سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں پبلک ٹرانسپورٹ میں پینک بٹن اور جی پی ایس ٹریکنگ لازمی قرار دیا، ساتھ ہی عدالت نےریاستوں کو بغیر حفاظتی نظام کے گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ اور پرمٹ دینے سے روکنے کی ہدایت دی۔
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 10:15 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں پبلک ٹرانسپورٹ میں پینک بٹن اور جی پی ایس ٹریکنگ لازمی قرار دیا، ساتھ ہی عدالت نےریاستوں کو بغیر حفاظتی نظام کے گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ اور پرمٹ دینے سے روکنے کی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ نے بدھ کو ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ مدت میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام پبلک سروس گاڑیاں فٹنس سرٹیفکیٹ یا پرمٹ دینے سے پہلے لازمی طور پر وہیکل لوکیشن ٹریکنگ ڈیوائسز اور پینک بٹن سے لیس ہوں۔واضح رہے کہ جسٹس جے بی پاردھی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن پر مشتمل بینچ نے یہ ہدایات ان گاڑیوں میں سفر کرنے والی خواتین، بچوں اور بوڑھوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور نازک حالات میں بروقت ایمرجنسی رسپانس میں سہولت فراہم کرنے کی کوششوں کے تحت دیں۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک : اسکولوں میں حجاب پر پابندی والا حکم واپس لیاگیا
بینچ نے نوٹ کیا کہ سنٹرل موٹر وہیکل رولز،۱۹۸۹ء کے رول۱۲۵؍ ایچ کے تحت پبلک سروس گاڑیوں میں پینک بٹن کی تنصیب لازمی ہونے کے باوجود، صرف ایک فیصد گاڑیوں میں ایسی سہولتیں موجود ہیں۔اس سے قبل، روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز وزارت نے۲۸؍ نومبر۲۰۱۶ء کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں یکم اپریل۲۰۱۸ء سے پبلک سروس گاڑیوں میںجی پی ایس اور ایک یا زیادہ ایمرجنسی بٹن لازمی قرار دیے گئے تھے، سوائے دو پہیوں، ای رکشا، تین پہیوں اور ان ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے جن کے لیے موٹر وہیکل ایکٹ۱۹۸۸ء کے تحت پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں شیوسینا (ادھو) نے جھال موڑی تقسیم کرکے احتجاج کیا
تاہم، نوٹیفکیشن کے باوجود، ریاستیں اور یو ٹی اقدامات پر عملدرآمد میں سست روی کا مظاہرہ کر رہی تھیں، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ نے بدھ کو یہ ہدایات دیں۔ دراصل یہ ہدایات اس وقت جاری کی گئی جب عدالت بڑھتے ہوئےسڑک حادثات سے نمٹنے کے لیے ایک سماجی کارکن کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضداشت ، راج شیکھرن بمقابلہ یونین آف انڈیا پر سماعت کر رہی تھی۔بینچ نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ موٹر وہیکلز ایکٹ کی دفعہ۵۶؍ اور۶۶؍ کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ یا پرمٹ کی گرانٹ اس وقت تک روکے رکھیں جب تک وی ایل ٹی ڈی ایس اور پینک بٹن کی تنصیب مکمل نہ ہو جائے۔بعد ازاںعدالت نے مرکز سے کہا کہ وہ مینوفیکچررز سے بات چیت کرے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایسے آلات گاڑیوں کی تیاری کے وقت ہی نصب کیے جائیں۔