ٹی ایم سی کی مہوا موئترا اَور کیرتی آزاد نے’ رکنیت ‘لی، اب تک ۴۰؍ ہزار ممبر۔ ’’تمام کاکروچیز کیلئے نیا پلیٹ فارم‘‘، اسے نوجوانوںکے غصے اور بے چینی کی عکاسی قرار دیا جارہاہے
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 11:33 PM IST | New Delhi
ٹی ایم سی کی مہوا موئترا اَور کیرتی آزاد نے’ رکنیت ‘لی، اب تک ۴۰؍ ہزار ممبر۔ ’’تمام کاکروچیز کیلئے نیا پلیٹ فارم‘‘، اسے نوجوانوںکے غصے اور بے چینی کی عکاسی قرار دیا جارہاہے
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کے ایک تبصرہ پرجو تنازع ہوا، وہ ان کی وضاحت کے بعد بھی تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے ’ایکس ‘ پر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ بنالی جس نے اپنا طنزیہ منشور بھی جاری کیا ہے۔ یہ مہم تیزی سے وائرل ہوئی اور اس میں ترنمول کانگریس کی لیڈر مہوا مویترا اور سابق کرکٹر نیز رکن پارلیمان کیرتی آزاد بھی شامل ہوگئے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے بعض بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کچھ نوجوان کاکروچ کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں جگہ، پھر وہ میڈیا، سوشل میڈیا یا آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ بن کرسب پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔‘‘ان کے اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سسٹم پر تنقید کرنے اوراس کے خلاف آواز اٹھانےوالوں کو چیف جسٹس ’’کاکروچ‘‘ کہہ کر ذلیل کررہے ہیں۔ اس کے خلاف فوری طو رپر برہمی کااظہار کیاگیا اور سوشل میڈیا پر پہلے ’’آئی ایم پراؤڈ کاکروچ‘‘(میں فخریہ کاکروچ ہوں) کا ہیش ٹیگ چلا اور پھر کسی منچلے نے’ایکس‘ ہر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک ہینڈل بنادیا۔اس نےخود کو’’نوجوانوں کی، نوجوانوں کیلئے، نوجوانوں کے ذریعہ سیاسی تحریک‘‘ کے طور پر متعارف کیا۔’پارٹی ‘کا دعویٰ ہے کہ صرف ۲؍دن میں اس کے۴۰؍ہزار سے زیادہ رکن بن چکے ہیں۔
مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پارٹی میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، جس کے جواب میں پارٹی کے اکاؤنٹ نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اسی طرح کیرتی آزاد نے بھی طنزیہ انداز میں پوچھا کہ پارٹی میں شامل ہونے کیلئے کیا اہلیت درکار ہے۔ پارٹی نے جواب دیا کہ ’’۱۹۸۳ء کا ورلڈ کپ جیتنا کافی ہے۔‘‘ کیرتی آزاد ۱۹۸۳ء کا ورلڈ کپ جیتنے والی کرکٹ ٹیم کا حصہ تھے۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے اپنے منشور میں بے روزگار ، ’’کرونکلی آن لائن‘‘ اور’’پروفیشنل شکایت کنندہ‘‘ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ممبرشپ مہم شروع کی ہے۔ پارٹی کے کئی میم، اے آئی سے تیار کردہ ترانے اور سیاسی طنزیہ پوسٹس بھی وائرل ہو رہی ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ ان کے ریمارکس کو میڈیا نے غلط انداز میں پیش کیا۔ ان کے مطابق ان کا اشارہ ان لوگوں کی طرف تھا جو ’’جعلی ڈگریوں‘‘ کے ذریعےوکالت جیسے پیشوں میں داخل ہوکر نظام پر حملے کرتے ہیں،عام بے روزگار نوجوان ان کے نشانے پر نہیں تھے۔ تاہم کچھ لوگوں نے ان کے تبصرہ کا ویڈیو شیئر کر کے ان کی صفائی پر سوال اٹھایا ہے۔
بہرحال ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘کا کہنا ہے کہ وہ ان نوجوان ہندوستانیوں کی نمائندگی کرتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سسٹم انہیں نظر انداز کررہاہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ تحریک خود کو ’’سست اور بے روزگار لوگوں کی آواز‘‘ کہتی ہے اور اپنا مقصد یہ بتاتی ہے کہ ’’یہ ان لوگوں کی سیاسی جماعت ہے جنہیں نظام شمار کرنا بھول گیا۔‘‘ ویب سائٹ پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہےکہ یہ پلیٹ فارم آئینی قدروں اور جمہوری حقوق کی حمایت کرتا ہے نیز خود کو بے روزگاری، نوجوانوں کی مایوسی اور سماجی عدم مساوات کے خلاف طنز و مزاح پر مبنی علامتی احتجاج کے طور پر پیش کرتا ہے۔اگرچہ اس کا انداز طنزیہ ہے، لیکن سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین کا ماننا ہے کہ یہ تحریک ڈیجیٹل طور پر متحرک ان نوجوانوں کے غصے اور بے چینی کی عکاسی کرتی ہے جو بیروزگاری اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارف ابھیجیت ڈپکے کو اس مہم کا بانی قرار دیا جارہاہے۔سنیچر کو انہوں نے پوسٹ کیاکہ’’تمام’کاکروچیز‘ کیلئے ایک نیا پلیٹ فارم لانچ کر رہا ہوں۔ اگر آپ شامل ہونا چاہتے ہیں تو لِنک پر کلک کریں۔ اہلیت : بے روزگاری، سست، مسلسل آن لائن رہنا اور پیشہ ورانہ انداز میں شکایت کرنے کی صلاحیت رکھنا ہے۔‘‘