Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناگپور میں بلڈوزر کارروائی کا ۱۰؍ سال کا مکمل ڈیٹا طلب

Updated: July 16, 2026, 9:28 AM IST | Nagpur

بامبے ہائی کورٹ نےمیونسپل کارپوریشن سے پوچھا کہ مارچ ۲۰۲۵ء کے فساد کے بعد جتنی تیزی سے کارروائی کی گئی تھی کیا ماضی میں بھی ہوئی ہے؟

Bombay High Court building. Photo: INN
بامبے ہائی کورٹ کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

:بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے ناگپور میونسپل کارپوریشن (این ایم سی)  کے خلاف انتہائی سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  اس سے گزشتہ ۱۰؍ برس میں کی گئی تمام طرح کی بلڈوزر یا انہدامی کارروائی کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ کورٹ نے شہری انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ گزشتہ دس برسوں کا ایسا ریکارڈ عدالت میں پیش کرے جس سے معلوم ہو سکے کہ آیا اس نے ماضی میں بھی غیر قانونی تعمیرات کےخلاف اسی طرح سے انتہائی برق رفتاری سے انہدامی نوٹس جاری کرنے کے بعد بلڈوزر کارروائی کی تھی، جتنی مارچ۲۰۲۵ء کے ناگپور فسادات کے بعد کی گئی۔ عدالت ان درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے جن میں فسادات کے ملزمین کے مکانات منہدم  کئےجانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ 
 عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ آیا میونسپل کارپوریشن نے قانون کا یکساں اطلاق کیا یا حالیہ کارروائی غیر معمولی اور امتیازی نوعیت کی تھی۔ این ایم سی کی جانب سے سینئر وکیل ایم جی بھانگڑے نےصفائی پیش کرنے کی کوشش کی کہ ۲۱؍ مارچ ۲۰۲۵ءکو ناگپور کے پولیس کمشنر نے ایک مکتوب کے ذریعے پہلے جاری کردہ ہدایات کی توثیق کرتے ہوئے فسادات سے متعلق غیرقانونی تعمیرات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کو کہا تھا۔بھانگڑے کے مطابق انہدامی کارروائی مہاراشٹر ریجنل اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایکٹ کے تحت قانونی طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے کی گئی ہے، اس میں کہیں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی ہے۔ اس عذرِ لنگ پرجسٹس انل کیلور اور جسٹس راج واکوڑے  کی بنچ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  این ایم سی کو ہدایت جاری کی کہ  وہ گزشتہ دس برسوں کے ایسے تمام معاملات کی تفصیلات پیش کرے جن میں نوٹس جاری ہونے کے فوراً بعد انہدامی کارروائی کی گئی، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ حالیہ کارروائی معمول کی انتظامی کارروائی تھی یا اس میں امتیازی سلوک کا عنصر موجود تھا۔
 اس معاملے میں پٹیشن داخل کرنے والے عبد الحفیظ شیخ لال اور ظہیر النساء شمیم خان نے اپنی عرضیوں میں واضح طور پر الزام لگایا کہ انہیں ۲۲؍ مارچ کو نوٹس دیا گیا اور وہ سنیچر کا دن تھا تاکہ ہم کوئی کارروائی نہ کرسکیں اور پھر پیر کی صبح یعنی ۲۴؍ مارچ کو بلڈوزر کارروائی کردی گئی ۔ساتھ ہی ان کا جواب بھی اسی دن مسترد کردیا گیا۔ بنچ نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ عرضی گزاروں کے عدالت پہنچ جانے کے باوجود اور یہاں سے روک لگ جانے کے باوجود این ایم سی افسران نے انہدامی کارروائی جاری رکھی ۔ 
 بنچ نےناگپور میونسپل کارپوریشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اتنے شارٹ نوٹس پر اتنی برق رفتاری کے ساتھ انہدامی کارروائی کے لئے میونسپل کارپوریشن کے افسران قابل مبارکباد ہیں جبکہ ہم نے دیکھا ہے کہ کئی معاملات میں تو ۱۵؍ ۱۵؍ سال گزرگئے ہیں مگر میونسپل افسران نے کوئی انہدامی یا بلڈوزر کارروائی نہیں کی ہےاسی لئے  ہم وہ تمام ریکارڈس دیکھنا چاہیں گے جس میں انہوں نے اتنی ہی برق رفتاری کا مظاہرہ کیا ہو۔ اسی لئے اگلی سماعت میں یہ تمام ڈیٹا اور میونسپل کارپوریشن کا تفصیلی جواب داخل کیا جائے۔ اس معاملہ کی اگلی سماعت اب ۳؍ اگست کو ہو گی۔ 

nagpur Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK