چینی فوج شمال مشرقی خطے میں پیٹرولنگ میں مصروف ، توانگ میں سرگرمیوں میں اضافہ

Updated: October 27, 2021, 9:28 AM IST | guwahati

ہندوستانی فوج بھی یہ اعتراف کررہی ہے کہ خطے میں چینی فوج کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے لیکن اسے اب بھی خطرے کے نشان سے دور قرار دیتی ہے

There has been a worrying increase in patrolling by the Chinese military on the border.
سرحد پر چینی فوج کی جانب سےپیٹرولنگ میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے

چینی فوج یعنی پی ایل اے نے ہندوستان کے شمال مشرقی خطے کے متعدد علاقوں میں اپنی موجودگی درج کروانی شروع کردی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ یہاں چینی فوج نے پیٹرولنگ شروع کردی ہے جس کی وجہ سے یہاں پر سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔  خاص طور پر توانگ خطے میں  چینی فوجی کی نقل و حرکت میں واضح اضافہ درج کیا گیا ہے جس کا اعتراف ہندوستانی فوج  اور حکام کے ذرائع بھی کررہے ہیں لیکن  وہ اب بھی یہ یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ خطرے کے نشان سے بہت نیچے  ہے۔ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق جو ڈیٹا اس تعلق سے اب تک حاصل کیا گیا ہے  اس کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں  ہندوستانی سرحد پر چینی فوج نے سرگرمیوں میں نہ صرف اضافہ کیا ہے وہاں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کا کام بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ پی ایل اے کی ٹریننگ سروس اور اس کے ساتھ ہی چینی فوج کے اعلیٰ افسران نے بھی اپنے دورے جاری رکھے ہیں جس کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ چین کے رادے کیا ہیں۔ 
 توانگ خطے میں لنگ رولا ، زمی تھانگ  اور بملا سیکٹرس میں  خاص طور پر چینی فوج نے اپنی  نقل و حرکت میں اضافہ کیا ہے۔ اس علاقے میں چینی فوج ساز و سامان بھی لا رہی ہے۔  دیگر میڈیا کی رپورٹس میں بھی اس خطرہ کی جانب نشاندہی کی جارہی ہے کہ چینی فوج نے صرف فوجی پیٹرولنگ ہی نہیں شروع کر رکھی ہے بلکہ وہ راڈار اور ڈرون کی مدد سے بھی نگرانی کررہا ہے۔ حالانکہ آرمی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سےچین نے اپنی  سرگرمیوں میں اضافہ کیا  ہے لیکن اس وقت جو حالات ہیں وہ  مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومتی سطح پر بھی چین کو مصروف رکھنے کی سرگرمی شروع کی جائے۔ ایسٹرن آرمی کمانڈر لیفٹیننٹ  منوج پانڈے  نےگزشتہ ہفتے ہی کہا تھا کہ چینی فوج نے کچھ انفراسٹرکچر تیار کئے ہیں لیکن ان سے ابھی ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہم فی الحال ان پر نظر رکھ رہے ہیں اور حالات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK