Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈاکٹروں پر ہونے والے حملوں کے خلاف سخت قانون بنانے کا مطالبہ

Updated: July 10, 2026, 11:09 AM IST | Ali Imran | Nagpur

ایمس ناگپور کے ڈاکٹروں نے کلیان میں ڈاکٹروں پر ہوئے حملوں کی مذمت کی، مرکزی قانون بنانے کی مانگ۔

Shiv Sena Leader Attacks Female Doctor.Photo:INN
خاتون ڈاکٹر پر حملہ کرتے شیوسینا لیڈر-تصویر:آئی این این
آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس( ایمس) کی فیکلٹی ایسوسی ایشن نے ممبئی سے قریب واقع کلیان کے شاستری نگر اسپتال میں ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی اہلکاروں پر پرہوئے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ ۹؍جولائی کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے ذریعے،  ایسوسی ایشن نے متاثرہ طبی اہلکاروں کیلئے اپنے مکمل تعاون اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر ملک بھر میں ڈاکٹروں کی حفاظت کا مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔
 
 
آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کی فیکلٹی ایسوسی ایشن (ایف اے ایم ای ایس) نے اس واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور طبی اہلکاروں کی حفاظت کیلئے ایک سخت قانون کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر امریندر سنگھ ملہی اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر کیشو گوئل نے کہا کہ طبی کارکنان انتہائی نامساعد حالات اور نفسیاتی دباؤ میں کام کرتے ہیں۔ ان پر حملے صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام اور مریضوں کی دیکھ بھال پر حملہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۲۳ء میں کیرالہ میں آن ڈیوٹی ڈاکٹروں کا قتل اور ۲۰۲۴ ءمیں کولکاتا کے میڈیکل کالج میں ایک ڈاکٹر پر غیر انسانی تشدد اور قتل جیسے واقعات ملک کی تشویشناک صورتحال کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ چونکہ ریاستی سطح کے قوانین ایسے واقعات کو روکنے کیلئے ناکافی ہیں، اسلئے اب قومی سطح پر ایک یکساں اور موثر قانون کی فوری ضرورت ہے۔
 
 
پریس ریلیز میں لکھا ہے کہ سخت سینٹرل پروٹیکشن آف ہیلتھ ورکرز ایکٹ کا فوری طور پر نفاذ کیا جائے، تاکہ طبی کارکنان کے خلاف تشدد کو ملک بھر میں قابلِ سماعت اور ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جاسکے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ کلیان کے شاستری نگر اسپتال میں پیش آئے واقعے کی شفاف اور بروقت تحقیقات کی جائے اور ملزمین کو فوری طور پر سزا دی جائے۔ مستقبل میں ڈاکٹروں پر حملوں کے مقدمات کی سماعت تیز کرنے کیلئے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں۔ تمام اسپتالوں میں سخت معیاری حفاظتی انتظامات جیسے تربیت یافتہ سیکوریٹی گارڈز، سی سی ٹی وی نگرانی، کنٹرولڈ انٹری اور پینک الارم سسٹم کو لازمی قرار دیا جائے۔ نیز، مرکزی اور ریاستی حکومتوں، طبی انجمنوں، فیکلٹی باڈیز اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کے نمائندوں کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی جانی چاہئے تاکہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اہلکاروں کی طویل مدتی حفاظت کیلئے ایک ٹھوس قومی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK