Updated: June 13, 2026, 10:37 AM IST
| New Delhi
راشٹر پتی بھون کے پاس’سیٹ چوری نہیں چلے گی‘‘ جیسے نعرے بلند کئے گئے، مدھیہ پردیش کے کانگریس ایم ایل ایز اورلیڈران کے ساتھ ساتھ سیکڑوں عام کارکنان بھی شریک ہوئے، احتجاج کو ختم کرانے کیلئے پولیس نے طاقت کا سہارا لیا، مظاہرین کو تحویل میں لے کر کچھ گھنٹوں کے بعد چھوڑ دیا، جنتر منتر پر بھی دھرنا دیا گیا۔
ایک کانگریس کارکن کو پولیس تحویل میں لیتے ہوئے۔ تصویر:پی ٹی آئی
کانگریس نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ کیے جانے کو جمہوری نظام پر دھبہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جمعہ کو یہاں احتجاج کیا اور الزام لگایا ہے کہ یہ کارروائی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے کی گئی ہے۔ کانگریس کی سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ میناکشی نٹراجن، مدھیہ پردیش کے انچارج ہریش چودھری، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری اور اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر امنگ سنگھار کے ساتھ ہی کئی اہم لیڈران اور ایم ایل ایز نے یہاں احتجاج کیا۔ دہلی پولیس نے راشٹر پتی بھون کے پاس سے مظاہرین کو بسوں میں بھر بھر کر لے گئی اور انہیں حراست میں لے لیا۔ دریں اثناء جنتر منتر پر بھی راجیو گاندھی پنچایت راج سنگھٹن (آر جی پی آر ایس) کے سیکڑوں کارکنان نے بھی پرامن احتجاج کیا اور نٹراجن کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کرنے کے اقدام کی سخت مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: مسلم اکثریتی بوتھ پر بی جے پی نے ۶۵۶ میں سے ۶۳۷ ووٹ حاصل کئے؛ مقامی افراد بھی حیران
راشٹرپتی بھون کے پاس احتجاج ختم ہونے کے بعد مدھیہ پردیش کانگریس کے ذمہ داران دہلی میں واقع پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے مدھیہ پردیش راجیہ سبھا الیکشن میں پارٹی کی امیدوار میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم منسوخ کئے جانے کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن نے مل کر بی جے پی کو راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ دلانے کا راستہ صاف کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس سے میناکشی نٹراجن، مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری، ریاست کے انچارج ہریش چودھری اور ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر امنگ سنگھار نے خطاب کیا۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے پاس راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ جیتنے کے لیے کافی اراکین اسمبلی نہیں تھے اور وہ ضروری تعداد سے۱۰؍ اراکین اسمبلی پیچھے تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب بی جے پی کانگریس کے اراکین اسمبلی میں پھوٹ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوئی تومیناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ کرانے کے لیے ناجائز طریقے اپنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن افسر نے حیدرآباد میں درج ایک مبینہ معاملے کی معلومات نہ دینے کی بنیاد پر نٹراجن کی نامزدگی مسترد کی، جبکہ امیدوار کے خلاف کوئی مجرمانہ معاملہ زیر التوا نہیں ہے اور عدالت نے بھی کسی مبینہ جرم کا نوٹس نہیں لیا ہے۔ فارم۲۶؍میں میناکشی نٹراجن نے تمام ضروری معلومات فراہم کی تھیں اور جن نکات کا ان پر کوئی اطلاق نہیں تھا، وہاں ’لاگو نہیں ‘ لکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو: وجئے کی کامیابی کے بعد ادارکار راگھوا لارینس کا سیاست میں قدم رکھنے پرغور
میناکشی نٹراجن نے کہا ’’یہ کہا گیا ہے کہ میں نے راجیہ سبھا نامزدگی کے فارم۲۶؍ میں معلومات چھپائیں۔ فارم۲۶؍ میں جن باتوں کی تفصیلات مانگی جاتی ہیں ان میں ووٹر لسٹ میں امیدوار کا سیریل نمبر، امیدوار کا فون نمبر، ای میل وغیرہ کی معلومات، پین اور انکم ٹیکس ریٹرن کی معلومات، اثاثوں اور دیگر چیزوں کی تفصیلات شامل ہیں، لیکن وہ نکات جن پر یہ ساری باتیں شروع ہوئیں، وہ ہیں امیدوار کے خلاف زیر التوا مجرمانہ معاملات کی تفصیلات، ان معاملات کی تفصیلات جن میں اسے کسی قابل سزا جرم کے لیے قصوروار ٹھہرایا گیا ہو۔ میں نے فارم۲۶؍ میں یہی معلومات دی کہ مجھ پر ایسا کچھ بھی لاگو نہیں ہے... کیونکہ مجھ پر ایک لیگل نوٹس ہے، جس کا عدالت نے نوٹس تک نہیں لیا ہے۔