Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین ریزرویشن کے فوری نفاذ کیلئے ملک بھر میں کانگریس کی پریس کانفرنس

Updated: April 23, 2026, 10:42 AM IST | Agency | New Delhi

موجودہ پارلیمانی سیٹوں پرہی ریزریشن دینے کیلئے۱۰؍ لاکھ خواتین وزیراعظم کو پوسٹ کارڈ بھی بھیجیں گی، او بی سی خواتین کو بھی اس میں شامل کرنے کا مطالبہ۔

Congress Leader Alka Lamba Protesting For Reservation.Photo:PTI
کانگریس لیڈر الکا لامبا ریزرویشن کیلئے احتجاج کرتے ہوئے- تصویر:پی ٹی آئی
کانگریس نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر مودی حکومت کے خلاف ملک گیر مہم چھیڑتے ہوئے بدھ کو ۲۶؍ شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنسیں کیں اور الزام لگایا کہ حکومت اس قانون کی آڑ میں حد بندی کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔ پارٹی نے  پارلیمنٹ کی موجودہ ۵۴۳؍ نشستوں پر ہی ۳۳؍ فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے بدھ کو مودی حکومت کو اسی کے کھیل میں مات دینے کی کوشش کی ۔ 
 
 
اس سلسلے میں مہیلا کانگریس نے بدھ کو ‘پوسٹ کارڈ مہم’ کا بھی آغاز کیا، جس کے تحت۱۰؍ لاکھ خواتین کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے پتے پر پوسٹ کارڈ بھیجنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا، کانگریس کے درج فہرست  ذات وقبائل سے متعلق محکمہ کے سربراہ راجندر پال گوتم اور او بی سی محکمہ کے صدر انل جئے ہند نے  اس مہم کا آغاز کیا۔ الکا لامبا نے کہا کہ یہ پوسٹ کارڈ خواتین وزیر اعظم کی سرکاری رہائش، ۷؍ لوک کلیان مارگ’ پر بھیجیں گی اور ‘ناری شکتی وندن ایکٹ ۲۳ء ‘کو فوری نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں ایس سی، ایس ٹی کے علاوہ او بی سی خواتین کیلئے علیحدہ ریزرویشن کی شق شامل کرنے کا مطالبہ کریں گی۔
 
 
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ’’ہماری مانگ ہے کہ لوک سبھا کی  موجودہ ۵۴۳؍ نشستوں پر خواتین ریزرویشن فوراً نافذ کیا جائے، او بی سی طبقے کی خواتین کو بھی اس میں شامل کیا جائے، ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے اور اسی بنیاد پر حلقہ بندی کی جائے۔‘‘آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر نے کہا کہ ان کی تنظیم کی یہ مہم مئی اور جون کے مہینوں میں جاری رہے گی۔الکا لامبا نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کا آئندہ مانسون اجلاس  میں یا خصوصی اجلاس بلا کر خواتین ریزرویشن کو نافذ کر سکتی ہے۔  حکومت خواتین ریزرویشن کو سال۲۰۲۹ء سے نافذ کرنے سے متعلق ایک آئینی ترمیمی بل گزشتہ بجٹ اجلاس میں پارلیمنٹ میں پیش کر چکی ہے، تاہم یہ منظور نہیں ہو سکا۔ اپوزیشن نے یہ کہتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر حلقہ بندی مسلط کی جا رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK