سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ بی جے پی غلط طریقوں سے دو تہائی اکثریت حاصل کر نا چاہتی ہے ، اس تعلق سےسبھی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 9:14 AM IST | New Delhi
سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ بی جے پی غلط طریقوں سے دو تہائی اکثریت حاصل کر نا چاہتی ہے ، اس تعلق سےسبھی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش۔
کانگریس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ’حد بندی بل‘ کی مخالفت کا اعلان کر دیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے جمعرات کے روز پریس کانفرنس کر کے اس فیصلے کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی غلط طریقے سے دو تہائی اکثریت حاصل کر رہی ہے۔ انڈیا بلاک متحد ہوکر اس کی مخالفت کرے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’پارلیمنٹ کی موجودہ نشستوں میں ہی ایک تہائی خواتین کو ریزرویشن دے دیا جائے تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ یہ فیصلہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں کیا گیا ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ ہم سبھی اپوزیشن جماعتوں کے رابطے میں ہیں۔ بی جے پی چالاکی سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے، مگر اسے لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت نہیں مل سکتی۔ بی جے پی کی دو تہائی اکثریت داغدار اکثریت ہوگی۔
ہم ڈی ایم کے اورآپ کے ساتھ رابطے میں ہیں
جے رام رمیش نے کہا ’’لوک سبھا میں اس قدر جوڑ توڑ کے بعد بھی ان کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے ۔ چندہ چوری، پیپر لیک، ای ۲۰؍ ایتھنال گھپلے میں بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ان کے بیٹے کا معاملہ، امریکہ کے ساتھ ڈیل، خارجہ پالیسی جیسے اہم مسائل ہم انڈیا بلاک کے ساتھ متحد ہو کر اٹھائیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریہ سلے نے گزشتہ شام کو ہی گشت کر رہی کچھ غلط خبروں کی تردید کر دی۔ سپریہ سلے نے بدھ کو کہا تھا کہ اگر۵۰؍ فیصد سیٹیں بڑھانے کی شرط نافذ کی جاتی ہے تو ہی ان کی پارٹی بل کی حمایت کرنے پر غور کرے گی۔
کانگریس لیڈر نے میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو تہائی اکثریت کے تعلق سے میڈیا میں جو غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں، ہم اس نوعیت کی تمام خبروں کی تردید کرتے ہیں۔ دو تہائی اکثریت کے مسئلے پر ہم ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی کےساتھ رابطے میں بھی ہیں۔ ہم ان سبھی کے رابطے میں ہیں جو۱۷؍ اپریل کو ہمارے ساتھ تھے۔ اس معاملے پر متحد ہوکرآواز اٹھائی جا ئے گی ۔
اس موقع پرجے رام رمیش نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ’’آج میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حکومت دو تہائی اکثریت سے دور ہے۔ ڈی ایم کے اس معاملے پر بی جے پی کا ساتھ نہیں دے گی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ون نیشن ون الیکشن‘ پر جے پی سی کی رپورٹ۱۰؍ اگست تک آنی ہے، لیکن یہ آئین کے خلاف ہے ۔ رپورٹ جو بھی ہو، ہم اصولی طور پر اس کی مخالفت کریں گے۔
متعدد مسائل پرمودی حکومت کو جوابدہ بنایاجائےگا : کھرگے
کانگریس نے پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کے دوران مودی حکومت کو کئی اہم عوامی اور قومی مسائل پر جوابدہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ چندہ چوری، عقیدہ سے دھوکہ، پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، اداروں پر قبضہ، سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی کوششیں، متعدد گھوٹالے اور بدعنوانی کے الزامات، کمر توڑ مہنگائی، خارجہ پالیسی کی ناکامیاں اور اسٹرٹیجک غلطیاں جیسے اہم مسائل ہیں جن پر کانگریس پارلیمنٹ میں مودی حکومت کو جوابدہ بنائے گی ۔ ملکارجن کھرگے نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بتایا کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کے اجلاس میں عوام کی زندگیوں اور ان کی امنگوں کو متاثر کرنے والے ان اہم مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کانگریس صدر کے مطابق تعلیمی نظام میں پیپر لیک کے مسلسل واقعات اور نظامی بدعنوانی بھی مانسون اجلاس کے دوران پارٹی کے اہم موضوعات میں شامل رہے گی۔ کانگریس کا الزام ہے کہ تعلیمی اداروں اور نظام میں بدعنوانی کے باعث طلبہ اور نوجوانوں کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔کھرگے نے یہ بھی کہا کہ کانگریس مختلف اداروں پر قبضے اور سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کے معاملے کو بھی پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری اداروں اور سیاسی نظام کو کمزور کرنے والی سرگرمیوں پر حکومت سے جواب طلب کیا جائے گا۔