Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک میں ناراض مسلمانوں کو منانے کی کانگریس کی مہم، نکالے گئے لیڈروں کو واپس لینے کااشارہ

Updated: April 22, 2026, 11:44 AM IST | Agency | Bengaluru

مسلم تنظیموں نے حکمراں جماعت کی کارروائی کو’امتیازی اورجانب دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا تھا اور پارٹی قیادت کو خط لکھا تھا، ڈی کے شیوکمار سرگرم۔

MLC Abdul Jabbar And MLC Naseer Ahmed.Photo:INN
ایم ایل سی عبدالجبار اورایم ایل سی نصیر احمد-تصویر:آئی این این
کرناٹک میں دو اہم مسلم لیڈروں کے خلاف تادیبی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے کمیونٹی اور سیاسی تناؤ کو ختم کرنے کیلئے کانگریس قیادت حرکت میں آگئی ہے۔ وزیر تعمیرات عامہ ستیش جارکی ہولی نے اس سلسلے میں’ڈیمیج کنٹرول‘کی قیادت کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ پارٹی اپنے فیصلے پر جزوی طور پر نظرثانی کر سکتی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جارکی ہولی نے کہا کہ اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے اعتماد کی بحالی پارٹی کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ہائی کمان سے اجازت لینے کے بعد اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ عبدالجبار پارٹی میں واپس آجائیں۔ مقصد اقلیتوں کا تحفظ اور ان کے خدشات کو دور کرنا ہے۔‘‘ خیال رہے کہ یہ سیاسی بحران اس وقت شروع ہوا جب کانگریس نے۹؍اپریل کو ہونے والے اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں ایم ایل سی عبدالجبار کو معطل کر دیا اورایم ایل سی نصیر احمد کو وزیر اعلیٰ سدارامیا کے سیاسی سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا۔
 
 
مسلم تنظیموں نے اس کارروائی کو’امتیازی اورجانب دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے۔ پارٹی قیادت کو لکھے گئے ایک خط میں تنظیموں نے کہا کہ سینئر لیڈروں کو صفائی کا موقع دیا جانا چاہئے تھا۔ اس فیصلے سے پارٹی کے روایتی حامیوں میں مایوسی پھیلی ہے، جس سے سیاسی نقصان کا خدشہ ہے۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ کیا تادیبی کارروائی صرف مخصوص طبقے کے لیڈروں تک محدود ہے؟
 
 
خیال رہے کہ کرناٹک کی سیاست میں مسلم کمیونٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ریاست میں ۱۳؍ فیصد سے زیادہ مسلم ہیں۔حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی بڑی جیت میں اقلیتی ووٹوں کا کلیدی کردار رہا ہے، جس کی وجہ سے پارٹی کسی بھی قسم کی ناراضگی مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ستیش جارکی ہولی نے اس معاملے پر کے پی سی سی کے صدر اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے تفصیلی مشاورت کی ہے۔ اب یہ معاملہ پارٹی ہائی کمان کے سامنے رکھا جائے گا تاکہ تادیبی کارروائی کو واپس لے کر کمیونٹی کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK