بی جےپی لیڈروں، وزیروں اور وزرائے اعلیٰ کی فوج نے راہل گاندھی کو نشانہ بنای مگرسوشل میڈیا پرمتعلقہ ویڈیو کی دھوم۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 9:22 AM IST | Agency | New Delhi
بی جےپی لیڈروں، وزیروں اور وزرائے اعلیٰ کی فوج نے راہل گاندھی کو نشانہ بنای مگرسوشل میڈیا پرمتعلقہ ویڈیو کی دھوم۔
اندور میں ’’چھاتروں کی گونج‘‘ کی غیر معمولی کامیابی سے پہلے ہی فکر میں مبتلا بی جےپی پروگرام میں وزیراعظم مودی کی نقل اُتارے جانے پر آگ بگولہ ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں، مرکزی وزیروں اور وزرائے اعلیٰ کی فوج نے اتوار کو اپنے اپنے طور پر راہل گاندھی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’ناراض پھوپھا‘‘ اب ’’کامیڈین ‘‘بن گئے ہیں۔دوسری طرف اندور کے پروگرام کے اُس حصے کا ویڈیو جس میں وزیراعظم کی نقل اتاری گئی ہے، سوشل میڈیاپر دھوم مچارہاہے۔
کانگریس نے اسے انسٹا گرام، یوٹیوب اور ’ایکس‘ (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کیا ہے جہاں ویڈیو کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ صرف انسٹا گرام پر اسے ۲۴؍ گھنٹہ سے بھی کم وقفہ میں ایک کروڑ ۷۰؍ لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں جبکہ یوٹیوب پر ۱۵؍ لاکھ اور ایکس پر ۹؍ لاکھ کے قریب افراد نے ویڈیو دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ الگ الگ اکاؤنٹس سے بھی مذکورہ ویڈیو شیئر کیاگیا اور غیر معمولی طور پرمقبول ہورہاہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اندور میں ہنستا مسکراتا ذہین شخص آیا، پیشانی پر سکہ چپکایا اور گریٹ ہراسمنٹ کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔‘‘ بہرحال اس پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ مودی کی جی کی نقل کرتے ہوئے پُلکیت منی نے سامعین کی طرف دیکھتے اور ہنستے ہوئے ’’ماتا جی کو کرسی دو‘‘ بھی کہا تھا۔ بی جےپی نے اسے وزیراعظم کی آنجہانی ماں کی توہین قرار دیا حالانکہ پُلکیت نے یہ طنز ایک ریلی میں تقریر کے دوران ایک معمر خاتون کیلئے اسٹیج سے وزیراعظم کی کرسی دینے کی ہدایت کے واقعہ پر مبنی تھا۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ایکس پوسٹ کیا ہے کہ ’’وزیر اعظم مودیکی مرحوم والدہ کے بارے میں قابل اعتراض الفاظ اور راہل گاندھی کا اس پر ہنسنا شرمناک اور تکلیف دہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ماں سیاست کا موضوع نہیں ہے۔ کسی ماں کی توہین کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ ‘‘