Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو پی آئی ادائیگیوں پر فیس؟ حکومت کے نئے مجوزہ قانون سے کیا بدل سکتا ہے؟

Updated: August 05, 2026, 3:59 PM IST | Mumbai

ہندوستانی حکومت نے ڈجیٹل ادائیگی کے نظام کو زیادہ پائیدار بنانے کے لیے ایک نیا قانونی فریم ورک تجویز کیا ہے، جس کے تحت ۲؍ہزار سے زائد کی بعض یوپی آئی مرچنٹ (دکاندار) ادائیگیوں پرمرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر )(Merchant Discount Rate ) دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

UPI Payment.Photo:INN
یوپی آئی پےمنٹ ۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی حکومت نے ڈجیٹل ادائیگی کے نظام کو زیادہ پائیدار بنانے کے لیے ایک نیا قانونی فریم ورک تجویز کیا ہے، جس کے تحت ۲؍ہزار سے زائد کی بعض یوپی آئی  مرچنٹ (دکاندار) ادائیگیوں پرمرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر )(Merchant Discount Rate ) دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ تجویز ابھی زیرِ غور ہے اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:جعفر جیکسن ول اسمتھ کے ساتھ ایکشن تھرلر ’سپر میکس‘ میں نظرآئیں گے


مجوزہ منصوبے کے مطابق عام صارفین (Person-to-Person)  کے درمیان ہونے والی یو پی آئی ٹرانزیکشنز بدستور مفت  رہیں گی۔ اگرایم ڈی آر  نافذ ہوتا بھی ہے تو اس کا اطلاق بنیادی طور پر  بڑے کاروباری اداروں (Merchants)  کو کی جانے والی ۲؍ہزارسے زائد کی ادائیگیوں پر ہوگا، نہ کہ عام صارفین پر۔ 
ذرائع کے مطابق حکومت  ۳ء۰؍ فیصد سے ۵ء۰؍ فیصد تک ایم ڈی آر لاگو کرنے کے مختلف ماڈلز پر غور کر رہی ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ یہ فیس صرف ان بڑے تاجروں پر نافذ ہو جن کا سالانہ کاروبار تقریباً ۵ء۱؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ  ہو جبکہ چھوٹے کاروباروں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جا سکتا ہے۔ 
حکومت اور ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ یو پی آئی  نیٹ ورک کی تیز رفتار توسیع، سائبر سیکوریٹی ، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے اخراجات کو دیکھتے ہوئے ادائیگی کے نظام کے لیے ایک پائیدار مالی ماڈل ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایم ڈی آر کی واپسی پر غور کیا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:دبئی میں مقیم ہندوستانی طالبہ عرب امارات کی جانب سے سیٹیلائٹ لانچنگ کیلئے منتخب


اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو بینکوں، فِن ٹیک کمپنیوں اور ادائیگی فراہم کرنے والے اداروں کو آمدنی کا نیا ذریعہ مل سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض تاجر اپنی اضافی لاگت بالواسطہ طور پر اشیا یا خدمات کی قیمتوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ فی الحال یہ صرف ایک مجوزہ قانون ہے اور اس کی حتمی منظوری اور نفاذ کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK