احتجاج کے سبب چینی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ

Updated: November 30, 2022, 12:02 PM IST | Agency | Beijing

پیر کا دن اسٹاک مارکیٹ کا بدترین دن ثابت ہوا جب چینی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے ۷؍ فیصد تک کم ہوئی، منگل کو سرکاری اقدامات کے باوجود حالات بے قابو

The Chinese Stock Market Building in Shanghai.Picture:INN
شنگھائی میں واقع چینی شیئر مارکیٹ کی عمارت۔ تصویر :آئی این این

چین میں  کورونا  کے تعلق سے لگائے گئے  نئے لاک ڈاؤن کے خلاف ایک کہرام برپاہے۔ مظاہرین صرف پولیس کے ساتھ نہیں بلکہ حکومت سے ٹکراؤ  کیلئے کمر بستہ  ہیں۔ وہ  حکومت کے خلاف نعرے لگارہے ہیں اور قیادت( شی جن پنگ) کو ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ ان ہنگاموں کے سبب یہاں اسٹاک مارکیٹ میں زبردست گراوٹ  پیدا ہوئی ہے جس   نے سیاسی سماجی مسائل کے ساتھ معاشی بحران بھی پیدا کر دیا ہے۔پچھلے چار دنوں سے چین میں ہو نے والے مسلسل  عوامی مظاہروں کے بعد اب ایسا لگ رہا ہے کہ چینی اسٹاک ایکسچینج  بھی زمین بوس ہو جائے گا کیونکہ بڑے سے بڑے شیئر  کے دام یہاں نیچے آ رہے ہیں۔  یہ حالات حکومت کیلئے نئے چیلنج اور نئے مسائل پیدا کر رہے ہیںچین کے مغربی علاقے ژنجیانگ میں عمارت کی آتشزدگی کے ہلاکت خیز واقعے کے بعد صوبے کے دارالحکومت ارومچی میںمنگل کو کورونا پر قابو پانے کیلئے لگائی گئی بعض پابندیوں میں نرمی کر دی گئی ہے تاہم کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے پیر چینی سٹاک مارکیٹ کیلئے  بدترین  دن تھا۔ ارومچی کی ایک عمارت میں آتشزدگی کا ذمہ دار حکومت کی صفر کووڈ پالیسی کے تحت لگائی پابندیوں کو قرار دیا گیا۔ ان پابندیوں کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ ارومچی کی کُل آبادی ۴۰؍  لاکھ کا ایک غالب حصہ کئی ہفتوں سے اپنے گھروں تک محدود ہے۔ ژنجیانگ  کے حکام نے پیر کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شہری اپنے روزمرہ امور نمٹانے کیلئے منگل سے بسوں کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔قبل ازیں گزشتہ روز حکام کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ ’کم خطرے‘ والے علاقوں میں بعض لازمی کاروبار دوبارہ شروع کرنے کیلئے بھی درخواست دی جا سکتی ہے، تاہم ان کاروباری سرگرمیوں کی رفتار پہلے سے نصف ہو گی۔ عوامی ٹرانسپورٹ اورپروازیں ’منظم انداز میں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔  ادھر چینی اسٹاک مارکیٹ میں پیر مہینے کا بدترین دن رہا۔ مالیاتی نرمی کے حالیہ اقدامات بھی لاک ڈائون کے خلاف مظاہروں کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین میں سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنے میں ناکام رہی۔ڈالر کے مقابلے میں یوآن( چینی کرنسی) کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ امن و امان کے خدشات کے پیش نظر بڑی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف امریکہ کے کریک ڈاون کی وجہ سے ان فرموں کے شیئروں کی قیمتیں بھی کم ہوئیں۔ مشکل کا شکار معیشت کو سہارا دینے کیلئے  چین کے مرکزی بینک نے جمعہ کو لازمی ریزرو شرح (آر آر آر) میں کمی کی، لیکن اس اقدام کی اسٹاک مارکیٹ میں معمولی پذیرائی دیکھی گئی۔ ریزرو شرح میں کمی جس کی بڑے پیمانے پر توقع کی جا رہی تھی، کی وجہ سے چینی کرنسی پر دباؤ بڑھا۔ آن شور یوآن کی قیمت میں ایک موقعہ پر ڈالر کے مقابلے  میں ۱ء۱؍ فیصد سے ۷ء۲۴؍ فی ڈالر تک کمی ہوئی جو ۱۰؍ نومبر کے بعد سے نرم ترین سطح ہے۔ یوآن کی ڈومیسٹک ٹریڈنگ ۷ء۱۹؍پر ختم ہوئی۔ فرانسیسی کارپوریٹ اور انویسٹمنٹ بینک نیٹ ورک سے وابستہ ماہر معیشت گیر این جی کا کہنا ہے کہ مارکیٹ ایسی غیر یقینی صورت حال پسند نہیں کرتی جس میں سرمایہ کاری مشکل ہو اور چین کے مظاہرے واضح طور پر اسی کیٹگری میں آتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کار خطرے دیکھ کر مزید محتاط ہو گئے ہوں گے۔‘ ایک دہائی قبل صدر شی جن پنگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے چین میں سول نافرمانی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس سول نافرمانی کی وجہ صدر شی کی صفر کووڈ پالیسی اور اس سے جنم لیتی شہری بے چینی ہے جبکہ وائرس سے یومیہ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ریکارڈ زیادہ ہے۔چینی سرکاری ذرائع کی جانب سے سوشل میڈیا پر زیر گردش تصاویر، ویڈیو یا مظاہروں کے بارے میں کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب چین میں کورونا مریضوں کی یومیہ تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔اتوار کو ۴۰؍ ہزار سے زائد نئے کیس رپورٹ کئے گئے جن کی وجہ سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور نقل و حرکت سمیت کاروبار پر دوسری پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ کورونا کی وجہ سے چینی معیشت پر اثرات کا تازہ ثبوت گزشتہ اتوار کو سامنے آنا والا ڈیٹا ہے جس کے مطابق کئی صنعتی اداروں کا مجموعی منافع جنوری سے اکتوبر کے عرصے میں مزید کم ہوا ہے۔بات واضح ہے کہ چین میں حکومت نے دس تاہم کا استعمال کیا تھا اور اب عوام اس سے بیزار ہو گئے ہیں اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حالات تقریباً بغاوت جیسی ہیں اس لئے آنے والے دنوں میں چینی حکومت کیلئے ان حالات کا سامنا کرنا یا اس بحران سے باہر نکلنا آسان نہیں ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK