرض مین لینڈ چین میں ہے، لیکن کمپنی کے پاس عالمی بانڈ میں تقریباً ۲۰؍ ارب ڈالر ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایور گرانڈے نے گریس پیریڈ ختم سے کچھ پہلے ڈالر بانڈ پر بقایا سود ادا کرکے کئی موقعوں پر غلطی سے بچی ہے۔ کمپنی نے نقد جٹانے کے لئے املاک فروخت کی ہے۔ اس کے بانی اور شیئر ہولڈر نے بھی حال ہی میں اپنے شیئرز کا ایک بڑا حصہ فروخت کیا ہے۔ 
مارچ۲۰۲۲ء تک ۸ء۳۵؍ کروڑ ڈالر ادا کرنا ہے
 ایور گرانڈے کو ۸ء۳۵؍ روڑ ڈالر بطور سود مارچ ۲۰۲۲ء تک ادا کرنا ہے۔ وہیں ۲۳؍ دسمبر ۲۰۲۲ء تک اسے ۴ء۷۵؍ کروڑ روپے سود کے طور پر ادا کرنا ہے۔ حال ہے ہفتوں میں ریئل اسٹیٹ ڈیولپر ایور گرانڈے کا پیمنٹ کرنے اور نقدی جٹانے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہی تھی۔ ایور گرانڈے چین کی دوسری سب سے بڑی ریئل اسٹیٹ کمپنی ہے۔ا س پر ۳۰۰؍ ارب ڈالر کا قرض ہے۔ یہ قرض چین کی جی ڈی پی کے موازنہ میں ۲؍ فیصد ہے۔ اس کے پاس ۲۸۰؍ شہروں میں ۱۳۰۰؍ پروجیکٹ ہیں۔ ہاؤسنگ کے علاوہ ایورگرانڈے نے الیکٹرک وہیکل ، اسپورٹس ، تھیم پارک وغیرہ میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK