Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمل ناڈو: وجئے کی کامیابی کے بعد ادارکار راگھوا لارینس کا سیاست میں قدم رکھنے پرغور

Updated: June 12, 2026, 6:16 PM IST | Chennai

تمل ناڈو میں وجئے کی کامیابی کے بعد ادارکار راگھوا لارنس بھی سیاست میں قدم رکھنے پر غور کر رہے ہیں، ایک ۱۸؍ منٹ کی ویڈیو میں لارنس نے سیاست کے بارے میں اپنی سمجھ، اپنی والدہ کے سیاسی نقطہ نظر، اور معروف اداکاروں رجنی کانت اور وجے (موجودہ وزیراعلیٰ تمل ناڈو) کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق کچھ اہم اور دلچسپ واقعات پر بات کی۔

Raghava Lawrence . Photo: X
راگھوا لارنس۔ تصویر: ایکس

اداکار سے وزیراعلیٰ بنے جوزف وجے کی تمل ناڈو اسمبلی انتخاب میں زبردست کامیابی کے بعد، فلمی شخصیت راگھوا لارنس اب سیاست میں آنے پر غور کر رہے ہیں۔۴۹؍ سالہ لارنس اداکار اور کوریوگرافر کے طور پر جانے جاتے ہیں، انہوں نے فلموں کی ہدایت کاری اور پروڈکشن بھی کی ہے۔ ایک۱۸؍ منٹ کی ویڈیو میں لارنس نے سیاست کے بارے میں اپنی سمجھ، اپنی والدہ کے سیاسی نقطہ نظر، اور معروف اداکاروں رجنی کانت اور وجے (موجودہ وزیراعلیٰ تمل ناڈو) کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق کچھ اہم اور دلچسپ واقعات پر بات کی۔اگرچہ انہوں نے اپنی سیاسی شروعات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن لارنس نے اپنے مداحوں سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا تبصروں میں اپنی رائے اور مشورہ دیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر آپ ’نہیں‘ کہتے ہیں تو میں سیاست میں نہیں آؤں گا اور معاشرے کی خدمت جاری رکھوں گا۔ لیکن اگر آپ ’ہاں‘ کہتے ہیں تو میں سیاست میں آنے کے لیے تیار ہوں۔ میں بتاؤں گا کہ یہ سفر کب اور کن کے ساتھ شروع کروں گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پونے میں کاکروچ جنتا پارتی کا احتجاج، ابھیجیت دپکے کی نصیحت ’ سیاستداں ہندو مسلم کے بجائے روزگار ،مہنگائی اور تعلیم پر بات کریں۔‘‘

چنانچہ لارنس اس وقت سیاسی ہواؤں کو جانچ رہے ہیں جبکہ یہ قیاس آرائیاں عام ہیں کہ وہ تریچی ایسٹ حلقہ میں ضمنی انتخاب لڑ سکتے ہیں، یہ حلقہ وزیراعلیٰ وجے نے خالی کیا تھا جب انہوں نے چنئی کے پیرمبور حلقہ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وجے نے اپنے دونوں حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم تریچی ایسٹ میں انتخاب لڑنے کے امکان پر بات کرتے ہوئے، لارنس نے کہا کہ اس کے لیے انہیں پہلے سیاست میں آنا ہوگا۔ اپنے اس سے قبل سیاست میں آنے کے ارادے کو یاد کرتے ہوئے، لارنس نے بتایا کہ وہ اپنے سرپرست اداکار رجنی کانت کے سیاسی سفر سے متاثر تھے۔ لارنس نے کہا کہ یہ اس لیے نہ ہو سکا کیونکہ رجنی نے خود اپنا سیاسی سفر ختم کر دیا تھا۔ساتھ ہی لارنس نے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ سیاست کے خلاف تھیں، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ مذہبی اور ذات پات کی سیاست، ووٹ کے بدلے نقدی کا چلن ،کی وجہ سے سیاست باوقار پیشہ نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے بتایا کہ جب اداکار وجے قائم شدہ سیاسی حکومت اور ثقافت کو شکست دے کر تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ بنے تو والدہ کے سیاسی خیالات بدل گئے، جس نے انہیں سیاست میں آنے کی اجازت دی۔

یہ بھی پڑھئے: شتروگھن سنہا نے خاموشی توڑی، کہا ’’مشکل وقت میں ممتا کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا‘‘

علاوہ ازیں لارنس نے وجے کے ساتھ اپنی دوستی اور پیشہ ورانہ تعلقات کا بھی ذکر کیا، بتایا کہ انہوں نے وجے کے لیے ڈانس کوریوگرافر کے طور پر کام کیا اور اب بھی ان سے رابطے میں ہیں۔ خود کو کم پڑھا لکھا اور ان پڑھ قرار دیتے ہوئے، لارنس نے اپنے مداحوں سے پوچھا کہ کیا وہ سیاست میں آنے کے لیے اہل ہیں۔ اپنے ویڈیو خطاب میں انہوں نے بار بار نعرہ دہرایا، ’’اپنا فرض خلوص سے ادا کرو، بدلے میں کچھ مت چاہو۔‘‘لارنس نے کہا کہ ان کی والدہ نے سیاسی شروعات کی منظوری دے دی ہے اور اب وہ اپنے مداحوں کی رائے کے منتظر ہیں۔اس کے علاوہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا، ’’میرے حالات نے مجھے اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ مجھے سیاست میں آنا ہے۔‘‘ اس سے مزید قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ وہ ٹی وی کے (جسے ان کے دوست اور فلمی صنعت کے ساتھی وجے نے شروع کیا ہے) کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK