Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے پر سوال اٹھایا، کہا: ’’ضمانت اصول، جیل استثنا‘‘

Updated: May 18, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے یو اے پی اے مقدمات میں ضمانت سے متعلق جنوری ۲۰۲۶ء کے اپنے ہی فیصلے پر غیر معمولی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ضمانت ایک اصول اور جیل ایک استثنا ہے‘‘، حتیٰ کہ دہشت گردی مخالف قوانین کے تحت بھی۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور اجل بھویان کی بنچ نے کہا کہ عدالت ۲۰۲۱ء کے تاریخی کے اے نجیب فیصلے کے اصولوں کو صحیح طور پر لاگو کرنے میں اس وقت ناکام رہی تھی، جب اس نے دہلی فسادات سازش کیس میں شرجیل امام اور عمر خالد کو ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی عدالتی پیش رفت میں اپنے ہی حالیہ فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) جیسے سخت قوانین کے تحت بھی ’’ضمانت اصول اور جیل استثنا‘‘ ہی رہنا چاہیے۔ یہ اہم تبصرے جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس اجل بھویان کی بنچ نے پیر کو کئے، جب وہ جموں کشمیر کے رہائشی سید افتخار اندرابی کی درخواستِ ضمانت کی سماعت کر رہی تھی۔ اندرابی کو ۲۰۲۰ء سے ایک مبینہ ’’نارکو ٹیرر‘‘ کیس میں قید رکھا گیا تھا، جس کی تحقیقات این آئی اے کر رہی ہے۔ عدالت نے اندرابی کو ضمانت دیتے ہوئے ۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کے اپنے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں دہلی فسادات سازش کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۰؍ سال میں ایک لاکھ سرکاری اسکول بند، ۲۶ء۲؍ کروڑ بچوں کا داخلہ کم: رپورٹ

اس وقت جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا کی بنچ نے خالد اور امام کو راحت دینے سے انکار کیا تھا، اگرچہ اسی کیس میں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کو ضمانت دی گئی تھی۔ پیر کو سماعت کے دوران جسٹس اجل بھویان نے کہا کہ ’’ضمانت کوئی خالی قانونی نعرہ نہیں ہے۔ یہ ایک آئینی اصول ہے جو آرٹیکل ۲۱؍ سے برآمد ہوتا ہے اور بے گناہی کا تصور کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔‘‘ عدالت نے واضح کیا کہ ۲۰۲۱ء میں دیے گئے تاریخی ’’Union of India vs K A Najeeb‘‘ فیصلے نے پہلے ہی یہ اصول قائم کر دیا تھا کہ اگر کسی شخص کو طویل عرصے تک بغیر مقدمے کے جیل میں رکھا جائے تو یو اے پی اے کے تحت موجود سخت قانونی رکاوٹیں بھی نرم پڑ سکتی ہیں۔

بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے جنوری کے فیصلے میں اسی پابند نظیر کو صحیح انداز میں لاگو کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے کہا کہ ’’کے اے نجیب فیصلہ پابند قانون ہے اور یہ نظیر تحفظ کا حق فراہم کری ہے۔ اسے ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی کمزور بنچیں نظر انداز نہیں کر سکتیں۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی بنچ کو ایسے فیصلے پر شبہ ہو تو معاملہ بڑی بنچ کے پاس بھیجا جانا چاہیے، نہ کہ اس سے انحراف کیا جائے۔ یہ تبصرے اس لیے بھی اہم مانے جا رہے ہیں کیونکہ ۵؍  جنوری کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یو اے پی اے مقدمات میں صرف ٹرائل میں تاخیر ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ نہیں بن سکتی۔ اس وقت عدالت نے خالد اور امام سے کہا تھا کہ وہ تمام محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے یا ایک سال گزرنے کے بعد دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’عدالتی فیصلوں میں شواہد اور حقائق کی جگہ عقیدے پر انحصار تشویشناک ہے‘‘

پیر کو نئی بنچ نے اس مؤقف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر مزید ایک سال قید میں رکھنا آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر کارکنوں کو ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان فسادات میں ۵۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ پولیس کا الزام ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے مودی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے ایک بڑی سازش تیار کی تھی۔

ملزمان پر یو اے پی اے، اسلحہ ایکٹ، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے قانون اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔ عدالت نے اپنے تازہ تبصرے میں یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ قومی سلامتی سے متعلق قوانین ضمانت کے معیار کو سخت بنا سکتے ہیں، لیکن وہ آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت آزادی اور نظربندی کے درمیان بنیادی توازن کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔ اندرابی کے کیس میں عدالت نے نوٹ کیا کہ ان کے قبضے سے براہِ راست کوئی ممنوعہ سامان برآمد نہیں ہوا تھا اور وہ تقریباً پانچ برس سے قید میں ہیں۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دینے کا حکم دیا، البتہ یہ اختیار این آئی اے عدالت کو دیا کہ وہ مناسب شرائط طے کرے۔ یہ فیصلہ اور اس کے ساتھ سپریم کورٹ کی خود تنقیدی آبزرویشنز اب ہندوستان کے دہشت گردی مخالف قوانین، شہری آزادیوں، ضمانت کے اصولوں اور عدالتی نظیروں کے اطلاق پر نئی بحث چھیڑ سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK