’ کانگریس اصل ہندوستان کی بازیابی کیلئے کوشاں ہے‘

Updated: May 22, 2022, 10:33 AM IST | London

لندن کی مشہور کیمبرج یونیورسٹی میں راہل گاندھی کا خطاب ، زعفرانی پارٹی سے مقابلے کو نظریاتی جنگ قرار دیا، ملک کے حالات کا موازنہ بحران زدہ سری لنکا سے کیا

Former Congress President Rahul Gandhi has openly expressed his views on many issues facing the country.
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ملک کو درپیش کئی مسائل پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔(پی ٹی آئی )

کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق صدر راہل گاندھی ’آئیڈیاز فا ر انڈیا‘ کانفرنس میں شرکت کیلئے لندن کی مشہور اور باوقار  کیمبرج یونیورسٹی پہنچے ہیں۔اس کانفرنس میں انہوں نے مذاکرہ میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی پر شدید تنقیدیں کیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس’ پہلے جیسا‘ ہندوستان حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے جبکہ بی جے پی اور اس کے لیڈران  عوام کی  آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس مذاکرہ میں ملک کو درپیش کئی اہم موضوعات پر گفتگو کی اور کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہکیمبرج یونیورسٹی میں ہونے والی اس کانفرنس میں راہل گاندھی کے علاوہ سیتارام یچوری، سلمان خورشید، تیجسوی یادو، مہوا موئترا اور منوج جھا سمیت حزب اختلاف کے متعدد لیڈران بھی شریک ہوئے۔
کیروسین کا حوالہ دیا 
 راہل گاندھی نے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت میں روزگار میں کمی آئی ہے، اس کے باوجود  وہ  پولرائزیشن کی وجہ سے اقتدار میں ہے۔ آج ہندوستان کی حالت سماجی طور پر اچھی نہیں ہے۔ بی جے پی نے چاروں طرف ’کیروسین‘ چھڑک رکھا ہے۔ صر ف ایک چنگاری بھڑکانے کی دیر ہے ، پورا ملک جل اٹھے گا۔ اس وقت ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک عرصہ پہلے پاکستان میں بھی ہوا اور حال ہی میں سری لنکا میں بھی دہرایا گیا ۔ اسی لئے میں کیروسین کا حوالہ دے رہا ہوں کہ بی جے پی نے  اسے جگہ جگہ چھڑک دیا ہے اور چنگاری لگانے کو تیار بیٹھی ہے۔
چین کے معاملہ  پر تنقید
  راہل گاندھی نے چین کے حوالہ سے  مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ لداخ میں یوکرین جیسی صورتحال ہے، وہاں چین مسلسل تعمیرات کررہا ہے لیکن سرکار کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے بلکہ مودی جی تو چین کا نام لینے تک سے ڈرتے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال رہی تو بہت ممکن ہے کہ چین  اس پورے علاقے پر قبضہ کرلے اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھری رہ جائے۔
سرکاری اداروں کی بات کی 
   راہل گاندھی  نے  سرکاری اداروں کو متاثر کرنے کی مودی سرکار کی کوششوں پر کہا کہ ہندوستان دیکھ رہا ہے کہ اُن اداروں پر حملے ہو رہے ہیں جنہوں نے ملک تعمیر کیا۔ ان اداروں پر اب ’ڈیپ اسٹیٹ(شدت پسند نظریات)‘ کا قبضہ ہے۔ اسی لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے اور اسے کانگریس پوری شدت سے لڑ رہی ہے۔ اس دوران راہل گاندھی نے دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ پارٹیاں بھی کانگریس کا بھرپور ساتھ دے رہی ہیں۔ ان کی وجہ سے ہی ملک اور اس کا اتحاد برقرار ہے۔ 
بی جے پی کے نظریےکو نشانہ بنایا
  راہل گاندھی کے مطابق بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوستان کو ایک جغرافیائی خطے  کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسی تک محدود رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اسے ہی سب کچھ سمجھتے ہیں لیکن کانگریس کے  لئے ہندوستان لوگوں سے بنتا ہے۔ وہ لوگ جو ہندوستان بناتے ہیں وہ  گائوں میں رہتے ہیں، شہروں میں مزدوری کرتے ہیں، مہنگائی کے اس دور میں بھی پوری شدت سے ملک کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں۔
 پریشانیوں کا اعتراف 
  اس خطاب نما گفتگو کے دوران راہل گاندھی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ کانگریس اندرونی کشمکش، بغاوت اور انتخابات میں شکست سے نبردآزما ہے لیکن وہ اپنی حقیقت نہیں بھولی ہے۔ نظریات کے میدان میں اب بھی کانگریس ہی سرخیل ہے۔  دیگر پارٹیوں کے پاس وہ نظریاتی طاقت نہیں ہے جو کانگریس کے پاس ہے۔ راہل گاندھی نے یہاں یہ واضح کیا کہ وہ اس بیان کے ذریعے اپوز یشن کی دیگر پارٹیوں پر تنقید نہیں کررہے ہیں بلکہ یہ بتارہے ہیں کہ بی جے پی سے نظریات کی سطح پر براہ راست لڑائی کانگریس لڑ رہی ہے اور دیگر پارٹیاں اس کا ہر ممکن ساتھ دے رہی ہیں۔ 
امریکہ کا حوالہ دیا  
 راہل گاندھی سے جب کانفرنس کے میزبان نے جمہوریت کے بارے میں سوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب ہر ادارے پر حکومت کا قبضہ ہو چکا ہے۔ ہر ادارے پر حملہ ہو رہا ہے ایسے میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ امریکہ کی جانب سے  ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کو اٹھانے کے بارے میں راہل نے کہا کہ ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کب تک ریت میں سر  چھپائے گی، اسے حقیقت قبول کرنی پڑے گی۔ حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں پوری دنیا میں ہماری بدنامی کا سبب ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK